ولادتِ مسیح علیہ السلام

سوال:

میں آپ سے حضرت عیسی کی پیدائش کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں نیاز فتح پوری صاحب نے جو بیان دیا ہے اس کو سامنے رکھ کر جواب دیجیے، کیا ان کا بیان صحیح ہے یا غلط؟ ان کا کہنا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش معجزہ نہیں بلکہ ایک عام واقعہ ہے۔ حضرت مریم یوسف نجار کی بیوی تھی۔ ان كے دلائل درج ذيل ہيں:

١۔ لفظ احصنت حضرت مریم کے لیے استعمال کیا گیا ہے، اس کا مطلب ہے کو وہ شادی شدہ تھيں۔

٢۔ قرآن كے مطابق حضرت عیسی نے حضرت مریم کی گود میں بات کی۔ اس ميں انہوں نے اپنی نبوت کا دعوٰی کیا بجائے اس كے كہ وہ حضرت مریم كو ان پر لگائے گئے الزام سے بری كرتے ہوئے صورت واقعہ كی وضاحت كرتے۔


جواب:

دور جدید میں کچھ لوگوں نےسیدنا مسیح کی بن باپ ولادت کا انکار کیا ہے۔اس کے انکار میں انھوں نے کچھ دلائل دیے ہیں ،ان میں سے کچھ اہم دلائل کا ہم یہاں جائزہ لیں گے اور اس کے بعد قرآن کا صحیح نقطہ نظر بیان کریں گے۔

پہلی دلیل کا جـائزہ

ان لوگوں کی ایک دلیل یہ ہے کہ سیدہ مریم کےلیے قرآن مجید نے أحصنت کا لفظ اختیار کیا ہے۔ جس کے معنی شادی شدہ ہونے کے ہیں۔یہ بات غلط ہے۔ اللہ تعالی نے نے پورے قرآن مجید میں سیدہ مریم کے لیے یہ لفظ یوں استعمال نہیں کیا ، جیسا یہ لوگ کہہ رہے ہیں۔قرآن مجید نے دو جگہ (الانبیاء 21 :91، التحریم 66: 12)یہ لفظ استعمال کیا ہے تو دونوں جگہ أَحْصَنَتْ فَرْجَهَاکہا ہے۔أَحْصَنَتْ فَرْجَهَاکے معنی ہیں: ‘‘مریم نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی’’۔یعنی وہ پاک دامن رہیں۔ سیدہ مریم کے لیے جس طرح یہ لفظ قرآن مجید میں آیا ہے، اس کے معنی شادی شدہ کے نہیں ہوتے۔ قرآن مجید میں ان دونوں جگہ أَحْصَنَتْاستعمال ہوا ہے، جس کے معنی ہیں اس نے بچایا ، اس نے حفاظت کی۔ شادی کے معنی پیدا کرنے کے لیے اس کا فعلِ مجہول (passive tense)ہونا ضروری ہے۔ اس صورت میں اس کے اعراب یوں ہوتے: أُحْصِنَتْیعنی ‘‘جو شادی کے حصار اور پناہ میں پاک دامن رکھی گئی’’۔ اور اس کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ اس کے بعد فَرْجُهَانہ آتا ، کیونکہ اس کے آتے ہی مفہوم پھر بدل جاتا، اس کے معنی پھر شادی شدہ کے نہ رہتے بلکہ وہی ہو جاتے جو پہلے کے ہیں ، یعنی جس کی شرم گاہ کی حفاظت کی گئی۔

اسی لیے پور ے قرآن مجید میں شادی شدہ کے لیے مُحْصَنَاتص پر زبر کے ساتھ استعمال ہوا ہے نہ کہ ص کے زیر کے ساتھ۔زبر کے ساتھ یہ اسم مفعول بنتا ہے ، جس کے معنی وفعل مجہول جیسے ہیں، یعنی جو شادی کے حصار میں پاک دامن رکھی گئیں۔ اس لیے یہ بات غلط ہے کہ سیدہ مریم کے وہ لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی شادی شدہ کے ہیں۔

