زبردستی کا نکاح

سوال:

اگر کوئی باپ زبر دستی اپنی بیٹی کا نکاح کسی سے کردے تو کیا یہ نکاح ہو جاتا ہے، جبکہ بیٹی نے باپ کو اپنی مرضی بتا دی ہو۔ مزید یہ کہ اس نے اس لڑکے کو بھی حقیقت سے آگاہ کر دیا ہو اور اس کو اپنی یہ خواہش بھی بیان کر دی ہو کہ وہ خود ہی رشتہ ختم کردے تاکہ اسے زبردستی کا یہ نکاح قبول نہ کرنا پڑے؟


جواب:

پہلی بات تو یہ واضح رہنی چاہیے کہ یہ ایک عدالتی معاملہ ہے۔ نکاح ہونے کے بعد خواہ لڑکی کی مرضی اس میں شامل نہیں تھی، اب اس شخص کی منکوحہ ہے۔ اسے اگر یہ نکاح ختم کرانا ہے تو اسے عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔ کسی سوال کے جواب سے نکاح وطلاق کے معاملات پر فیصلہ کرنا انتہائی غیر دانش مندانہ ہے۔ اگر واضح طریقے سے اور قانونی تقاضوں کو پورا کرکے اس طرح کے معاملات میں فیصلہ نہ لیا جائے تو بعد میں پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس طرح کے معاملات میں چونکہ خاندان کی ناموس بھی زیر بحث آجاتی ہے، اس لیے معاملے کی نزاکت میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔


نکاح کے بعد خواہ اس کے حالات کچھ بھی رہے ہوں، اگر لڑکی اس نکاح کو جاری رکھے گی تو یہ درست ہے اور اگر وہ اس نکاح کو ختم کرنا چاہتی ہے تو اسی دلیل کی بنیاد پر کہ اس کا نکاح اس کی مرضی کے خلاف کیا گیا ہے، وہ فیملی کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ نکاح کے لیے لڑکی کی مرضی معلوم کرنا ضروری ہے، لیکن اگر اس کی مرضی کے بغیر نکاح ہو گیا ہے تو اس نکاح کو عدالت یا باقاعدہ مقرر شدہ ثالث کے علاوہ کوئی ختم نہیں کر سکتا۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author