زکوۃ کا نصاب

سوال:

زکوۃ کي ادائيگي اور اس کي فرضيت کے ليے چاندي اور سونے کو بطور معيار ليا جاتا ہے۔ نصاب کے مطابق موجودہ چاندي کي قيمت تقريباً پانچ چھ ہزار روپے ہے جبکہ ساڑھے سات تولے سونے کي مجموعي قيمت تقريباً سوا لاکھ روپے بنتي ہے اور دونوں ميں بہت زيادہ فرق ہے۔ موجودہ دور ميں اہل علم کے مطابق چاندي کو بطور معيار ليا جاتا ہے جبکہ عوام عام طور پر سونے کو بطور معيار تصور کرتے ہوئے زکوۃ نکالتے ہيں۔ اسلام ميں چاندي اور سونا دو چيزوں کو کيوں معيار ليا گيا ہے؟ اگر چاندي کو معيار مانا جاۓ تو غريبوں پر بھي زکوۃ عائد ہو جاتي ہے۔


جواب:

استاد محترم جناب جاويد احمد صاحب غامدي کي تحقيق يہ ہے کہ زکوۃ کا نصاب چاندي ہي سے متعين کيا گيا ہے۔ نبي صلي اللہ عليہ وسلم کے زمانے ميں باون تولے چاندي سے ساڑھے سات تولے سونے کا تبادلہ ہو سکتا تھا ، اس ليے سونے کي زکوۃ اس مقدار پر لي جاتي تھي۔ سونے اور چاندي کے الگ الگ نصاب کا تصور ہمارے ہاں رائج ہے ، حقيقت ميں يہ تصور درست نہيں ہے اور نصاب چاندي ہي سے متعين ہوتا ہے۔ زکوۃ چونکہ بچت پر لي جاتي ہے اس ليے اس ميں يہ نصاب مناسب ہے۔ ہمارے ہاں مشکل اس وجہ سے پيش آتي ہے کہ زکوۃ عموما زيورات ہي پر بنتي ہے اور زيورات ان لوگوں کے پاس بھي ہوتے ہيں جن کو معمول کے اخراجات چلانے کے ليے بھي مشکلات کا سامنا ہے۔ ہمارے نزديک اس کا حل يہ ہے کہ لوگ اپني کل زکوۃ کو ماہانہ اقساط کي صورت ميں ادا کر ديں۔ اور اگر ان کے پاس اتنا زيادہ زيور ہے کہ اس کي زکوۃ ماہانہ اقساط ميں ادا کرنا بھي ان کے ليے مشکل ہے تو پھر اس کے علاوہ کوئي صورت نہيں ہے کہ وہ اس زيور کا کچھ حصہ بيچ ديں اور زيور کي صرف اتني ہي مقدار اپنے پاس رکھيں جس کي زکوۃ وہ باآساني ادا کر سکتے ہوں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author