زنا سے متعلق آیات پر بعض اشکالات

سوال:

قرآن مجید میں زنا کی سزا سے متعلق آیات کو صحیح طریقے سے نہیں سمجھا گیا۔ میرے نزدیک ان آیات سے جو باتیں واضح ہوتی ہیں ،وہ حسب ذیل ہیں:

  1. سورۂ نساء (4)کی آیت 15 میں آئے ہوئے لفظ 'الفاحشة' سے آپ کے نزدیک حد سے بڑھنا ، زیادتی ، گفتگو میں ادب واحترام کے حدود پھاند جانا اور ہم جنس پرستی مراد ہے۔
  2. ایسی عورتوں کو گھر میں بند کرنے کا حکم ہے تاکہ وہ اپنی اصلاح کر لیں ، مار پیٹ سے روکنے کی وجہ عورت کی بدنامی ہے۔
  3. آیت میں زنا کے پرہیز گار متقی نمازی اشخاص کی شہادت کا ذکر نہیں ۔ اس معاملے میں عورت کی گواہی زیادہ موزوں ہے ، اس لیے کہ اسے گھروں میں رسائی حاصل ہوتی ہے۔
  4. بعض حلقے اس آیت کو منسوخ سمجھتے ہیں،لیکن چار کی شرط برقرار رکھتے ہیں ، یہ ان کی من مانی تاویل ہے اور یہ قرآن کے ایک حصے کو ماننا اور ایک کا انکار کرنا ہے۔
  5. سورۂ نور(24) کی آیت 2 میں مرد اور عورت کا زنا میں ملوث ہونا مذکور ہے، اس لیے اس میں مروجہ شہادت کی بات نہیں کی گئی ، اس لیے کہ رضا مندی سے ہونے والا گناہ اس طرح نمایاں نہیں ہو سکتا۔ اولاد کی خواہش کے تحت شوہر کی رضا مندی سے ہونے والا زنا بھی ایسے ہی خفیہ رہتا ہے۔ وڈیرہ شاہی میں معاشی مجبوریوں کے تحت زنا پر بھی چار کی گواہی کا کوئی امکان نہیں۔ زنا بالجبر کی صورت میں بھی اس طرح کی چارگواہیاں ناممکن ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ چار کی شرط حکام، جاگیرداروں، پیروں اور مولویوں کی مقرر کردہ ہے تاکہ شرائط پورے نہ ہوں اور الٹا عورت دہری سزا بھگتے، ایک اقرار زنا کی اور دوسری قذف کی۔
  6. کیا عورت کی حالت زار ، مرد کا جسمانی چیک اپ ، مرد کے کپڑوں کا پھٹا ہونا ، عورت اور مرد کے کپڑوں پر مادہ منویہ کا پایا جانا اور اس کا سائنسی تجزیہ ، مرد کی کسی چیز ، مثلاًشناختی کارڈ ، جوتے ، کپڑے ، بال ، پاؤں کے نشان، انگلیوں کے نشان ، عورت کا میڈیکل ٹیسٹ ، نفسیاتی ٹیسٹ اور حمل کی صورت میں ڈی این اے ٹیسٹ ، کیا یہ کافی شہادتیں نہیں ہیں؟
  7. زنا کی ایک سزا یہ ہے کہ وہ مشرکہ یا زانیہ ہی سے شادی کرے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شادی شدہ کی سزا بھی سو کوڑے ہی ہے۔ اگر مجرم زندہ ہی نہیں رہے گا تو اس کی شادی کا کیا سوال۔مزید یہ کہ نبی کے گھر والوں کو دگنی اور ملازمہ کو آدھی سزا کیسے دی جا سکتی ہے۔
  8. مظلوم عورت پر نئے قانون کی یہ دفعہ ظلم ہے کہ گواہ کے بغیر مقدمہ درج نہ کیا جائے۔
  9. اگر قذف ہوا ہے تو قاذف کو خود سزا مل جانی چاہیے۔ معتوب کو عدالتوں کے چکر لگوانا خلاف انصاف ہے۔
  10. سورۂ نساء (4)کی آیت 16 میں عمل قوم لوط(علیہ السلام )مراد ہے۔

آپ کی ان معروضات کے بارے میں کیا راے ہے؟


جواب:

درج ذیل سطور میں ہم آپ کے اٹھائے ہوئے نکات پر اپنا نقطۂ نظر پیش کر رہے ہیں:

1۔ آپ کے نزدیک سورۂ نساء (4) کی آیت 15 میں 'الفاحشة' حد سے بڑھنے، زیادتی، گفتگو میں ادب واحترام کے حدود پھاند جانے اور ہم جنس پرستی کے معنی میں آیا ہے۔ گویا آپ کے نزدیک اس سے زنا مراد نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک اس لفظ کا یہ اطلاق درست نہیں ہے۔ اس آیت میں یہ لفظ زنا ہی کے معنی میں آیا ہے۔آیت کے الفاظ ہیں:

وَالّٰتِيْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِکُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَيْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْکُمْ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِکُوْهُنَّ فِي الْبُيُوْتِ حَتّٰى يَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ يَجْعَلَ اللهُ لَهُنَّ سَبِيْلًا.(نساء4: 15)

''اور تمھاری جو عورتیں 'فاحشہ' کا ارتکاب کریں، ان پر اپنے اندر سے چار گواہ طلب کرو، اگر وہ گواہی دے دیں تو انھیں گھروں میں بند کردو، یہاں تک کہ انھیں موت آلے یا اللہ ان کے لیے کوئی سبیل نکال دے۔''

مولانا امین احسن اصلاحی نے اس آیت کے تحت 'الفاحشة' کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے:

'' 'فاحشہ' کھلی ہوئی بے حیائی اور بدکاری کو کہتے ہیں اور زنا کی تعبیر کے لیے یہ لفظ معروف ہے۔'' (تدبر قرآن2/264)

استاد محترم جناب جاوید احمد صاحب غامدی نے اس آیت کے اطلاق کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

'' ' الّٰتِيْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَةَ' (وہ عورتیں جو بدکاری کرتی ہیں) کا اسلوب دلیل ہے کہ یہ قحبہ عورتوں کا ذکر ہے۔ اِس صورت میں اصل مسئلہ چونکہ عورت ہی کا ہوتا ہے، اِس لیے مرد زیر بحث نہیں آئے۔''

(میزان615)

گواہی کی نوعیت کو واضح کرتے ہوئے انھوں نے حاشیے میں بیان کیا ہے:

''یعنی اِس بات کے گواہ کہ وہ فی الواقع زنا کی عادی قحبہ عورتیں ہی ہیں ۔ '' (میزان615)

ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے اس حصے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے:

'' وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ سے اللہ تعالیٰ کی مراد ہے النساء التی یاتین بالزنا یعنی وہ عورتیں جو زنا کرتی ہیں۔'' (4/291)

یہی بات قرطبی، ابن کثیر اور دوسرے مفسرین نے لکھی ہے۔ ان حوالوں سے مولانا امین احسن اصلاحی کی یہ بات مؤکد ہو جاتی ہے کہ 'الفاحشة' کا لفظ زنا کے معنی میں معروف ہے۔باقی رہی یہ الجھن کہ اس میں مردوں کا ذکر کیوں نہیں ہے؟ تو اس کا جواب استاد محترم کے اقتباس میں موجود ہے کہ اس آیت کا تعلق قحبہ عورتوں سے ہے۔ آپ نے جو معنی کیے ہیں، وہ لفظ کے عرف کو نظر انداز کرکے کیے ہیں۔ یہ بات قرآن کی تفسیر کے مسلمہ اصول کے خلاف ہے۔

مزید براں 'وَالَّذٰنِ یَاْتِیٰنِھَا'(سورۂ نساء 4: 16) میں'ھا' کی ضمیر کا مرجع یہی 'الفاحشة' ہے۔ اس میں ' وَالَّذٰنِ' سے مراد وہ مردوعورت ہیں جن میں آشنائی کا تعلق ہے۔ اس جملے سے بالکل حتمی ہو جاتا ہے کہ 'الفاحشة' سے مراد زنا ہے، اس سے بدتمیزی، فحاشی وغیرہ مراد لینا ممکن نہیں۔ قرآن مجید نے بے حیائی کو بیان کرنے کے لیے دوسری تعبیرات اختیار کی ہیں۔

2۔ اس آیت کے حوالے سے دوسرا نکتہ آپ نے یہ بیان کیا ہے کہ عورتوں کو گھر میں بند کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی اصلاح کر لیںاور مار پیٹ سے روکنے کی وجہ عورت کی بدنامی ہے۔یہ بات بھی درحقیقت پہلی بات کے نتیجے کے طور پر پیدا ہوئی ہے۔ دراںحالیکہ خود آیت ہی میں اس حکم کی غایت مذکور ہے، یعنی اس وقت تک ان عورتوں کو بند کردو، جب تک یا تو یہ مرجائیں یا خود اللہ ہی ان کے بارے میں کوئی اور حکم نازل فرمادیں۔ یہ دونوں باتیں اصلاح کی حکمت سے کوئی خاص مناسبت نہیں رکھتیں۔ استاد محترم کی راے سے پوری آیت حل ہو جاتی ہے۔ پیش نظر یہ ہے کہ جب تک ان کے لیے باقاعدہ سزا نازل نہیں کی جاتی، سوسائٹی کو ان کے شر سے محفوظ کر دیا جائے۔