دوسری دلیل کا جـائزہ

ان لوگوں کی دوسری اہم دلیل یہ ہے کہ حضرت عیسی نے گود میں صرف یہ بات کہی کہ وہ نبی ہیں یہ نہیں کہا کہ میں بن باپ کے پیدا ہوا ہوں۔دیکھیے یہ دلیل بھی غلط ہے۔اس لیے کہ حضرت عیسی نے جس سوال کے جواب میں کلام کیا ہے وہ یہ نہیں تھا کہ یہ بچہ کون ہے بلکہ وہ سوال یہ تھا کہ اے مریم یہ بچہ کہاں سے ہوا، نہ تیری ماں بدکارتھی اور نہ تیرا باپ ؟ اس کے جواب میں سیدہ مریم نے حضرت عیسی کی طرف اشارہ کیا۔ تو جب انھوں یہ بتا یا کہ میں اللہ کا نبی ہوں تو ان کا بولنا اور اعلان نبوت کرنا اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ یہ سب معجزانہ طور پر ہوا ہے اس میں مریم بے قصور ہیں۔اس مکالمے میں انھوں نے کہا کہ مجھے میں اپنی والدہ کے ساتھ نیک سلوک کرنے حکم ملا ہے۔ انھوں نے والدین کا نہیں صرف والدہ کا ذکر کیا ہے۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے صرف والدہ تھیں والد نہیں تھے۔قرآن میں یہ مکالمہ یوں آیا ہے:

يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَن كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّاقَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّاوَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّاوَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا (مريم 28۔ 33)

اے ہارون کی بہن(حضرت مریم کا لقب) نہ تو تیرا باپ ہی بداطوار آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی!! تو مریم نے اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ بولے کہ ہم اس سے جو گود کا بچہ ہے کیونکر بات کریں؟بچے نے کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔ اور میں جہاں ہوں (اور جس حال میں ہوں) مجھے صاحب برکت کیا ہے اور جب تک زندہ ہوں مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کا ارشاد فرمایا ہے اور (مجھے) اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش وبدبخت نہیں بنایا اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام (ورحمت)ہے۔

اس مکالمے میں نوٹ کرنے کی باتیں یہ ہیں کہ بدکاری کی تردید کے لیے سیدنا عیسیٰ کو جواب کے لیے کہا گیا ہے، نبوت کے اعلان کے لیے نہیں۔اور دوسری بات یہ کہ مکالمے کے اختتام پر سیدنا مسیح نے یہ الفاظ بولے ہیں کہ میں ماں کے ساتھ حسن سلوک کروں گا، اگر ان کا کوئی باپ تھا تو انھوں نے والدین کیوں نہیں کہا؟ان کے کلام میں یہ جملہ صرف ماں کے ذکر کے ساتھ ہے جو یہ واضح کرتا ہے کہ وہ بن باپ کے پیدا ہوئے۔ یہ بات نوٹ رکھیے کہ اسی سورہ مریم میں جہاں حضرت عیسی کی گود میں گفتگو نقل ہوئی ہے ، وہیں اسی سورہ کی12 سے 15ویں آیت میں سیدنا یحی کی معجزانہ ولادت کا ذکر ہواتو اس میں والدین کا ذکر ہوا ہے، صرف ماں کا نہیں۔ وہ آیات یہ ہیں:

يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّاوَحَنَانًا مِّن لَّدُنَّا وَزَكَاةً وَكَانَ تَقِيًّا وَبَرًّا بِوَالِدَيْهِ وَلَمْ يَكُن جَبَّارًا عَصِيًّا وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا (مريم 12۔ 15)

اے یحییٰ (ہماری) کتاب کو زور سے پکڑے رہو۔ اور ہم نے ان کو لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی تھی۔ اور اپنے پاس شفقت اور پاکیزگی دی تھی۔ اور پرہیزگار تھے۔ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے اور سرکش اور نافرمان نہیں تھے۔

