وتر نماز پڑھنے کا طریقہ

سوال:

وتر پڑھنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟


جواب:

وتر کی نماز کی رکعات لازماً طاق ہوتی ہیں۔ اس کی ادائیگی کا بہترین وقت تہجد ہی کا وقت ہوتا ہے۔پڑھنے کا طریقہ کوئی خاص مختلف نہیں ہے۔ آپ تہجد کے نوافل چار، چھ، آٹھ جتنے بھی پڑھنا چاہتے ہیں، وہ پڑھیں۔ اس کے بعد وتر کی ایک،تین یا جتنی طاق رکعتیں بھی آپ پڑھنا چاہیں، وہ عام طریقے سے پڑھیں، سوائے اس کے کہ آخری رکعت میں سورۂ فاتحہ اور قرآن کی آیات کی تلاوت کے بعد تکبیر کہہ کر دوبارہ ہاتھ باندھیں اور دعاے قنوت پڑھیں، پھر رکوع میں چلے جائیں اور عام طریقے سے نماز کو مکمل کریں۔ وتر کے طریقے میں اگر آپ کو اختلاف نظر آئے (مثلاً اہل حدیث کے ہاں) تو اس سے پریشان نہ ہوں، کیونکہ ایسا نہیں کہ اس کا صرف ایک ہی طریقہ ہے، بلکہ یہ نماز مختلف طریقوں سے پڑھی جا سکتی ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author