زوالِ امت کا سبب

سوال:

اس امت کے زوال کا حقیقی سبب کیا ہے؟ موجودہ حالات میں ایک عام آدمی کو حکومت اور اپنے معاشرے میں کیسار ویہ اختیار کرنا چاہیے، جبکہ حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں؟


جواب:

امتِ مسلمہ کے زوال کے سبب دو ہیں: ایک یہ کہ اس کا علم و عمل پچھلے ایک ہزا رسال سے بتدریج قرآنِ مجید سے غیر متعلق ہو گیا ہے۔ دوسرے یہ کہ امت میں جو لوگ ذہین تھے، جن کو اللہ تعالیٰ نے غیرمعمولی علمی صلاحیتیں دی تھیں، وہ بجائے اس کے کہ سائنسی علوم کو اپنا موضوع بناتے، انھوں نے فلسفے اور تصوف کو اپنا موضوع بنایا۔ اور یہ دونوں ہی بے معنی چیزیں تھیں۔ حقیقت میں یہی امت کے زوال کا سبب ہے۔

آج اس امت کی حالت بہتر کرنی ہے تو دو کام کرنے ہوں گے: ایک یہ کہ امت کو قرآنِ مجید کے معاملے میں ایجوکیٹ کیا جائے۔ یہاں تک کہ ہمارے علم و عمل پر قرآنِ مجید کی حکومت قائم ہو جائے۔ دوسرے یہ کہ امتِ مسلمہ کو دنیوی علوم اور خاص طور پر سائنسی علوم کے حصول کی ترغیب دی جائے۔ اصل میں انھی امور سے غفلت برتی گئی تو ہماری امت پر زوال آیا ہے اور انھی امور کی جانب توجہ کی جائے گی تو ان شاء اللہ بہتری ہو گی۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author