ان دونوں مقامات پر باقی چیزوں میں حیرت انگیز مشابہت ہے، لیکن ایک نبی (حضرت یحی)کے لیے حسن سلوک میں دونوں والدین کا ذکرکیا گیا ، اور دوسرے (عیسیٰ علیہ السلام)کے لیے صرف ماں کا؟ آخر اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے کہ سیدنا مسیح کے والد تھے ہی نہیں۔ اس تفصیل سے واضح ہو گیا ہو کہ یہ دلیل بھی نہایت کمزور ہے۔

تیسری دلیل کا جـائزہ

تیسری دلیل ہےوَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًایعنی تم اللہ کی سنت میں تبدیلی نہ پاؤ گے۔اس سنت سے ان لوگوں نے کائنات میں چلتے ہوئے اصول (physical laws)مراد لے لیے ہیں۔ انھی میں سے ایک اصول انسانوں اور جانوروں کو پیدا کرنے کاہے کہ مرد و عورت ملتے ہیں تو اولادہوتی ہے۔ اب اگر ہم حضرت عیسیٰ کی ولادت بن باپ کو مان لیں تو اللہ کی سنت تو تبدیل ہو گئی۔

یہ سنة الله کے غلط معنی ہیں۔ اللہ تعالی نے سنت اللہ کو کہیں بھی یوں بیان نہیں کیا ہے۔ سنت اللہ سے قرآن مجید کی مراد یہ ہے کہ رسولوں کے آنے کے بعد انکار کرنے والوں پر اللہ کا عذاب آیا کرتا ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور اس میں کبھی تبدیلی نہیں ہوئی۔ مثلا سورہ احزاب میں دیکھیے کہ یہ سنت کیسے بیان ہوئی ہے:

مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا سُنَّةَ اللهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا(33: 61۔62)

یہ ملعون ہیں(پھٹکار کے عذاب میں ہیں)۔ جہاں پائے گئے پکڑے جائیں گےاور جان سے مار ڈالے جائیں گئے، جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی اللہ کی یہی سنت رہی ہے۔ اور تم اللہ کی سنت میں تغیر وتبدل نہ پاؤ گے۔

یہ آیت یہ بتا رہی ہے کہ لعنت اور برے طریقے سے موت کا عذاب دینے کا جو رسول کے انکار کرنے والی قوموں کے بارے میں اللہ کا طریقہ رہا ہے وہی قریش کے ساتھ ہو گا اگر انھوں نے کفر و عناد کو نہ چھوڑا، تو اس قانون تمھارے لیے کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی بلکہ اللہ کی یہ سنت جاری ہو کر رہی گی۔

قرآن ِمجید میں ولادت ِمسیح کا بیان

یہ تو ان کے چند اہم دلائل تھے، جن کا ہم نے جائزہ لیا۔اب ہم ذیل میں ان باتوں کا ذکر کرتے ہیں ، جو واضح طور پر بتاتی ہیں کہ سیدنا مسیح کی ولادت مریم علیہا السلام کے بطن سے انسانوں میں سے کسی مردکے چھوئے بغیر ہوئی ہے۔یوسف نجار نامی شخص ولادت ِمسیح تک سیدنا مریم سے دور تھا۔ ولادت کے بعد کیا ہوا ،اسے قرآن بیان نہیں کرتا۔سورہ ٔمریم اس راز سے پردہ اٹھاتی ہے کہ عیسی علیہ السلام کیسے پیدا ہوئے:

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا (16)

اور کتاب (قرآن) میں مریم کا بھی مذکور کرو، جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرق میں ایک جگہ چلی گئیں۔

فَاتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا (17)

تو انہوں نے ان کی طرف سے پردہ کرلیا۔ (اس وقت) ہم نے ان کی طرف اپنا فرشتہ بھیجا۔ تو ان کے سامنے ٹھیک ٹھیک آدمی (کی شکل) میں ظاہر ہوا۔

قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَن مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيًّا (18)

مریم بولیں کہ اگر تم پرہیزگار ہو تو میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔

قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا (19)

انہوں نے کہا کہ میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا (یعنی فرشتہ) ہوں (اور اس لئے آیا ہوں) کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا عطا کروں۔

قَالَتْ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا (20)

مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں۔

قَالَ كَذَلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيًّا (21)

