وجود باری کا اثبات

سوال:

کسی دہریے کو ہم یہ کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ خدا موجود ہے؟


جواب:

اصل سوال یہ نہیں کہ خدا کا وجود ثابت کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ خدا کے وجود کا انکار کیسے ممکن ہے۔ انکار کرنے والوں کے ذہن میں عموماً اس کا جواب یہ آتا ہے کہ چونکہ وہ حواس خمسہ کی گرفت میں نہیں آتا، اس لیے وہ موجود ہی نہیں ہو گا، لیکن ان کی یہ بات درست نہیں، کیونکہ ہم سیکڑوں چیزوں کو حواس خمسہ سے نہیں، بلکہ عقل سے مانتے ہیں ۔ اسی طرح بے شمار چیزوں کو ہم وجدان کی بنا پر مانتے ہیں، نہ کہ حواس خمسہ سے۔

اصل بات یہ ہے کہ کیا ہم خدا کے تصور کے بغیر اپنا اور اس کائنات کا خیال بھی دل میں لا سکتے ہیں؛ کیا خدا کے تصور کے بغیر اس کائنات کی، انسان کی اور اس زندگی کی کوئی توجیہ ممکن ہے؟ اور کیا اس توجیہ کے بغیر اعلیٰ اخلاق پر قائم کوئی زندگی ممکن ہے؟ اگر کسی کے خیال میں ایسا ممکن ہے تو یہ ہے وہ چیز جس کے حق میں اسے دلائل دینے چاہییں اور اس کو ثابت کرنا چاہیے، کیونکہ اس کے نتیجے میں خدا کی نفی ہو جائے گی۔

خدا ابدہ البدیہات ہے ،اس کے بارے میں ثبوت اور دلائل کی ضرورت نہیں، وہ ثابت ہے۔ جو اس کی نفی کرنا چاہتا ہے، اس کے ذمے ہے کہ وہ اس کی نفی کے دلائل دے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author