زکوٰۃ یا ٹیکس

سوال:

زکوٰۃ اسلامی حکومت کا ٹیکس ہے ، ہماری حکومت خالصتاً اسلامی نہیں اور نہ وہ ہم سے وصول کیے ہوئے ٹیکس کو زکوٰۃ کے آٹھ مصارف پر خرچ کرتی ہے ، تو پھر ہم کیسے سمجھ لیں کہ ہماری زکوٰۃ ادا ہو گئی ہے؟


جواب:

ٹیکس کو خرچ کرنا حکومت کا کام ہے۔ آپ جس کو اسلامی حکومت کہتے ہیں وہ بھی جب قائم ہو جائے گی تو کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کتنا صحیح خرچ کرے گی اور کتنا غلط ، کیونکہ ہر حکومت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہماکی حکومت نہیں ہوتی۔ اس لیے آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ اپنا فرض پورا کریں اور حکومت کو تلقین اور نصیحت کریں کہ وہ اپنے رویے ٹھیک کرے۔

زکوٰۃ کو ٹیکس کی حیثیت سے حکومت کو ادا کر کے باقی ٹیکسوں سے خود کو بری سمجھنا ایک اجتہادی رائے ہے، اگر آپ کا اس پر اطمینان نہیں ہوتا تو آپ دوسری صورت اختیار کرسکتے ہیں ، یعنی ٹیکس بھی ادا کر دیں اور زکوٰۃ بھی۔ ( اگست ٢٠٠٤)

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author