وظیفے اور تعویذ

سوال:

قرآن مجید کی آیت ہے کہ جب تم پر کوئی پریشانی یا مصیبت آئے تو نماز اور صبر سے کام لو۔ اس کے بجاے ہم پریشانی یا مصیبت سے حفاظت کے لیے تعویذوں یا وظیفوں کا سہارا لیتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟


جواب:

آپ نے جو بات قرآن مجید کے حوالے سے بیان کی ہے، وہ درست نہیں ہے۔ قرآن مجید میں نماز اور صبر سے مدد لینے کی تلقین دین پر عمل کرنے اور دین کے تقاضے پورے کرنے میں جو مشکلات پیش آتی ہیں، ان کے حوالے سے کی گئی ہے۔ البتہ آپ یہ کہہ سکتی ہیں کہ قرآن مجید میں کہیں بھی مصائب کا مقابلہ کرنے کے لیے خدا کی طرف پلٹنے اور اس کے حضور دعا کرنے کے سوا کوئی تدبیر نہیں بتائی گئی۔قرآن مجید میں یہ بات واضح طور پر بتائی گئی ہے کہ ہر مصیبت اللہ کے اذن سے آتی ہے، اس لیے ایک بندۂ مومن کے لیے صحیح راستہ یہ ہے کہ وہ عملی تدبیر کرے اور اس کی کامیابی کے لیے صرف اور صرف اللہ سے دعا پر بھروسا کرے۔


تعویذ اور وظیفے کرنے کی تعلیم نہ قرآن مجید میں کہیں دی گئی ہے اور نہ صحیح احادیث میں ایسی کوئی تعلیم ہمیں ملتی ہے۔ صحیح تدبیر اور دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تربیت یافتہ صحابہ کا طریقہ ہے۔ تعویذ اور وظیفے بعد کی پیداوار ہیں اور یہ نہ دینی اعتبار سے کوئی صحیح طریقہ ہیں اور نہ دنیوی اعتبار سے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author