یوسف علیہ السلام اور حکومت مصر

سوال:

یوسف علیہ السلام اپنے زمانۂ حکومت میں کیا حکومت مصر کے ملازم تھے یا وہ ملک چلانے کے لیے پورے اختیارات رکھتے تھے؟


جواب:

یوسف علیہ السلام کو مصر میں ملک چلانے کے پورے اختیارات حاصل تھے ۔ اس کی دلیل درج ذیل آیات ہیں:

''اور بادشاہ نے کہا، اُس کو میرے پاس لاؤ، میں اُس کو اپنا معتمد خاص بناؤں گا۔ پھر جب اُس سے بات چیت کی تو کہا: اب تم ہمارے ہاں بااقتدار اور معتمد ہوئے۔ اس نے کہا: مجھے ملک کے ذرائع آمدنی پر مامور کیجیے، میں متدین بھی ہوں اور با خبر بھی۔ اور اِس طرح ہم نے یوسف کو ملک میں اقتدار بخشا، وہ اُس میں جہاں چاہے متمکن ہو۔'' (یوسف12: 54۔56)

ان آیات سے پتا چلتا ہے کہ وہ مصری حکومت کے ملازم نہیں، بلکہ مصر کے با اقتدار فرماں روا تھے۔


answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author