زکٰوۃ سے متعلق

سوال:

میرا سوال زکوٰۃ کے بارے میں ہے کہ زکوٰۃ تب فرض ہوتی ہے جب آپ کے پاس ساڑھے سات تولے سونا ۱ سال سے زائد عرصہ تک پڑھا رہے۔ میرے پاس ۵ تولے سونا ہے جس کی مدت ۱ سال ہو چکی ہے لیکن میرے پاس اب مزید ۱۲ تولے سونا ہے جس کی مدت ۴ ماہ ہوئی ہے۔ کیا دونوں کو ملا کر مجھے زکوٰۃ دینی ہو گی؟ اور پورے سترہ تولے میں سے زکوٰۃ کتنی بنتی ہے؟ برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیں۔


جواب:

امید ہے آپ بخیر ہوں گے ۔ آپ کے سوال کا جواب حاضر ہے ۔

ہمارے نزدیک زکوۃ کا نصاب سونے کی نہیں چاندی کی مقدار ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ساڑھے باون تولے چاندی اور ساڑھے سات تولے سونے کی قیمت برابر تھی لیکن اب بہت زیادہ فرق پیدا ہو گیا ہے ۔

بہرحال ہمارے نزدیک حضور کی بیان کردہ چاندی کی مقدار ہی نصاب ہے اور اس کے برابر مقدار میں موجود نقدی کی ہر نوعیت پر زکوۃ عائد ہو جاتی ہے ۔ یعنی سونا چاندی تمام کرنسی نوٹ زیورات پلاٹس وغیرہ ۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ کسی مال پر سال گزرنا ضروری نہیں ہے ۔ سال میں ایک بار زکوۃ کا مطلب یہ ہے کہ جب زکوۃ نکالنے کا دن آئے اس دن جو مال بھی آپ کے پاس موجود ہو گا اس پر زکوۃ ہو گی ۔ خواہ یہ مال ایک دن پہلے آپ نے حاصل کیا ہو ۔ زکوۃ نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ تمام اموال کی موجودہ مارکیٹ ویلیو پر آپ نے اڑھائی فیصد یعنی ایک ہزار روپے پر پچیس روپے زکوۃ ادا کرنی ہے ۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author