زکوٰۃ کی ادائیگی کی ذمہ داری

سوال:

بعض لوگ اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے، بہت پہلے سونا لے کر رکھ چھوڑتے ہیں اور پھر وہ اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں دیتے اور اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ہم اسے استعمال نہیں کر رہے ، یہ توہم نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے بنوایا ہے۔ اور وہ لڑکی جس کے لیے یہ سونا خریدا جاتا ہے، وہ اس ضمن میں بالکل بے بس ہوتی ہے ۔

سوال یہ ہے کہ اس صورت حال میں اس لڑکی کو کیا کرنا چاہیے ؟ نیز یہ بتائیں کہ اس کے والدین کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟


جواب:

یہ سونا دراصل، والدین ہی کی ملکیت ہے، انھی کو اس پر اختیار ہے اورآیندہ اس کے بارے میں جو فیصلہ بھی کرنا ہے، انھوں نے ہی کرنا ہے۔ چنانچہ ان پر شرعاً یہ لازم ہے کہ وہ اس کی زکوٰۃ ادا کریں۔ اگر وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کریں گے تو خدا کے ہاں اس کے لیے مسؤل ہوں گے۔ جہاں تک ان کی بیٹی کا معاملہ ہے تو بے شک یہ سونا اسی کے لیے خریدا گیا ہے، لیکن وہ اس معاملے میں چونکہ بے بس ہے، لہٰذا اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، سوائے اس بات کے کہ وہ اپنی بساط کی حد تک اپنے والدین کو نصیحت کرے کہ وہ اس سونے کی زکوٰۃ ادا کریں، ورنہ وہ خدا کو کیا جواب دیں گے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author