زکوٰۃ کی رقم سے فلاحی کام

سوال:

ہسپتال کی زمین خریدنے اور اس پر عمارت بنانے کے لیے ہمیں یہ بات تو واضح ہے کہ صدقے کی مد میں وصول ہونے والی رقم استعمال کی جا سکتی ہے، لیکن زکوٰۃ کی رقم شاید اس کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی؟ اگر یہ بات صحیح ہے تو کیا ہم زمین خریدنے اور عمارت بنانے کے لیے زکوٰۃ کی رقم میں سے بطور قرض کچھ رقم لے سکتے ہیں؟نیز یہ بتائیں کہ کیا ہم زکوٰۃ کی رقم اپنی 'capital cost' کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟


جواب:

استاذ محترم غامدی صاحب کی تحقیق کے مطابق دین میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔ چنانچہ آپ صدقے کی رقم کی طرح زکوٰۃ کی رقم سے بھی زمین خرید سکتے اور اس پر عمارت بنا سکتے ہیں اور اسے ہسپتال کی چھوٹی بڑی سب ضروریات کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔


زکوٰۃ کے مصارف ،یعنی زکوٰۃخرچ کرنے کی جگہوں کو خود قرآن مجید نے بیان کیا ہے۔ غامدی صاحب نے زکوٰۃ سے متعلق آیت کی شرح کرتے ہوئے قرآن کے بیان کردہ ان مصارف کو درج ذیل الفاظ میں واضح کیا ہے:

'' زکوٰۃ کے مصارف سے متعلق کوئی ابہام نہ تھا۔یہ ہمیشہ فقراومساکین اور نظم اجتماعی کی ضرورتوں ہی کے لیے خرچ کی جاتی تھی ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب منافقین نے اعتراضات کیے تو قرآن نے اُنھیں خود پور ی وضاحت کے ساتھ بیان کردیا ۔ارشاد فرمایا ہے:
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ، وَالْمَسٰکِينِ، وَالْعٰمِلِينَ عَلَيهَا، وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ، وَفِی الرِّقَابِ، وَالْغٰرِمِينَ، وَفِیْ سَبِيلِ اللهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، فَرِيضَةً مِّنَ اللهِ، وَاللهُ عَلِيمٌ حَکِيمٌ. (توبہ9: 60)''یہ صد قات تو بس فقیروں اورمسکینوں کے لیے ہیں، اور اُن کے لیے جو اِن پر عامل بنائے جائیں ، اور اُن کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو ، اوراِس لیے کہ گردنوں کے چھڑانے اور تاوان زدوں کی مد د کرنے میں ، راہ خدا میں اور مسافر وں کی بہبود کے لیے خرچ کیے جائیں۔ یہ اللہ کا مقرر کردہ فریضہہے اور اللہ علیم وحکیم ہے ۔''
اِس آیت میں جو مصارف بیان کیے گئے ہیں، اُن کی تفصیل یہ ہے :
فقرا ومساکین کے لیے ۔
'العاملین علیھا' ، یعنی ریاست کے تمام ملازمین کی خدمات کے معاوضے میں ۔
'المؤلفة قلوبھم' ، یعنی اسلام اور مسلمانوں کے مفادمیں تمام سیاسی اخراجات کے لیے ۔
'فی الرقاب' ، یعنی ہر قسم کی غلامی سے نجات کے لیے ۔
'الغارمین' ، یعنی کسی نقصان ، تاوان یا قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کی مدد کے لیے۔
'فی سبیل الله' ، یعنی دین کی خدمت اورلوگوں کی بہبود کے کاموں میں ۔
'ابن السبیل' ، یعنی مسافروں کی مد داوراُن کے لیے سڑکوں ، پلوں ، سراؤں وغیرہ کی تعمیر کے لیے۔
... زکوٰۃ کے مصارف پر تملیک ذاتی کی جو شرط ہمارے فقہانے عائد کی ہے ، اُس کے لیے کوئی ماخذ قرآن وسنت میں موجود نہیں ہے ، اِس وجہ سے زکوٰۃ جس طرح فرد کے ہاتھ میں دی جا سکتی، اُسی طرح اُس کی بہبود کے کاموں میں بھی خرچ کی جاسکتی ہے ۔'' (میزان 351۔352)

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author