(فرشتے نے) کہا کہ یونہی (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا کہ یہ میرے لیے آسان ہے۔ اور (میں اسے اسی طریقے پر پیدا کروں گا) تاکہ اس کو لوگوں کے لئے اپنی طرف سے نشانی اور رحمت بناؤں اور اس کام کا فیصلہ ہوچکا ہے۔

فَحَمَلَتْهُ فَانتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا (22)

تو وہ اس (حمل)سے حاملہ ہوگئیں اور اس حمل کولے کر ایک دور جگہ چلی گئیں۔

آیت 17 بتا رہی ہے کہ ایک فرشتہ(رُوْحَنَا) انسانی روپ دھار کر سیدہ مریم کے پاس آیا۔

آیت 18 بتارہی کہ انسان نما اس فرشتے کو دیکھ کر سیدہ مریم ڈریں کہ یہ شاید برے ارادے سے آیا ہے۔اس لیے انھوں نے نیکی کا واسطہ دے کر اس کےمقابل میں اللہ کی پناہ مانگی۔

آیت 19 بتاتی ہے کہ اس فرشتے نے کہا کہ میں آپ کو بیٹا عطا کرنے آیا ہوں۔

آیت 20 بتاتی ہے کہ سیدہ مریم کی ابھی شادی نہیں ہوئی اس لیے انھوں نے کہا کہ بیٹا کیسے ہو گا جبکہ کسی مرد نے تو مجھے چھوا تک نہیں! اور میں نے کوئی بدکاری بھی نہیں کی۔

آیت 21 بتاتی ہے کہ فرشتے نے کہا کہ بیٹا ایسے ہی ہو جائے گا اور اللہ تعالی کہتے ہیں کہ یہ میرے لیے نہایت آسان ہے۔ اور یہ کہ ان کی اس طرح کی پیدایش دراصل اللہ کی نشانی ہے، یعنی معجزہ ہے۔

آیت 22 بتاتی ہے کہ اس فرشتے کے کسی روحانی عمل کے ذریعے سے سیدہ مریم بچے کے حمل سے حاملہ ہو گئیں۔ اس کے بعد والی آیات بھی سورہ مریم میں دیکھ لیجیے کہ ولادت کی تفصیلات تک اللہ تعالی نے بتائی ہیں۔

سو یہ مقام واضح کرتا ہے کہ سیدنا عیسی کی ولادت فرشتے کے عطا کرنے سے ہوئی ہے شوہر کے تعلق سے نہیں۔

اس مقام کے حوالہ دینے کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں رہتی، لیکن چند باتیں اور بھی ملحوظ خاطر رہیں:

1۔ قرآن کے اپنے طریقے کے خلاف حضرت عیسی واحد شخص ہیں ، جن کا نام والد کے بجائے صرف ماں کے نام کے ساتھ آیا ہے۔ یعنی عیسیٰ بن مریم :مریم کا بیٹا عیسی۔ جبکہ صورت یہ ہے کہ قرآن کے زمانہ نزول میں حضرت عیسی کو اللہ کا بیٹا مانا ہی اس لیے جاتا تھا کہ ان کا کوئی باپ نہ تھا تو قرآن مجید کو اس بات کی وضاحت کے لیے پوری سورہ مریم اور سورہ آل عمران نازل کرنے کی بجائے ، بس اتنی بات کہیں کہہ دیتا کہ لوگوں کو غلطی لگی ہے ،حضرت عیسی تو یوسف نجارکے بیٹے ہیں۔ لیکن سارا قرآن اس سے خالی ہے۔ ایک جگہ بھی عیسی بن یوسف نہیں آیا۔

سیدہ مریم نے بھی لوگوں کے بدکاری کے الزام والے سوال کے جواب میں یہ کہنے کے بجائے کہ اس گود میں پڑے بچے سے پوچھو، وہ کہہ دیتیں کہ میرے شوہر سے پوچھو۔ اور اصل بات یہ ہے کہ لوگوں کے دل میں یہ سوال ہی کیوں پیدا ہوا، اگر ان کی شادی ہو چکی تھی؟ یہ بات بھی واضح کرتی ہے حضرت مریم ولادت کے دن تک غیر شادی شدہ تھیں۔

