مضامین

29-Jun-2010 :تاریخ اشاعت
812 :ہٹس

قتال اور دین کے معاملے میں جبر واکراہ

 

گزشتہ صفحات میں ہم نے قرآن مجید اور حدیث وسیرت کی روشنی میں عہد نبوی میں جہاد وقتال کی نوعیت پر تفصیلی گفتگو کی ہے جو ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا جہاد صرف دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ اور اقدامی بھی تھا اور اس کا محرک صرف کفار کے فتنہ وفساد کا خاتمہ نہیں بلکہ ان کو دائرہ اسلام میں لانا یا ان کو مغلوب کر کے ان پر اسلام اور اہل اسلام کی بالادستی قائم کرنا بھی تھا۔ تاہم یہ بحث تشنہ رہے گی اگر ان استدلالات وشبہات کا سنجیدگی سے جائزہ نہ لیا جائے اس اس حوالے سے بالعموم پیش کیے جاتے ہیں ۔
 
اس ضمن میں اصولی نوعیت کا ایک بنیادی استدلال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ جہاں تک جہاد وقتال کی پہلی صورت کا تعلق ہے تو اس کے جواز پر عقلی واخلاقی لحاظ سے کوئی سنجیدہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا، اس لیے کہ ظلم وعدوان اور جارحیت کے خاتمے اور اپنی جان ومال اور سرزمین کے دفاع کے لیے برسرجنگ ہونے کو، بعض راہبانہ اور غیر عملی فلسفوں سے قطع نظر، دنیا بھر میں ہمیشہ جائز بلکہ بعض حالات میں واجب سمجھا گیا ہے۔ البتہ دوسری صورت، جس میں کسی گروہ کی طرف سے کی جانے والی جارحیت یا ظالمانہ اقدام کی بنا پر نہیں بلکہ کفر پر قائم رہنے کی پاداش میں کفار ومشرکین کو قتل کرنے یا انھیں محکوم ومغلوب بنانے کے لیے تلوار اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے، اپنے ظاہر کے لحاظ سے خود دین وشریعت ہی کے نصوص میں بیان ہونے والی ان ہدایات کے ساتھ ٹکراتا اور ان کی نفی کرتی ہے جن میں دین ومذہب کے معاملے میں انسان کے ارادہ واختیار کی آزادی کی اہمیت اجاگر کی گئی اور اس حوالے سے کسی قسم کے جبر واکراہ کو اللہ تعالیٰ کی اسکیم کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
 
قرآن مجید میں یہ بات جگہ جگہ واضح کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں امتحان اور آزمایش کے لیے بھیجا ہے اور اس مقصد کے لیے اسے حق کو قبول کرنے یا نہ کرنے کے معاملے میں پوری آزادی بخشی ہے۔ ارادہ واختیار کی یہ آزادی دنیا میں رشد وہدایت کے باب میں اللہ تعالیٰ کی اسکیم کا بنیادی ضابطہ ہے اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دین کے معاملے میں کسی قسم کے جبر واکراہ کا طریقہ اختیار نہیں فرمایا۔ ارشاد ہے:
 
لاَ إِکْرَاهَ فِیْ الدِّيْنِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ فَمَنْ يَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَیَ لاَ انفِصَامَ لَهَا وَاللّهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ (البقره ٢:٢٥٦ )
''دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ۔ یقینا ہدایت کا راستہ گمراہی کے راستے سے ممتاز ہو چکا ہے۔ سو جو طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا، اس نے ایک نہایت مضبوط رسی تھام لی جو ٹوٹنے والی نہیں ۔ اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔''
 
قرآن مجید کی رو سے ایمان کے معاملے میں اصل اعتبار انسان کے اپنے ارادہ واختیار کا ہے۔چنانچہ کسی انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس معاملے میں کسی دوسرے انسان کو جبر واکراہ کے ساتھ ایمان واسلام کی راہ پر لانے کی کوشش کرے اور نہ اس طرح کے ایمان کو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کوئی وقعت حاصل ہے:
 