3۔اس آیت کے حوالے سے تیسرا نکتہ آپ نے یہ بیان کیا ہے کہ آیت میں زنا کے پرہیز گار متقی نمازی اشخاص کی شہادت کا ذکر نہیں۔ اس معاملے میں عورت کی گواہی زیادہ موزوں ہے، اس لیے کہ اسے گھروں میں رسائی حاصل ہوتی ہے۔ یہ بات تو درست ہے کہ اس میں متقی پرہیز گار کی شرط مذکور نہیں، لیکن 'مِنْکُمْ' کا اطلاق کس پر ہو گا،یہ بات آپ نے مضمون میں بیان نہیں کی۔ 'مِنْکُمْ' کو پیش نظر رکھیں تو یہ شرط تو عائد کرنی پڑے گی کہ وہ گواہ مسلمان ہوں۔ قحبہ عورتوں سے معاملہ کرنا پیش نظر ہے۔ اصل میں سوسائٹی اس مسئلے سے سنجیدگی سے نمٹنا چاہے گی اور انصاف کے تقاضے بھی پیش نظر رہیں گے تو گواہی پر کچھ شرائط عائد کرنا پڑیں گے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ وقوعہ کے گواہ اتفاقی ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان پر شرائط عائد کرنا موزوں نہیں ہے، لیکن جب معاملہ مختلف ہو، جیسے یہاں کردار پر گواہی طلب کی گئی ہے تو شرائط عائد کرنے کے مصالح سمجھ میں آتے ہیں۔

4۔ اس آیت کے حوالے سے چوتھا نکتہ آپ نے یہ بیان کیا ہے کہ بعض لوگ اس آیت کے چار گواہوں والے حصے کو قائم سمجھتے ہیں اور گھروں میں بند کر دینے والے حصے کو منسوخ سمجھتے ہیں۔ یہ آیت کے ایک حصے کو ماننا اور ایک حصے کا انکار کرنا ہے۔ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ اس آیت میں خود ایسے الفاظ موجود ہیں جو اس کے عارضی ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ 'اَوْ يَجْعَلَ اللهُ لَهُنَّ سَبِيْلًا' (یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے) سے اس کے علاوہ کیا مراد ہو سکتی ہے کہ آیندہ ان مجرموں کے لیے کوئی دوسری سزا تجویز کی جائے گی۔ باقی رہی یہ بات کہ چار گواہوں کی شرط کیوں قائم ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آیت ہی سے واضح ہے کہ سزا میں تو آیندہ تبدیلی ہوگی، لیکن کسی عورت کو قحبہ ثابت کرنے کے طریق کار میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی۔ آپ نے چونکہ اس آیت کا مطلب ہی دوسرا سمجھا ہے، اس لیے آپ کو یہ الجھن پیش آئی ہے۔

دوسرے آپ نے آیت کے اس حصے کے بارے میں شاید غور نہیں کیا۔ اگر غور کیا ہے تو آپ کے مضمون سے واضح نہیں ہے کہ آپ اس کا کیا مطلب لیتے ہیں۔

5۔ سورۂ نور(24) کی آیت 2 کے حوالے سے آپ نے لکھا ہے کہ اس میں چار گواہوں کی شرط بیان نہیں کی گئی۔ یہاں چار گواہوں کی شرط اصل میں زانیوں کو تحفظ دینے کا ذریعہ ہے۔

آپ کی یہ بات بالکل درست ہے کہ مذکورہ آیت میں گواہوں کی یہ شرط بیان نہیں ہوئی ، لیکن قرآن مجید ہی میں ایک دوسرا قانون بیان ہوا ہے جس کی رو سے چار گواہوں کی شرط عائد ہو جاتی ہے۔ میرا اشارہ قذف کے قانون کی طرف ہے۔ قذف کے قانون میں کسی پر زنا کا الزام لگانے والے پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ چار گواہ پیش کرے۔ اگر وہ چار گواہ پیش نہیں کرتا تو اسے قذف کا مجرم قرار دیا جائے گا اور اس پر قذف کی سزا لاگو ہو گی۔ یہ بات درست ہے کہ ایک آدمی نے فی الواقع زنا ہوتے دیکھا ہو ، لیکن وہ عدالت میں آئے اور چار گواہ پیش نہ کر سکے تو وہ عدالت کی نگاہ میں قاذف ہے۔ اس قانون کی حکمت یہ ہے کہ لوگوں پر زنا کا الزام لگانے کی روش کی حوصلہ شکنی ہو۔ باقی رہا یہ معاملہ کہ اس سے کچھ لوگ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں تو اس کی وجہ محض یہ قانون نہیں ہے ، رشوت ، سفارش اور اختیار کے غلط استعمال جیسے عوامل بھی اس کا باعث ہیں۔ کوئی بھی معاشرتی برائی تمام متعلقہ اسباب کو دور کیے بغیر ختم نہیں کی جا سکتی۔ معاشرتی عوامل کو نظرانداز کرکے ہی محض کسی قانون کو اس کا سبب قرار دیا جا سکتا ہے۔

