مضامین

12-Mar-2010 :تاریخ اشاعت
55 :ہٹس

سورہ اليل كا عمود اور ترجمہ

 

بسم الله الرحمٰن الرحيم
ا۔ سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق
یہ سورہ سابق سورہ ________ الشمس_________ کی مثنیٰ ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ ان کے ظاہر اور باطن میں اتنی گہری مشابہت و مماثلت ہے کہ ایک عام آدمی بھی ان کی یکسانی و ہم رنگی کو محسوس کر سکتا ہے۔
 
سابق سورہ میں نفس انسانی سے متعلق فرمایا ہے: 'قد افلح من زکّٰها، و قد خاب من دسّٰها' (الشمس۔ ٩١:٩۔١٠) (فلاح پائی جس نے اس کو پاکیزہ کیا اور نامراد ہوا جس نے اس کو آلودہ کیا) اس سورہ میں اسی بنیادی مسئلہ کو لیا اور بتایا ہے کہ نفس کو کیا چیز آلودہ کرتی اور اس سے اس کو بچانے کی کیا تدبیر ہے اور کیا چیز اس کو پاکیزہ بناتی ہے اور یہ پاکیزگی اس کو کس طرح حاصل ہوتی ہے۔
 
ب۔ سورہ کے مطالب کا تجزیہ
سورہ کے مطالب کی ترتیب اس طرح ہے:
(١۔٤) آفاق و انفس کی شہادت اس بات پر کہ قیامت حق ہے۔ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز جوڑا جوڑا پیدا کی ہے اور ہر چیز اپنی غایت کو اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر ہی پہنچتی ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس دنیا کا بھی جوڑا ____ آخرت____ہے جو اس کو بامقصد بناتا ہے ورنہ یہ بالکل اندھیر نگری بن کے رہ جائے گی جس میں خیر و شر دونوں یکساں ہو جائیں گے درآنحالیکہ ان میں فرق ایک امر بدیہی ہے۔
 
(٥۔٧) وہ کردار اور عقیدہ جو آدمی کو آخرت کی کامرانیوں کا اہل اور اس راہ کو اس کے لیے آسان بناتا ہے۔
 
(٨۔١٠) وہ عقیدہ و عمل جو اس کے لیے ہلاکت کی راہ کھولتا اور جہنم کے کھڈ میں گراتا ہے۔
 
(١١۔١٤) قریش کو تنبیہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری صرف تمہیں ہدایت کی راہ دکھا دینا ہے سو یہ کام اس نے کر دیا۔ یہ ذمہ داری اس پر نہیں ہے کہ وہ اس راہ پر تمھیں چلا بھی دے۔ یہ راہ اختیار کرو گے تو اس میں تمھارا اپنا ہی بھلا ہے ورنہ یاد رکھو کہ دنیا اور آخرت دونوں خدا ہی کے قبضہ میں ہیں۔ نہ یہاں کوئی خدا سے بچا سکے گا اور نہ وہاں کوئی کام آنے والا بنے گا۔
 
(١٥۔٢١) اس امر کی وضاحت کہ کس کردار کے لوگ دوزخ میں پڑیں گے اور کس کردار کے لوگ اس سے محفوظ رکھے جائیں گے اور ان کو کیا صلہ ملے گا؟
___________
سورۃ الّيل
مکّيّةٌ _______________ اٰيات:٢١
بسم الله الرحمن الرحيم
وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى فَأَمَّا مَن أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَى وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالْأُولَى فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّى لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّى وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّى وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَى إِلَّا ابْتِغَاء وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى وَلَسَوْفَ يَرْضَى۔ اٰيات:١۔٢١
ترجمہ آیات ١۔٢١

شاہد ہے رات جب کہ چھا جاتی ہے اور دن جب کہ چمک اٹھتا ہے اور شاہد ہے نر و مادہ کی آفرینش کہ تمھاری کمائی الگ الگ ہے۔ سو جس نے انفاق کیا اور پرہیز گاری اختیار کی اور اچھے انجام کو سچ مانا اس کو تو ہم اہل بنائیں گے راحت کی منزل کا اور جس نے بخالت کی اور بے پروا ہوا اور اچھے انجام کو جھٹلایا اس کو ہم ڈھیل دے دیں گے کٹھن منزل کے لیے۔ اور اس کے کیاکام آئے گا اس کا مال جب وہ کھڈ میں گرے گا! ہمارا کام سمجھا دینا ہے! اور ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت بھی اور دنیا بھی۔ سو میں نے تم کو آگاہ کر دیا دہکتی آگ سے۔ اس میں وہی پڑے گا جو نہایت بد بخت ہو گا، جس نے جھٹلایا اور منہ موڑا۔ اور اس سے محفوظ رکھا جائے گا وہ خدا ترس جو اپنا مال پاکیزگی حاصل کرنے کو دیتا ہے اور جس کی کسی پر کوئی عنایت بدلے کے لیے نہیں بلکہ صرف اپنے خدائے برتر کی خوشنودی کے لیے ہے۔ اور وہ نہال بھی ہو جائے گا۔١۔٢١

_________________________

:مصنف

View My Stats
Copyright 2010 © Al-Mawrid. Al rights Reserved.