وَلَوْ شَاء رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِیْ الأَرْضِ کُلُّهُمْ جَمِيْعاً أَفَأَنتَ تُکْرِهُ النَّاسَ حَتَّی يَکُونُواْ مُؤْمِنِيْنَ ۔ وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ أَن تُؤْمِنَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّهِ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِيْنَ لاَ يَعْقِلُون (يونس ١٠: ٩٩، ١٠٠)
''اور اگر تیرا رب چاہتا تو زمین پر بسنے والے سب لوگ ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں کو مجبور کرنا چاہتے ہو تاکہ وہ ایمان لے آئیں ؟ اور کسی انسان کے بس میں یہ نہیں کہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر ایمان لے آئے۔ (اللہ اس کی توفیق ان کو دیتا ہے جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں ) اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہیں کرتے، ان پر (کفر وشرک) کی گندگی مسلط کر دیتا ہے۔''
 
ارادہ واختیار کی اسی آزادی کی بنا پر انسانوں کا مختلف مذہبی گروہوں میں تقسیم رہنا اللہ تعالیٰ کے قانون آزمایش کا ایک لازمی تقاضا ہے، اور ان اختلافات کا حتمی فیصلہ خود اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کریں گے۔ ارشاد ہوا ہے:
 
وَلَوْ شَاء رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُخْتَلِفِيْنَ ۔ إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ کَلِمَةُ رَبِّكَ لأَمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْنَ (هود١١: ١١٨، ١١٩)
''اور اگر تیرا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو (دین ومذہب کے لحاظ سے) ایک ہی گروہ بنا دیتا، لیکن یہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے، سوائے ان کے جن پر تیرے رب کی رحمت ہو۔ اور اللہ نے انسانوں کو پیدا ہی اس لیے کیا ہے۔ اور تیرے رب کا یہ فیصلہ پورا ہو کر رہے گا کہ میں جہنم کو جن اور انسان، دونوں مخلوقوں سے بھر دوں گا۔''
 
جن لوگوں کو حق کی روشنی میسر آ جائے، ان کی ذمہ داری بس یہ ہے کہ وہ لوگوں تک اس کو واضح طریقے سے پہنچا دیں ۔اس سے آگے کفار کے محاسبہ اور ان کے خلاف داروگیر کا کوئی اختیار ان کو نہیں دیا گیا۔ اس ضمن میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات قرآن مجید نے بہت وضاحت سے بیان کی ہے کہ آپ کے ذمے بس اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دینا ہے اور اس سے آگے کوئی ذمہ داری آپ پر عائد نہیں ہوتی:
 
فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَکِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْْطِر (الغاشيه ٨٨: ٢١، ٢٢)
''پس تم نصیحت کرتے رہو۔ تمہارا کام بس نصیحت کرنا ہے۔ تمھیں ان کو زبردستی منوانے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔''
 
وَلَوْ شَاء اللّهُ مَا أَشْرَکُواْ وَمَا جَعَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظاً وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِوَکِيْلٍ (الانعام ٦: ١٠٧)
''اور اگر اللہ چاہتا تو یہ شرک نہ کر سکتے۔ اور ہم نے تمھیں ان پر داروغہ نہیں بنایا اور نہ ہی تم پر انھیں منوانے کی ذمہ داری ہے۔''
 
فَإِنْ أَعْرَضُوا فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظاً إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا الْبَلَاغُ (الشوریٰ ٤٢: ٤٨)
''پھر اگر یہ منہ موڑیں تو ہم نے تمھیں ا ن کی داروگیر کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔ تمھارے ذمے تو بس بات کو پہنچا دینا ہے۔''
 
دوسرا اہم استدلال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اگر کفار کو اسلام قبول نہ کرنے کے جرم میں قتل کر دینے یا سیاسی لحاظ سے مغلوب ومحکوم بنانے کو درست تسلیم کر لیا جائے تو وہ نصوص بے معنی قرار پاتے ہیں جن میں محارب اور غیر محارب کفار کے مابین امتیاز کرنے اور جو گروہ مسلمانوں کے ساتھ کسی زیادتی کے مرتکب نہ ہوئے ہوں، ان کے خلاف کوئی اقدام کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ مثلاً سورہ ممتحنہ میں ارشاد ہوا ہے:
 
