والدین کی اطاعت اور پسند کی شادی

سوال:

سوال یہ ہے کہ والدین کی اطاعت کس حد تک کی جائے؟بعض اوقات والدین کی بات ماننے کا دل نہیں چاہتا۔ والدین اگر پسند کی شادی کے خلاف ہوں تو کیا ان کے حکم پر اپنی پسند چھوڑ دینی چاہیے ؟


جواب:

دین کا اصل زور والدین کے ساتھ حسن سلوک پر ہے ۔قرآن کریم میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے حکم سے متصل والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے ۔مثلاً سورۂ بنی اسرائیل میں ارشا باری تعالیٰ ہے:

’’اور تیرے رب نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرو ور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔‘‘

تاہم والدین کے ساتھ حسن سلوک کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے ۔ اس اطاعت سے متعلق یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول کے کسی حکم کے خلاف والدین کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔البتہ نوافل و مستحبات کے معاملے میں والدین کے حکم کو ترجیح حاصل ہو گی۔

زندگی کے کسی عام معاملے والدین جب کوئی حکم دیں تو بہرحال دیکھنا چاہیے کہ علم و عقل اور معاشرے کا عرف اس معاملے میں کیا کہتا ہے ۔اگر یہ حکم ان چیزوں کے خلاف ہو تو والدین سے بات کرنی چاہیے ۔

آپ کے سوال میں دل نہ چاہنے کا ذکر ہے ۔دل نہ چاہنا والدین کی نافرمانی کا کوئی عذر نہیں ہے ۔ آپ کو سوچنا چاہیے کہ والدین نے کتنی دفعہ اپنا دل نہ چاہنے کے باوجود آپ کی خواہشات اورضرویات کو پورا کیا ہے ۔یہ شیطانی عمل ہے کہ سستی یا دل نہ چاہنے کی بنا پر والدین کی حکم عدولی کی جائے ۔

پسند کی شادی ہرمرد و زن کا حق ہے ۔یہ حق انسان کو مذہب ہی نے عطا کیا ہے ۔ لیکن مذہب کی عطا کردہ تعلیم ہی کا یہ بھی حصہ ہے کہ شادی کے موقع پر والدین اور سرپرستوں کی رضا مندی بھی حاصل ہو۔والدین اگر آپ کی پسند سے مطمئن نہ ہوں تو اس کی کچھ نہ کچھ وجوہا ت ہوں گی۔ وگرنہ عام حالات میں والدین بچوں کی خوشیوں کو عزیز رکھتے ہیں۔ ان وجوہات پر ان سے بات کر لیں ۔حتی الامکان ان کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔وہ راضی نہ ہوں تو قانون یہی ہے کہ شادی لڑ کے لڑ کی کی رضامندی سے منعقد ہوجاتی ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں جو لوگ والدین کو ساتھ لے کر چلتے ہیں ان کی زندگی خوشگوار گزرنے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔

یہ پوری گفتگو اطاعت کے حوالے سے تھی۔جہاں تک والدین کے حقوق اوران کی خدمت کا تعلق ہے تو یاد رکھنا چاہیے اس معاملے میں کوتاہی اللہ کی بارگاہ میں زبردست پکڑ کا سبب بن جائے گی۔ والدین کی خدمت کے معاملے میں تو دین فرض عبادات تک پر رعایت دینے کے لیے تیار ہوجاتا ہے ۔ مثلاً جس شخص کے والدین اس کی خدمت کے محتاج ہوں اور اس شخص کے سوا ان کی دیکھ بھال کرنے والاکوئی نہ ہو، اس کے لیے حج جیسی عظیم الشان عبادت کے لیے بھی جانا درست نہیں ۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author