ذبح کے وقت تکبیر کی کیسٹ چلانا

سوال:

مغرب کے بعض ممالک میں حلال گوشت بیچنے والے اداروں میں ذبح کرنے کے طریقے میں دو مسائل سامنے آئے ہیں، ان پر آپ اپنی راے دیں:

ا۔ مرغیوں کو ذبح کرنے سے پہلے بجلی کا جھٹکا دیتے ہیں تاکہ وہ زیادہ بھاگ نہ سکیں، بعض اوقات کچھ جانور اس جھٹکے سے مر بھی جاتے ہیں۔

ب۔ جب انھیں ذبح کیا جاتا ہے تو اس وقت ذبح خانے میں تکبیر کے الفاظ پر مشتمل کیسٹ چلائی جاتی ہے۔

کیا ایسے اداروں کا تیار کردہ گوشت حلال ہے؟


جواب:

پہلی بات یہ ہے کہ اگر واقعۃً بجلی کے جھٹکے سے مر جانے والے جانوروں کو ذبح ہونے والے جانوروں سے الگ نہیں کیا جاتا، بلکہ انھی میں ڈال دیا جاتا ہے تو پھر اس ادارے کا تیار کردہ گوشت استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
جہاں تک ذبح خانے میں ذبح کے وقت تکبیر کی کیسٹ چلانے کا تعلق ہے تو یہ کوئی صحیح بات تو نہیں ہے، لیکن ذبح کرنے والا ادارہ چونکہ جانور کو اسی ذات کے نام پر ذبح کر رہا ہے جس کے نام پر اسے ذبح ہونا چاہیے، لہٰذا جانور کو ذبیحہ قرار دینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ البتہ، اگر مسلمانوں کا کوئی گروہ یہ طریقہ اختیار کرتا ہے تو اسے اس سے منع کرنا چاہیے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author