لَا يَنْهَاکُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوکُمْ فِیْ الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوکُم مِّن دِيَارِکُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ ۔ إِنَّمَا يَنْهَاکُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِيْنَ قَاتَلُوکُمْ فِیْ الدِّيْنِ وَأَخْرَجُوکُم مِّن دِيَارِکُمْ وَظَاهَرُوا عَلیٰ إِخْرَاجِکُمْ أَن تَوَلَّوْهُمْ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (الممتحنه ٦٠:٨، ٩)
''جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تمہارے ساتھ لڑائی نہیں کی اور نہ تمہیں تمھارے گھروں سے نکالا ہے، اللہ تمہیں ان کے ساتھ حسن تعلق اور انصاف کا رویہ اختیار کرنے سے نہیں روکتا۔ اللہ تو انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اللہ تو تمھیں صرف ان لوگوں سے دوستی قائم کرنے سے منع کرتا ہے جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے لڑائی کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی۔ جو لوگ ان کے ساتھ دوستی گانٹھیں گے، درحقیقت وہی ظالم ہیں ۔''
 
قرآن مجید نے اسی اصول کی توسیع جنگ اور قتال کے دائرے تک کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ اگر دشمنوں کا کوئی گروہ اپنی قوم کے سیاسی اور معاشرتی دباؤ کے تحت مسلمانوں کے خلاف میدان جنگ میں تو آ گیا ہو، لیکن لڑائی میں شریک نہ ہو بلکہ مسلمانوں کے ساتھ صلح کا خواہش مند ہو تو اس پر تلوار اٹھانے کا کوئی اختیار اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نہیں دیا ہے:
 
فَإِنِ اعْتَزَلُوکُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوکُمْ وَأَلْقَوْاْ إِلَيْْکُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللّهُ لَکُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيْلا (النساء ٤: ٩٠)
''پھر اگر وہ تمہارے مقابلے پر آنے سے گریز کریں اور تم سے نہ لڑیں اور تمہیں صلح کا پیغام دیں تو اللہ نے تمہیں ان کے خلاف اقدام کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا۔''
 
سورہ انفال میں ہدایت کی گئی ہے کہ اگر کوئی محارب گروہ بھی صلح اور امن کی پیش کش کرے تو غدر اور نقض عہد کے خدشات کے باوجود اس کی اس پیش کش کو قبول کر لیا جائے۔ ارشاد ہوا ہے:
 
وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ۔ وَإِن يُرِيْدُوا أَن يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللّهُ هُوَ الَّذِیَ أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ (الانفال ٨:٦١، ٦٢)
''اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو۔ بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اور اگر وہ (صلح کا پیغام دے کر) تمھیں دھوکہ دینا چاہتے ہیں تو اللہ تمھیں کافی ہے۔ وہی ہے جس نے اپنی مدد سے بھی تمہاری تائید کی اور اہل ایمان کے ذریعے سے بھی۔''
 
مذکورہ نقطہ نظر کے استدلال کی وضاحت کے بعد اب ہم اس کا تنقیدی جائزہ لیں گے:
 
مذکورہ استدلال میں دین کے معاملے میں جبر واکراہ کی نفی اور غیر محارب کفار کے ساتھ مصالحانہ تعلقات کا جواز بیان کرنے والے جن نصوص سے یہ نتیجہ ــــــــکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو مشرکین اور اہل کتاب کے خلاف قتال کا جو حکم دیا گیا، اس کی اصل وجہ ان گروہوں کا ایمان نہ لانا نہیں بلکہ فتنہ وفساد اور شر انگیزی تھاــــــــ اخذ کیا گیا ہے، قرآن مجید میں ان کا صحیح محل اور سیاق وسباق اس تعبیر کو قبول کرنے سے مانع ہے۔
 
ان میں سے پہلے اصول یعنی ایمان کے معاملے میں جبر واکراہ کو لیجیے:
 
قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اگرچہ عمومی طور پر ہدایت یافتہ اور غیر ہدایت یافتہ گروہوں کی تقسیم کے قائم رہنے کو اپنی اسکیم کا ایک حصہ قرار دیا ہے اور اس ضمن میں اختلاف کا حتمی فیصلہ قیامت کے دن ہی ہوگا، تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر کوئی ایسی پابندی عائد نہیں کی کہ وہ اس دنیا میں حق کے واضح ہونے کے باوجود ایمان نہ لانے والوں کو کوئی سزا نہیں دے گا۔ اس کے برعکس سزا وجزا کا قانون اللہ نے یہ بنایا ہے کہ انسانوں کو ان کے اعمال کا پورا اور کامل بدلہ تو آخرت میں ملے گا، لیکن جزا وسزا کا کچھ نہ کچھ ظہور اس دنیا میں بھی ہوتا ہے اور اس کے تحت افراد یا گروہوں خدا کی پکڑ میں آ جاتے ہیں ۔ یہ طریقہ رسولوں کے مخاطبین کے باب میں خاص اہتمام کے ساتھ اختیار کیا جاتا ہے اور جب رسالت کے منصب پر فائز کسی ہستی کے مخاطب اتمام حجت کے بعد اس کے انکار پر مصر رہیں تو ان پر قیامت صغریٰ اسی دنیا میں برپا ہو جاتی ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا یہ قانون بیان کرتا ہے کہ جب وہ کسی قوم میں اپنے رسول کو مبعوث کرتا ہے تو دلائل وبراہین کی وضاحت اور ایک مخصوص عرصے تک مہلت دیے جانے کے بعد ایمان نہ لانے کی صورت میں وہ قوم اسی دنیا میں خدا کے عذاب کی مستحق بن جاتی ہے جو اپنے مقررہ وقت پر لازماً اس قوم پر نازل ہو کر رہتا ہے۔
 
جہاں تک دین کے معاملے میں جبر واکراہ کی نفی کا تعلق ہے تو قرآن مجید میں یہ بات کہیں بھی اس مفہوم میں نہیں کہی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کفر کی پاداش میں کسی کو سزا دینے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رکھا۔ قرآن مجید میں اس بات کا ذکر یا تو تکوینی جبر واکراہ کی نفی کے پہلو سے ہوا ہے اور یا انسانوں کے دائرہ اختیار کی تحدید کے لیے۔ پہلے مفہوم کی آیات میں مقصود کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہتا توتمام انسانوں کو تکوینی طور پر صاحب ایمان بنا دیتا، یعنی ان میں سے کسی کو کفر یا ایمان میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار ہی حاصل نہ ہوتا۔ قرآن مجید اس کی وجہ یہ بیان کرتا ہے کہ ایمان خدا کی ایک نعمت ہے جو وہ ناقدروں اور اندھوں بہروں کو جبراً نہیں دیتا۔ اس کے مستحق خدا کے قانون کے مطابق وہی لوگ قرار پاتے ہیں جو اپنے دل ودماغ کو قبول حق کے لیے اور اپنی آنکھوں اور کانوں کو خدا کی نشانیوں پر غور کرنے کے لیے کھلا رکھتے ہیں ۔ گویا ہدایت اورایمان کے لیے تکوینی سطح پر جبر واکراہ کی نفی سے مقصود اہل کفر کے اس دنیا میں سزا اور مواخذہ سے بری ہونے کا بیان نہیں، بلکہ ایمان کی توفیق کا ایک بنیادی شرط یعنی خدا کی دی ہوئی ہوئی علم وعقل کی صلاحیتوں کے صحیح استعمال سے مشروط ہونے کا بیان ہے۔
 
قرآن مجید میں یہی بات دوسرے مقامات پر بھی اس طرح وضاحت سے بیان ہوئی ہے کہ اس کے مدعا ومفہوم میں کوئی ابہام باقی نہیں رہتا۔ سیدنا نوح نے اپنی قوم سے فرمایا:
 
يَا قَوْمِ أَرَأَيْْتُمْ إِن کُنتُ عَلَی بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّیَ وَآتَانِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِندِهِ فَعُمِّيَتْ عَلَيْکُمْ أَنُلْزِمُکُمُوهَا وَأَنتُمْ لَهَا کَارِهُونَ (هود ١١:٢٨)
''اے میری قوم، دیکھو اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت عطاکی ہے لیکن تمہاری نگاہیں اس کا ادراک کرنے سے عاجز ہیں تو کیا ہم اسے زبردستی تمھارے سر تھوپ دیں گے جب کہ تم اس کو پسند نہیں کرتے؟'
 
