ذات خدا کے متعلق دلیل ڈھونڈنا

سوال:

کیا اسلام میں اپنے ایمان کی بنیاد کے بارے میں دلیل ڈھونڈنے کی اجازت ہے، مثلاً یہ کہ ہر چیز کی کوئی ابتدا ہوا کرتی ہے تو اللہ کی ابتدا کیا ہے، یعنی وہ کب سے موجود ہے اور وہ کہاں سے آیا ہے؟کہیں ایسا تو نہیں کہ اس طرح کے سوالوں کے جواب تلاش کرنا ہی کفر ہے۔


جواب:

خدا پر ایمان عقل و فطرت کی گواہی سے یا ان دونوں کے اطمینان پا جانے کی بنا پر ہوتا ہے۔ لہٰذا خدا پر ایمان لانے کے حوالے سے دلیل و استدلال کی نفی کرنا درست نہیں ہے۔

البتہ، ذات خدا سے متعلق ایسے سوال جیسے آپ نے بیان کیے ہیں کہ ہر چیز کی کوئی ابتدا ہوا کرتی ہے تو اللہ کی ابتدا کیا ہے، وہ کب سے موجود ہے اور کہاں سے آیا ہے؟ ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرنا آخری درجے کی حماقت اور جہالت ہے، کیونکہ ذات خدا کے بارے میں وہ معلومات ہی ہمارے پاس موجود نہیں جن کی بنیاد پر ایسے سوالوں کے جواب تلاش کرنا ممکن ہو۔

ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اس کائنات میں موجود نظم و ضبط ، توازن اور اشیا میں ہم آہنگی ہمیں اس بات کی طرف دھکیلتی ہے کہ اس کے پیچھے کوئی عظیم قدرت اور ذہانت موجود ہے جو بامقصد کام کرتی ہے۔

اگر ہم اس قدرت اور ذہانت کی ذات کے بارے میں، جسے ہم اس کائنات کا مقتدر مان رہے ہیں، کچھ جاننا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ جیسے یہ کائنات ایک حد تک ہماری دسترس میں ہے، اسی طرح وہ ذات بھی کسی نہ کسی حدتک ہماری دسترس میں ہو تاکہ جیسے اس کائنات کے مطالعے سے ہم نے یہ بات اخذ کی ہے کہ اس کے پیچھے ایک قدرت اور ذہانت کارفرما ہے، اسی طرح ہم اس ذات کے مطالعے سے یہ طے کریں کہ اس کے پیچھے کون کار فرما ہے اور کب سے کارفرما ہے؟

ان سوالوں کے حوالے سے ہمارے محقق کا مسئلہ بس اس ذات تک پہنچنا ہے، جونہی وہ اس تک پہنچ جائے گا، اگلی تحقیقات آپ سے آپ شروع ہو جائیں گی۔ اگر وہ ذات بھی کائنات ہی کی اشیا کی طرح کی کوئی شے ہوئی تو پھر اسے مادی اصولوں پر پرکھ کر اس کے بارے میں کچھ کہنا ممکن ہو گا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا خدا کو مخلوقات کی صف میں کھڑا کیا جا سکتا ہے؟ کیا وہ بھی اسی طرح زمان ومکان کا پابند ہے جیسے اس کائنات کی دوسری چیزیں پابند ہیں؟کیا وہ کائنات کے اندر ہی کا ایک وجود ہے کہ ہم اس تک پہنچنے کی کوشش کریں؟ اگر وہ بھی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے تو پھر اس کے بارے میں ہمارے ایسے سوالات بامعنی ہیں، لیکن اگر وہ مخلوق نہ ہوا تو پھر شاید وہ ہمارے علم و عقل سے بالا وجود ہو اور اسے سمجھ سکنا ہمارے بس میں نہ ہو، کیونکہ ہم صرف مخلوقات ہی سے واقف ہیں۔

ہم اسے اس لیے مانتے ہیں کہ یہ کائنات اور ہمارا اپنا وجود اسے ماننے کی طرف ہمیں دھکیلتا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وہی اس کائنات کی وہ واحد توجیہ ہے جو ہمارے سب سوالوں کا شافی جواب ہے۔

اب رہا اس کی ذات کا معاملہ کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کب سے موجود ہے تو یہ معلوم کرنے کے لیے اس کے وجود تک پہنچنا، اس کا مشاہدہ و مطالعہ کرنا اور غور و فکر کے لیے بنیادی مواد حاصل کرنا ضروری ہے۔

بہرحال، حقیقت یہ ہے کہ فی الحال ہم مادے تک رسائی تو رکھتے ہیں، مگر اس کے پیچھے عقلاً محسوس ہونے والے ذہن تک ہماری کوئی رسائی نہیں ہے۔

اس صورت حال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

اس سوال کے دو جواب ہیں:

ایک یہ ہے کہ جب تک ہم خدا کی ذات کا مطالعہ کرکے اس کے بارے میں یہ نہیں جان لیتے کہ وہ کب سے ہے اور کہاں سے آیا ہے ، اس وقت تک کے لیے ہم کائنات کے پیچھے کسی قدرت اور ذہانت کے کارفرما ہونے اور اس کائنات میں کسی مقصدیت کے موجود ہونے ہی سے انکار کر دیںیا دوسرے لفظوں میں اس وقت تک کے لیے ہم خدا کے وجود پر اس کائنات کی اور اپنے وجود کی صریح گواہی کا انکار کر دیں اور اس پر اپنے ایمان لانے کو اس وقت تک کے لیے موخر کر دیں، جب تک ہمیں یہ نہ پتا چلے کہ آخر وہ آیا کہاں سے ہے اور وہ کب سے ہے ۔

ہمارے اس رویے کی مثال یہ ہو گی کہ جس شخص کے والدین کے بارے میں ہمیں یہ معلوم نہیں ہو گا کہ وہ کون ہیں، ہم اس شخص کے وجود کے بارے میں اپنے وجود کی ہر گواہی کا انکار کریں گے۔

دوسرا یہ ہے کہ جو کچھ ثابت ہو چکا ہے، اس کو مانا جائے۔ چنانچہ اگر یہ بات ثابت ہے کہ اس کائنات کے پیچھے کوئی قدیر، کوئی حکیم ہے تو اسے مانا جائے، یعنی اس پر ایمان لایا جائے اور اس کی ذات سے متعلق سوالات کا جواب جاننے کے لیے اس تک پہنچنے کا انتظار کیا جائے اور ان سوالوں کو فی الحال معلق رہنے دیا جائے، کیونکہ اس وقت ان پر غور و فکر ہمارے بس ہی میں نہیں ہے۔

ویسے یہ بات بھی غور طلب ہے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ خدا کی ابتدا ہو؟ خدا کی ابتدا نہ ہونے سے یہی بات ثابت ہو گی کہ وہ ہماری معلوم اشیا کی طرح کی شے نہیں ہے۔ اگر وہ موجود ہے تو اس کے بارے میں یہ بات بھی ممکن ہے کہ وہ کائنات کی اشیا کی طرح کا نہ ہو۔ ہم اس کے بارے میں یہ سوال کہ وہ کب سے ہے اور وہ کہاں سے آیا ہے، آخر کس بل بوتے پر کر رہے ہیں۔

غور و فکر کفر نہیں ہوتا۔ کفر دراصل، اس حق کو نہ ماننا ہے جو آپ پر بالکل واضح ہے، جس کے بارے میں آپ کا دل کہتا ہے کہ آپ کو اسے لازماً قبول کرنا چاہیے، لیکن آپ جان بوجھ کر اسے نہیں مانتے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author