زندگی میں اپنی جائداد کی تقسیم کیسے؟

سوال:

اگر کوئی آدمی اپنی زندگی میں اپنی جائداد بچوں میں تقسیم کرنا چاہے تو وہ کیسے کرے؟


جواب:

آدمی اگر اپنی زندگی ہی میں اپنی جائداد اپنے بچوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے تو وہ جیسے چاہے کر سکتا ہے ۔ اس پر شریعت کی طرف سے اس ضمن میں کوئی خصوصی قدغن نہیں ہے، البتہ یہ ذہن میں رہے کہ اگر وہ اس معاملے میں بچوں کے درمیان کوئی بے انصافی کرے گا تو یہ بالکل غلط ہو گا اور وہ اس کے لیے خدا کے ہاں مسؤل ہو گا۔ عدل کو قائم رکھتے ہوئے، وہ اگر اپنے کسی غریب بیٹے کو زیادہ اور امیر کو کم دیتا ہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے اور ایسا کرنا درست ہو گا، لیکن اگر وہ خواہ مخواہ اپنے کچھ بچوں کو کم اور کچھ کو زیادہ دیتا ہے تو یہ بے انصافی ہو گی یا وہ بغیر کسی وجہ کے لڑکیوں کو دیتا ہی نہیں اور سارا مال لڑکوں ہی کو دے دیتا ہے تو یہ بھی خلاف عدل ہو گا۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author