سورہ یونس میں ارشاد ہوا ہے:
وَلَوْ شَاء رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِیْ الأَرْضِ کُلُّهُمْ جَمِيْعاً أَفَأَنتَ تُکْرِهُ النَّاسَ حَتَّی يَکُونُوا مُؤْمِنِيْنَ ۔ وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ أَن تُؤْمِنَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّهِ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِيْنَ لاَ يَعْقِلُونَ ۔ قُلِ انظُرُواْ مَاذَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا تُغْنِیْ الآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لاَّ يُؤْمِنُونَ ۔ فَهَلْ يَنتَظِرُونَ إِلاَّ مِثْلَ أَيَامِ الَّذِيْنَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِهِمْ قُلْ فَانتَظِرُواْ إِنِّیْ مَعَکُم مِّنَ الْمُنتَظِرِيْنَ۔ ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ آمَنُواْ کَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِيْنَ (يونس ١٠:٩٩ -١٠٢)
''اور اگر تمہارا رب چاہتا تو زمین میں جتنے لوگ ہیں، وہ سب کے سب ایمان لے آتے (لیکن اس نے ایسا نہیں چاہا) تو کیا تم لوگوں پر جبر کرنا چاہتے ہو یہاں تک کہ وہ مومن بن جائیں ؟ کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ ایمان لے آئے، مگر اللہ کے اذن سے۔ اور (وہ اس کی توفیق انھی کو دیتا ہے جو اپنی عقل سے کام لیں جبکہ) جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے، ان پر (کفر وشرک کی) گندگی مسلط کر دیتا ہے۔ کہہ دو کہ غور کرو ان نشانیوں پرجو آسمانوں اور زمین میں ہیں، لیکن جو لوگ ایمان نہیں لانا چاہتے، یہ نشانیاں اور عذاب کی دھمکیاں ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتیں ۔ پھر کیا یہ بھی (خدا کے عذاب کے) انھی دنوں کا انتظار کر رہے ہیں جو ان سے پہلے گزر جانے والوں پر آئے؟ کہہ دو کہ پس تم بھی انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں ۔ پھر (جب عذاب آئے گا تو) ہم اپنے رسولوں اور ان پرایمان لانے والوں کو بچا لیتے ہیں ۔ اسی طرح ہوگا۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم ایمان لانے والوں کو بچا لیں ۔''
 
یہ درحقیقت زجروتوبیخ کا ایک اسلوب ہے جس کا مقصد استحقاق ہدایت کی اہلیت کا معیار بیان کرنا ہے، نہ کہ اس دنیا میں سزا اور مواخذہ کی نفی۔ ان دونوں باتوں کا محل بالکل الگ الگ ہے اور ان کو نظر انداز کرتے ہوئے محض الفاظ کے ظاہری اشتراک کی بنیاد پر ایک محل کی بات کو دوسرے اور بالکل مختلف محل کی بات سمجھ لینا اسالیب بلاغت سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی استاذ اپنے شاگردوں سے کہے کہ امتحان میں کامیابی حاصل کر کے اگلی جماعت میں ترقی کا مستحق قرار پانے کے لیے ہم کسی سے جبراً محنت نہیں کروائیں گے، بلکہ جو طالب علم خود اپنے شوق اور لگن اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرے گا، ترقی بھی اسی کا حق ہوگی، اور اس بیان سے یہ نتیجہ اخذ کر لیا جائے کہ استاذ صاحب امتحان میں ناکام ہونے والوں کے لیے مواخذہ اور داروگیر سے بری ہونے کا اعلان فرما رہے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ استنتاج بالکل بے محل ہوگا، چنانچہ سورہ یونس کی جو آیات ہم نے اوپر نقل کی ہیں، ان میں قرآن مجید نے 'ولو شاء ربك لآمن من فی الارض کلهم جميعا' سے تکوینی عدم اکراہ کو بیان کیا ہے، لیکن اس کے بعد 'فهل ينتظرون الا مثل ايام الذين خلوا من قبلهم' سے منکرین حق کے مواخذہ کے قانون کا بھی ذکر کیا ہے اور اس طرح یہ واضح کر دیا ہے کہ جبر واکراہ کی نفی سے اس کی مراد درحقیقت کیا ہے۔1
 
یہی صورت حال ان آیات کی ہے جہاں عدم اکراہ کا اصول انسانوں کے دائرہ اختیار کو بیان کرنے کے لیے بیان کیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ کو کفار پر داروغہ بنا کر مسلط نہیں کیا گیا۔ ان میں سے کم وبیش ہر مقام پر یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دینے کے بعد انھیں اس کو قبول کرنے پر مجبور کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے، لیکن اس کے ساتھ ہی اس بات کا بھی غیر مبہم اعلان کر دیا گیا کہ انکار حق پر اللہ تعالیٰ ان کافروں کا محاسبہ لازماً کریں گے:
 
