واقعۂ غدیرخم اور ولایت علی

سوال:

غدیر خم کی روایت کی کیا حیثیت ہے اور اس کی بنا پر شیعہ حضرات اپنا جو موقف بیان کرتے اس کی کیا حقیقت ہے؟


جواب:

اس روایت کی اکثر اسناد ضعیف ہیں اور بعض حسن ہیں مثلاً ترمذی،رقم 3646 ، لیکن یہ بھی غریب روایت ہے۔ اس حدیث میں اصل بات یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ

 'مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیُّ مَوْلَاہُ'،

ان الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ جس کا میں حلیف، یعنی دوست اور ساتھی ہوں، اس کا علی بھی حلیف ہے۔ ان الفاظ میں آپ نے حضرت علی کے بارے میں اپنے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ علی کو مجھ سے محبت ہے اور وہ تعلق کے معاملے میں مجھ سے الگ ہو کر نہیں چلیں گے۔


شیعہ حضرات ان الفاظ کو سیاسی مفہوم دیتے ہیں، حالانکہ ان الفاظ کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ جن لوگوں کا آج میں امیر ہوں ، کل ان کا امیر علی ہو گا، کیونکہ ان الفاظ کے مطابق یہ ولایت دونوں میں بہ یک وقت موجود ہونی چاہیے، یعنی دونوں حضرات کو ایک ہی وقت میں یہ ولایت حاصل ہونی چاہیے۔ چنانچہ ظاہر ہے کہ یہ ولایت کسی صورت میں بھی سیاسی نہیں ہو سکتی،کیونکہ نظم اجتماعی میں لازماً ایک وقت میں ایک ہی امیر ہوتا ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author