2۔ ایک اور بات کہ جس کا اوپر بھی ذکر گزرا ہے کہ حضرت مسیح نے اپنی تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے والدین سے حسن سلوک کے بجائے یہ کہا ہے کہ مجھے والدہ سے حسن سلوک کا حکم ہوا ہے، اس لیے کہ ان کے والد ہی نہیں تھے۔

3۔سورہ آل عمران میں سیدنا مسیح کو کلمة الله کہاگیا ہے۔ پھر اسی سورہ میں اس کی وضاحت یہ کی گئی ہے کہ کلمہ کن سے پیدا ہو ں گے:

إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ (45)

(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب فرشتوں نے (مریم سے کہا) کہ مریم اللہ تم کو اپنے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا (اور) جو دنیا اور آخرت میں باآبرو اور (اللہ کے) خاصوں میں سے ہوگا۔

وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلاً وَمِنَ الصَّالِحِينَ (46)

اور ماں کی گود میں اور بڑی عمر کا ہو کر (دونوں حالتوں میں) لوگوں سے (یکساں) گفتگو کرے گا اور نیکو کاروں میں ہوگا۔

قَالَتْ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ قَالَ كَذَلِكِ اللهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاء إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ (47)

مریم نے کہا پروردگار میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا کہ کسی انسان نے مجھے ہاتھ تک تو لگایا نہیں فرمایا کہ اللہ اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے۔

آیت 45 میں دیکھیے کہ اللہ تعالی نے سیدنا مسیح کوکلمة منه کہا ہے اور 47 ویں آیت میں اس کی وضاحت فرماتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت عیسی عام بچوں کی طرح ماں باپ کے ملاپ سے پیدا نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کے کلمہ کن سے پیدا ہوں گے۔ یہ حضرت مریم کے سوال کا جواب تھا کہ مجھے کسی مرد نے چھوا تک نہیں تو میرے ہاں اولاد کیسے ہو گی۔ تو اگر عیسی یوسف نجار کے بیٹے تھے تو اللہ تعالی اتنی بڑی بات کہنے کے بجائے بس یہ کہتے کہ تیری شادی یوسف سے کرادوں گا۔لیکن یہاں جواب شادی کرانے والا نہیں دیا گیا۔ بلکہ تخلیق کا وہ طریقہ اختیار کیا گیا جو آدم علیہ السلام کے لیے اختیار کیا گیا اس لیے کہ ان کے تونہ ماں تھی اور نہ باپ۔ اس لیے پھر اس بات کو اسی آل عمران ہی میں واضح کردیا، تاکہ بات پوری طرح واضح ہو جائے کہ ولادت مسیح بن باپ کے ہوئی ہے:

إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ (59)

عیسیٰ کا حال اللہ کے نزدیک آدم کا سا ہے کہ اس نے (آدم کو) مٹی سے بنایا پھر فرمایا کہ ہو جا تو وہ ہو گئے۔

سورہ النساء میں اس بات کا مکمل خلاصہ کردیا گیا ہے:

يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لاَ تَغْلُواْ فِي دِينِكُمْ وَلاَ تَقُولُواْ عَلَى اللهِ إِلاَّ الْحَقِّ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ فَآمِنُواْ بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَلاَ تَقُولُواْ ثَلاَثَةٌ انتَهُواْ خَيْرًا لَّكُمْ إِنَّمَا اللهُ إِلَـهٌ وَاحِدٌ سُبْحَانَهُ أَن يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَات وَمَا فِي الأَرْضِ وَكَفَى بِاللهِ وَكِيلاً (71)

اے اہل کتاب اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (نہ اللہ تھے نہ اللہ کے بیٹے بلکہ) اللہ کے رسول اور اس کا کلمہٴ تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کے ایک روح تھے تو اللہ اوراس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور (یہ) نہ کہو (کہ اللہ) تین (ہیں۔ اس اعتقاد سے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اللہ ہی معبود واحد ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور اللہ ہی کارساز کافی ہے

