زکوٰۃ اور یتیم بچے

سوال:

1- میری سالی کو طلاق ہوگئی اور اس کے دو بچے ہیں۔ گھر لوٹنے پر اس کے والدین نے اس کی کسی بھی قسم کی مددسے صاف انکار کر دیا ہے۔ کیا میں اپنی زکوٰۃ کی رقم مذکورہ خاتون کو دے سکتا ہوں؟

2- جن بچوں کے باپ نہیں ہوتے ، وہ تو یتیم کہلاتے ہیں مگر جن بچوں کے والد اپنی بیوی کو طلاق دے کر الگ کر دیں ، انہیں کیا کہا جائے گا؟ کیا وہ بھی یتیم کے زمرے میں آتے ہیں؟


جواب:

1- زکوٰۃ کی مدات اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں بیان کی ہیں جو اس طرح ہیں :

’’صدقات توبس فقرا ، مسکینوں ، عاملین صدقات اورتالیف قلوب کے سزاواروں کے لیے ہیں اوراس لیے کے یہ گردنوں کے چھڑ انے ، تاوان زدوں کے سنبھالنے ، اللہ کی راہ اورمسافروں کی امدادمیں خرچ کیے جائیں ۔یہ اللہ کامقررکردہ فریضہ ہے ۔اوراللہ علم والا اورحکمت والا ہے ۔‘‘، (التوبہ9: 60)

اس فہرست میں ابتدائی دو نام فقرا و مساکین کے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو محتاجی اور ناداری کے ہاتھوں غربت و تنگ دستی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ آپ نے اپنی سالی کا جو معاملہ بیان کیا ہے ، اس کے بعد وہ اسی زمرے میں آتی ہیں۔ وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک بے سہارا خاتون ہیں جن کی مدد کرنا بہت ثواب کی بات ہے ۔ آپ انہیں بلا جھجک زکوٰۃ کی رقم دیجیے اور اس کے علاوہ بھی جتنی ممکن ہو ان کی مدد کیجیے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اجر دے گا۔

2- مذکورہ بچے یتیم نہیں ، بلکہ بے سہارا کہلائیں گے۔ ان کی ذمہ داری اصلا ً ان کے باپ پر ہے۔ لیکن وہ اگر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے تو پھر آپ جیسے قریبی رشتے دار ہی ان بچوں کے سر پر ہاتھ رکھیں گے۔ اس حیثیت میں ان میں اور یتیم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آپ ان کی دل کھول کر مدد کیجیے ، اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین اجر دے گا۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author