زنا کے مرتکب شخص کے ساتھ شادی

سوال:

ایک مسلمان لڑ کی کے لیے ایک ایسے مسلمان مرد کا رشتہ آیا ہے جو اپنے منہ سے اعتراف کرتا ہے کہ وہ ماضی میں شراب پیتا رہا ہے اور اُس نے کئی مرتبہ غلط قسم کی لڑ کیوں سے جنسی تعلقات قائم کیے ہیں ، لیکن اب وہ شادی کرنا اور صاف ستھری زندگی گزارنا چاہتا ہے اور ا س کا ارادہ ہے کہ آئندہ وہ ماضی کی برائیوں سے دور رہے گا۔ اِس صورت میں کیا لڑ کی کو یہ رشتہ قبول کر لینا چاہیے یا اسلام نے ایسے شخص سے ایک مسلمان لڑ کی کا رشتہ ممنوع ٹھرایا ہے؟


جواب:

اسلام میں زنا ایک بہت سنگین جرم ہے ۔ اس کی اخروی سزا کے علاوہ دنیوی سزا بھی بہت سخت ہے ۔ اس سزا کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس جرم کے مرتکب مرد و عورت کو یہ اجازت نہیں کہ وہ کسی پاک دامن مسلمان مردیا عورت سے شادی کرے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’زانی نکاح نہ کرنے پائے مگر کسی زانیہ یا مشرکہ سے ، اور کسی زانیہ سے نکاح نہ کرے مگر کوئی زانی یا مشرک۔ اور اہلِ ایمان پر یہ چیز حرام ٹھہرائی گئی ہے ۔‘‘ ، (نور3 :24)

تاہم یہ قانونی سزا کا بیان ہے ۔ یعنی زنا کے گناہ کے مرتکب کا جرم اگر عدالت میں ثابت ہوجاتا ہے تو پھر اسے یہ سزا بھی د ی جائے گی۔ کسی شخص کا معاملہ اگر عدالت تک نہ پہنچے تو پھر اسے اپنے گناہ کی معافی اپنے رب سے مانگنی چاہیے اور ایک متقی اور صالح انسان کی زندگی اختیار کرنی چاہیے۔ یہ طریقہ بالکل غلط ہے کہ وہ اپنے گناہ کا اعلانِ عام کرتا پھرے۔

آپ نے جو معاملہ بیان کیا ہے اس میں چونکہ معاملہ عدالت میں نہیں گیا اس لیے دین کی طرف سے نکاح میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ، اس کا فیصلہ لڑ کی اور اس کے گھر والوں کو کرنا ہو گا کہ وہ اس کردار اور پس منظر کے شخص سے شادی کرتے ہیں یا نہیں ۔ انہیں اگر اطمینان ہے کہ اس شخص نے سچے دل سے توبہ کر لی ہے اور اس کا حال اس بات کا گواہ کہ ماضی کی کسی غلاظت میں اب وہ ملوث نہیں بلکہ ایک صالح انسان کی زندگی گزار رہا ہے تو شادی کرنا ان کا اختیار ہے ۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author