رَبُّکُمْ أَعْلَمُ بِکُمْ إِنْ يَّشَأْ يَرْحَمْکُمْ أَوْ إِنْ يَّشَأْ يُعَذِّبْکُمْ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ وَکِيْلاً (بنی اسرائيل ١٧:٥٤)
''تمہارا رب تمھارے بارے میں بہتر جانتا ہے۔ اگر وہ چاہے گا تو تم پر رحمت کرے گا اور چاہے گا تو تمھیں سزا دے گا۔ اور (اے پیغمبر) ہم نے تمھیں ان پر مسلط کر کے نہیں بھیجا۔''
 
وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلاَغُ وَعَلَيْْنَا الْحِسَاب (الرعد ١٣:٤٠)
''اور چاہے ہم تمھیں اس عذاب کی ایک جھلک دکھا دیں جس کی ہم انھیں دھمکی دیتے ہیں یا تمھیں وفات دے دیں، تمہارے ذمے بس پہنچا دینا ہے اور محاسبہ کرنا ہمارے ذمے ہے۔''
 
أَفَأَنتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ أَوْ تَهْدِیْ الْعُمْیَ وَمَن کَانَ فِیْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ ۔ فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُم مُّنتَقِمُونَ ۔ أَوْ نُرِيَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنَاهُمْ فَإِنَّا عَلَيْهِم مُّقْتَدِرُونَ (الزخرف ٤٣:٤٠، ٤٢)
''تو کیا تم بہروں کو سنا سکتے ہو یا اندھوں کو اور ان لوگوں کو راہ دکھا سکتے ہو جو کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہوں ؟ پھر اگر ہم تمھیں لے جائیں گے تو یقینا ہم ان سے انتقام لیں گے۔ یا اگر تمھیں وہ عذاب دکھانا چاہیں گے جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے تو بے شک ہمیں ان پر پوری پوری قدرت حاصل ہے۔''
 
آیات سے صاف واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کو تو یہ حق نہیں دیا کہ وہ کسی دوسرے انسان کو اس کے اختیار کردہ مذہب سے بزور قوت برگشتہ کرنے کی کوشش کرے یا اس پر اسے سزا دے، لیکن اللہ تعالیٰ یہ اختیار رکھتے ہیں کہ وہ اتمام حجت کے بعد بھی دین حق کو قبول نہ کرنے والوں کو سزا دیں ۔
 
تکوینی طور پر انسانوں کو ابتدا ء ً ایمان پر مجبور نہ کرنا اور پھر وضوح حق کے بعد ایمان نہ لانے پر انھیں سزا کا مستحق قرار دینا، یہ دونوں اصول عدل وحکمت پر مبنی ہیں اور ان میں باہم کوئی منافات نہیں ۔ چونکہ انسان کو اس دنیا میں بھیجنے سے اس کا امتحان اور آزمایش مقصود ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو تکوینی طور پر اس بات پر مجبور نہیں کیا کہ وہ اس پر ایمان لائیں، بلکہ انھیں اپنے اختیار اور ارادے سے ایمان یا کفر میں سے کوئی بھی راستہ اختیار کرنے کی آزادی دی ہے۔ اس امتحان وآزمایش کے بامعنی اور منصفانہ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ دار الامتحان میں انسانوں کو کوئی بھی عقیدہ وعمل اختیار کرنے کی آزادی ہو اور انھیں بالجبر کسی نقطہ نظر سے برگشتہ کرنے یا کسی مخصوص عقیدہ ومذہب کو اختیار کرنے کے لیے مجبور نہ کیا جائے۔ تاہم اس سے یہ کسی طرح لازم نہیں آتا کہ اس دنیا میں انسانوں کے مواخذہ ومحاسبہ کا امکان ہی ختم ہو جائے، اس لیے کہ عدم اکراہ کا اصول جزا وسزا کے قانون کی نفی کے لیے نہیں، بلکہ اس جزا وسزا کو ایک معقول اور اخلاقی اصول بنانے کے لیے درکار ارادہ واختیار کی آزادی کی شرط کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی سرکشی اور عناد کی صورت میں اس سے باز پرس کا کوئی اختیار ہی اپنے پاس نہیں رکھا اور اسے ایک شتر بے مہار بنا کر دنیا میں بھیج دیا ہے، بلکہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں پر اپنے فضل واحسان اور نقمت وعذاب کا فیصلہ تحکم کے طریقے پر نہیں، بلکہ عدل وانصاف کے مطابق امتحان اور آزمایش کے اصول پر کرتا ہے۔ غور کیجیے تو خدائی قانون کے یہ دونوں پہلو باہم بالکل متوافق اور ایک ہی مقصد کو پورا کرنے کے لیے خدا کی اسکیم کا حصہ ہیں، اس لیے کہ آزادی دیے بغیر انسان کو امتحان میں ڈالنا تو یقینا غیر معقول ہے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے کسی فرد یا گروہ کو قبول حق کے معاملے میں تکوینی طور پر مجبور نہیں کیا، لیکن ظاہر ہے کہ ارادہ واختیار کی یہ آزادی مطلق نہیں بلکہ محدود ہے، چنانچہ اس آزادی کے غلط استعمال پر اس کی جزا وسزا کا فیصلہ کرنا کسی طرح بھی اس کے منافی نہیں اور اتمام حجت کے بعد انکار کرنے والوں کو سزا دینا نہ صرف خالق کائنات کا حق بلکہ اس کے قانون عدل وانصاف کا لازمی تقاضا ہے۔
 