یہاں دیکھیے پورے زور سے یہ بات واضح کی جارہی کہ ہے جو سیدنا مسیح نہ الہ ہیں نہ اللہ کے بیٹے، بلکہ وہ اللہ کا ایک کلمہ تھے ، جو مریم کی طرف بھیجا گیا اور ایک رسول تھے اور اللہ کے ایک رُوحٌ تھے۔ رسول کے سوا باقی دونوں چیزیں ان کی ولادت کے خاص پہلو کی طرف اشارہ کررہی ہیں۔

4۔سورہ النساء میں سیدہ مریم پر ایک یہود کے بہتان اور الزام کا ذکر ہے۔ اگر حضرت عیسی شادی کے بعد پیدا ہوئے تھے تو اس بہتان کے کیا معنی ہیں:

وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا (156)

اور ان کے کفر کے سبب اور مریم پر ایک بہتان عظیم باندھنے کے سبب۔

5۔ المائدہ کی 75 ویں آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ جضرت مسیح الہ نہیں تھے نہ ان کی والدہ الہ تھیں۔ تو اللہ تعالی نے وہاں پھر ماں بیٹے ہی کا ذکر کیا ہے، حالانکہ یہ نہایت مناسب جگہ تھی کہ اللہ تعالی کہتے کہ مریم یوسف کی بیوی تھی اور عیسی یوسف اور مریم کے بیٹے تھے:

مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ كَانَا يَأْكُلاَنِ الطَّعَامَ انظُرْ كَيْفَ ُبَيِّنُ لَهُمُ الآيَاتِ ثُمَّ انظُرْ أَنَّى يُؤْفَكُونَ (75)

مسیح ابن مریم تو صرف (اللہ) کے پیغمبر تھے ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے اور ان کی والدہ (مریم اللہ کی) ولی اور سچی فرمانبردار تھیں دونوں (انسان تھے اور) کھانا کھاتے تھے دیکھو ہم ان لوگوں کے لیے اپنی آیتیں کس طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں پھر (یہ) دیکھو کہ یہ کدھر الٹے جا رہے ہیں۔

یہ سب مقامات اس قدر واضح ہیں کہ سیدنا مسیح حضرت صرف حضرت مریم کے بیٹے ہیں اور ان کے حمل اللہ کے کلمہ کن سے ٹھہرا تھا۔ ہم قرآن کے ان مقامات کی روشنی میں دو ٹوک الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسی کا کوئی باپ نہیں ہے۔

answered by: Sajid Hameed

About the Author

Sajid Hameed


Sajid Shahbaz Khan who writes under his pen name; Sajid Hameed was born on the 10th of October 1965, in Pakpattan, then a small town in Sahiwal, Punjab, Pakistan. Mr.Khan works as the head of the Education Department at Al-Mawrid. His academic endeavors include working as the head of The Department of Islamic and Religious Studies at the University of Central Punjab in Lahore. Having achieved two Master’s degrees: MA Urdu and MA Islamic Studies, he is currently enrolled as a PhD scholar at UMT, Lahore, dissertating on “Muslim Epistemology”.  His MS (MPhil) was on Islamic Jurisprudence with a thesis on “The Probable and Definitive Signification of Text in Islamic Jurisprudence”. Alongside this, he has designed a large number of courses for graduate, undergraduate and younger students. 

Mr.Khan studied the Holy Qur’an from Mr.Muhammad Sabiq, a Deobandi scholar. He gained knowledge of the Hadith through the Muwatta of Imam Malik and through Nuzhah al-Fikr, a famous work on Hadith criticism under Hafiz Ata ur Rehman: an erudite Hadith scholar. He has remained a student of advanced studies in religious disciplines under Mr. Javed Ahmad Ghamidi since 1987, granting him a deep understanding of the Qur’an, Hadith, Arabic literature and other religious disciplines.

Mr.Khan’s teaching career is highlighted by the prestigious colleges and universities of Lahore that he has taught at. Arabic language and rhetoric, Islamic Law and Jurisprudence, Urdu language, Quran, Hadith, and Muslim Philosophy are his primary subjects. Coupled with his academic and professional accolades are appearances on several televised talk shows and being the author of various religious books and research articles.