ظہر کی نماز کے وقت کا اختتام

سوال:

عام طور پر یہ راے دی جاتی ہے کہ ظہر کی نماز کا وقت نماز عصر تک رہتا ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ ایک مثل کے بعد ظہر قضا ہو جاتی ہے۔ آپ کی راے کیا ہے؟


جواب:

اصولاً، یہ بات واضح رہے کہ ظہر کی نماز کے وقت کے تعین میں فقہا میں بھی اختلاف ہے۔ ابن رشد نے لکھا ہے:

''نماز ظہر کے آخری توسیع شدہ وقت کے بارے میں امام مالک، امام شافعی، امام ابوثور اور امام داؤد کا قول ہے کہ ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو جائے اور امام ابوحنیفہ کی ایک روایت کے مطابق ہر چیز کا سایہ اس کے دومثل کے برابر ہو جائے۔ یہ وقت ان کے نزدیک عصر کا اول وقت ہے۔ دوسری روایت یہ ہے کہ ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو جائے اور جب سایہ دو مثل ہو جائے تو یہ نماز عصر کا اول وقت ہے اور ایک مثل اور دو مثل کے درمیان جو وقت ہے، وہ نماز ظہر کے لیے موزوں نہیں ہے۔ صاحبین امام ابویوسف اور امام محمد کا بھی یہی مسلک ہے۔''

(بداية المجتهد ونهاية المقتصد، ابن رشد، ترجمہ: ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی 156۔157)

اختلاف کی وجہ روایات ہیں۔ حدیث میں جبریل کی امامت کے سلسلے میں بیان ہوا ہے کہ انھوں نے پہلے دن سورج کے جھکنے پر ظہر کی نماز پڑھائی۔ اگلے دن اس وقت نماز پڑھائی جب سایہ ایک مثل تھا۔ پھر یہ بتایا کہ وقت ان دونوں کے درمیان ہے۔
دوسری روایت میں امتوں کی کارکردگی اور ان کی مزدوری بیان ہوئی ہے۔ اہل تورات نصف النہار کے وقت تھک گئے۔ انھیں ایک ایک قیراط مزدوری دی گئی۔ پھر اہل انجیل آئے اورعصر کے وقت تھک گئے ۔ انھیں بھی ایک ایک قیراط مزدوری دی گئی۔ پھر ہمیں قرآن عطا کیا گیا اور ہم نے غروب آفتاب تک کام کیا۔ ہمیں دو دو قیراط مزدوری دی گئی۔ اہل کتاب نے شکایت کی: اے ہمارے رب، آپ نے ان کو دوقیراط دیے، جبکہ ہم نے زیادہ کام کیا تھا۔ اللہ نے پوچھا: کیا میں نے تمھارے اجر میں کمی کی ہے۔ انھوں نے کہا: نہیں، تب اللہ نے کہا: یہ میرا فضل ہے۔
امام مالک اور امام شافعی کا مدار امامت جبریل والی روایت پر ہے۔ امام ابوحنیفہ دوسری روایت سے استشہاد کرتے ہیں کہ عصر کے وقت کا آغاز ایک مثل سائے سے شروع نہیں ہوتا۔ استاد محترم نے اوقات نماز اس طرح بیان کیے ہیں:

''نماز مسلمانوں پر ِشب وروز میں پانچ وقت فرض کی گئی ہے۔ یہ اوقات درج ذیل ہیں:
فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔'' (میزان 308)

اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ نماز کے اوقات نماز کے وقت کے نام کے معنی ہی سے واضح ہیں۔ مراد یہ ہے کہ فجر کا لفظ جس وقت کے لیے بولا جاتا ہے، وہی وقت اس نماز کا وقت ہے اور اسی طرح باقی نمازوں کے اوقات بھی لفظ کے اطلاق سے واضح ہیں۔ ان الفاظ کے اطلاق کو واضح کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے:

''صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ ہوجائے تو یہ فجر ہے۔
ظہر سورج کے نصف النہار سے ڈھلنے کا وقت ہے۔
سورج مرأی العین سے نیچے آجائے تو یہ عصر ہے۔
سورج کے غروب ہوجانے کا وقت مغرب ہے۔
شفق کی سرخی ختم ہوجائے تو یہ عشا ہے۔
فجر کا وقت طلوع آفتاب تک ، ظہر کا عصر، عصرکا مغرب، مغرب کا عشا اور عشا کا وقت آدھی رات تک ہے۔''(میزان 308)

مرأی العین سے یہاں مراد یہ ہے کہ اگر آپ مغرب کی طرف رخ کرکے کھڑے ہوں اور سر اٹھائے بغیر افق کی طرف دیکھیں تو آپ کی نگاہ کا محیط مرأی العین ہے۔
استاد محترم کی اس راے کا انحصار کسی روایت پر نہیں ہے ، بلکہ نماز کے اوقات کے حوالے سے امت کے اجماع اور عملی تواتر پر ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author