وبائی امراض اور احادیث

سوال:

کیا وبائی مرض کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث ہے۔ میں نے سنا ہے کہ حضور نے فرمایا تھا۔ جو آدمی وبائی مرض کے علاقے میں ہو وہ اس علاقے کو نہ چھوڑے اور جو اس مرض سے فوت ہوگا وہ شہید ہوگا۔ اس حدیث کی صحت کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ اس ضمن میں کچھ اور احادیث ہیں تو ان سے بھی آگاہ کیجیے۔


جواب:

آپ نے جس حدیثکا حوالہ دیا ہے وہ طاعون کے مرض کے حوالے سے ہے۔ یہ روایت متعدد کتب حدیث میں آئیہے۔ میں یہاں بخاری سے ایک متن نقل کرتا ہوں:

عن سعد رضی اللهعنه عن النبی صلی الله عليه وسلم، قال: إذا سمعتم بالطاعون بأرض فلا تدخلوها وإذاوقع بأرض وأنتم بها فلا تخرجوا منهارقم:٥٣٩٦

حضرت سعد رضیاللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی علاقے میںطاعون کے بارے میں سنو تو اس میں نہ جاؤ اور اگر کسی علاقے میں طاعون پھیل جائے اورتم اس میں ہو تو اس سے نہ نکلو۔

اس حدیث کو بخاری اور مسلم دونوں کی تصحیححاصل ہے لہذا سند کے اعتبار سے یہ ایک قوی حدیث ہے۔ اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہوسلم کے کچھ اور ارشادات بھی کتب حدیث میں مروی ہیں ہم ان میں سے دو یہاں نقل کررہے ہیں۔ بخاری ہی میں ہے

عن أبی هريرة رضی الله عنه يقول: قال رسول اللهصلی الله عليه وسلم: لاعدوی، ولاطيره، ولاهامه ولاصفر٠ وفر من المجذوم کما تفر منالأسد٠رقم:٥٣٨٠

حضرتابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہمتعدی بیماری سے بیماری ہوتی ہے۔ نہ بدفال کوئی چیز ہے۔نہ مقتول کی روح پیاسا پرندہبنتی ہے اور نہ پیٹ میں بھوک لگانے کا کوئی جانور ہے۔ مجذوم سے ایسے بھاگو جیسے شیرسے بھاگتے ہو۔

مسلم میں اس روایت کی پہلی بات پر ایک سوال اور آپ کا جواببھی نقل ہوا ہے:

فقال أعرابی: يا رسول الله، فما بال الإبل تکون فیالرمل کأنها الظبائ٠ فيجيئ البعير الأجرب٠ فيدخل فيها٠ فيجربها کلها٠ قال: من أعدیالأول٠(رقم:٢٢٢٠)

(آپ کی بات سن کر ) ایک بدو نے پوچھا:ان اونٹوں کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے جو صحرا میں بالکل ہرنوں کی صاف ہوتے ہیں۔ پھر ایک خارش زدہ اونٹآتا ہے اور ان میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس طرح سب کو خارش زدہ کر دیتا ہے۔ آپ نے کہا: یہ بتاؤ: پہلے کو کس نے خارش لگائی تھی۔

اس سوال جواب سے معلوم ہوتا ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ متعدی بیماری بھی اللہ ہیکے اذن سے کسی کو لگتی ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author