6۔ ہمارے نزدیک زنا کے الزام کو عدالت میں شنوائی کے لیے چار گواہ پیش کرنا لازم ہے۔ دین دوسری شہادات کو صرف اسی صورت میں زیر بحث لانے کی اجازت دیتا ہے، جب مدعی چار گواہ پیش کر چکا ہو۔

7۔ آپ کے نزدیک زانی کی سزا صرف ایک ہے ، یعنی سو کوڑے، اس کے لیے آپ نے اپنے مضمون میں دو دلیلیں دی ہیں: ایک یہ کہ زانی کو دوسری سزا یہ دی گئی ہے کہ وہ صرف زانیہ یا مشرکہ ہی سے شادی کر سکتا ہے۔ دوسری یہ کہ لونڈی کی سزا آدھی ہے۔ رجم کی سزا آدھی کیسے ہو سکتی ہے۔ اگرچہ ہمارے نزدیک بھی زانی کی سزا سوکوڑے ہی ہے ، اس لیے بنیادی نکتے میں تو ہمیں آپ سے اختلاف نہیں ہے ، لیکن آپ کی دونوں دلیلیں ان لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتیں جن کی راے میں سورۂ نور کی یہ آیت صرف آزاد اور کنوارے زانیوں سے متعلق ہے۔ ان کے اس نقطۂ نظر کو رد کرنے کے لیے یہ دلائل کافی نہیں ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ استاد محترم کی کتاب''میزان'' کے باب ''حدود وتعزیرات'' کا مطالعہ کریں، اس سے واضح ہو جائے گا کہ اس آیت کا صحیح مفہوم کیا ہے۔

8۔ آپ کے خیال میں نئے قانون میں یہ دفعہ مظلوم عورت پر ظلم ہے کہ گواہوں کے بغیر زنا کا مقدمہ درج نہ کیا جائے۔ میرے علم کی حد تک زنا بالجبر کا ہدف بننے والی عورت کے لیے اس قانون میں گواہوں کی شرط نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تو ہمیں آپ سے اتفاق ہے۔ باقی رہا رضا مندی سے ہونے والا زنا تو اس میں گواہوں کی شرط قذف کے قانون کے تحت عائد رہے گی ، اس لیے کہ مدعی کے نزدیک تو کوئی شخص مجرم ہو سکتا ہے ، لیکن عدالت کو مدعی کے نقطۂ نظر کا تابع بنانا عدل کے منافی ہے۔ عدالت کے نزدیک کوئی ملزم اس وقت تک بے گناہ ہے، جب تک اسے مجرم ثابت نہ کر دیا جائے۔ محض کسی کا دعویٰ کر دینے سے کوئی شخص مجرم نہیں بن جاتا۔

9۔ آپ کی راے میں قاذف کو خود بخود سزا مل جانی چاہیے۔ ہمارے نزدیک بھی قرآن مجید کے قانون قذف کا منشا یہی ہے۔ قرآن یہی چاہتا ہے کہ زنا کی تہمت لگانے کی روش کی بیخ کنی ہو۔ اگر ملکی قانون میں اس کا اہتمام نہیں ہے تو اس کی تلافی ہونی چاہیے۔

10۔ سورۂ نساء(4) کی آیت 16 ' وَالَّذٰنِ یَاْتِیٰنِھا ' میں آپ کے نزدیک عمل قوم لوط کی سزا بیان ہوئی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ آیت ان زانیوں سے متعلق ہے جو آشنائی کے تعلق کی بنا پر اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اس راے کے حق میں یہ قطعی دلیل ہے کہ اس میں مذکور ضمیر کا مرجع 'الفاحشة' ہے۔ اور اس 'الفاحشة' سے زناکے سوا کوئی چیز مراد نہیں ہو سکتی۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author