یہود کی دیدارالٰہی کی خواہش

سوال:

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود نے حضرت موسیٰ سے اللہ کو دیکھنے کی فرمایش کی، یہ فرمایش انھوں نے کیوں کی؟


جواب:

ان کے ہاں یہ چیز انکار کے داعیات سے پیدا ہوئی تھی۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ انھوں نے جب یہ چاہا تو یہ اصل میں انکار کرنا چاہتے تھے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے انھوں نے کہا کہ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ سے رو در رو کلام کرتا ہے تو پھر ہمیں بھی اللہ کو دکھائیے۔ جب آپ کے ساتھ یہ معاملہ ہو سکتا ہے تو ہمارے لیے بھی یہ ہونا چاہیے۔ ہم اس کے بعد اللہ تعالیٰ کو مانیں گے۔ اس کے پیچھے اصل میں جو جذبہ موجود تھا، وہ انکار، تمرد اور سرکشی کا جذبہ تھا۔ کسی بات کو نہ ماننے کے لیے آپ جس طرح سے بہانے تراشتے ہیں، یہ وہی چیز تھی۔ اس پر ان کو بڑی سخت تنبیہ ہوئی اور ان سے کہا گیا کہ یہ تو ممکن نہیں ہے اور جو کچھ تم چاہ رہے ہو یہ حدود سے تجاوز ہے۔ اور اس چیز کو ان کا ایک بڑا جرم قرار دے دیا گیا۔ چنانچہ قرآن مجید نے اہل علم کے اوصاف میں یہ چیز بیان کی کہ

يُوْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ (البقرہ٢:٣)
وہ بن دیکھے خدا کو مانتے ہیں

 یعنی عقلی دلائل سے مانتے ہیں۔ ان کا دل اور دماغ مطمئن ہوتا ہے تو مانتے ہیں ، لیکن دیکھنے کا تقاضا نہیں کرتے۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author