زیر بحث زاویہ نگاہ کی غلطی یہ ہے کہ جن آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے معاملے میں تکوینی جبر کی نفی کی ہے، وہ انھیں خدا کے قانونی اختیار کی نفی پر محمول کرتا اور ان سے یہ نتیجہ اخذ کر لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان قبول نہ کرنے پر کسی کو سزا بھی نہیں دے سکتے۔ اسی طرح یہ زاویہ نگاہ اس دائرہ اختیار میں جو خدا کو انسانوں پر حاصل ہے اور اس دائرہ اختیار میں جو انسانوں کو انسانوں کے بارے میں دیا گیا ہے، فرق کو ملحوظ نہیں رکھتا اور ایک اخلاقی پابندی جو درحقیقت انسانوں کے لیے بیان کی گئی ہیں، اس سے یہ نتیجہ اخذ کر لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لیے بھی انھی کی پابندی لازم کر رکھی ہے اور وہ ان کے خلاف نہ کوئی فیصلہ کر سکتا ہے اور نہ کوئی حکم دے سکتا ہے، حالانکہ قرآن مجید کے نصوص میں انبیا کی قوموں کے مواخذہ اور ان پر عذاب الٰہی نازل کیے جانے کا قانون بار بار اور پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کی رو سے کسی قوم میں پیغمبر کی بعثت محض ایک داعی حق کی بعثت نہیں ہوتی، بلکہ اس قوم کے لیے فیصلے کی گھڑی ہوتی ہے اور پیغمبر کے مبعوث ہونے کے بعد قوم کے سامنے دو ہی راستے ہوتے ہیں : یا تو وہ پیغمبر کے دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے اس پر ایمان لا کر نجات پائے اور یا اس کے دعوے کو تسلیم نہ کرے اور خدا کے عذاب کا نشانہ بن جائے۔ ارشاد ہوا ہے:
 
وَلِکُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولٌ فَإِذَا جَاء رَسُولُهُمْ قُضِیَ بَيْْنَهُم بِالْقِسْطِ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ (يونس ١٠:٤٧)
''ہر گروہ میں ایک رسول بھیجا گیا۔ پھر جب ان کا رسول آ گیا تو ان کے مابین بالکل انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیا اور ان پر کوئی زیادتی نہیں کی گئی۔''
 
اس ضمن میں ایک شبہ یہ بھی پایا جاتا ہے کہ انبیا کی قوموں پر عذاب نازل ہونے کی وجہ محض ان کا ایمان نہ لانا نہیں بلکہ انبیا اور ان کی پیروی اختیار کرنے والے اہل ایمان کو اذیتیں اور تکالیف پہنچانا تھا، تاہم قرآن مجید کے بیانات سے اس مفروضے کی تائید نہیں ہوتی۔ اس میں شبہ نہیں کہ انبیا کی قوموں نے بالعموم اپنے رسولوں کومحض جھٹلا دینے پر اکتفا نہیں کی بلکہ اس کے ساتھ انھیں اور ان کے پیروکاروں کو ایذا رسانی اور تعذیب کا نشانہ بھی بنایا جو ان کے جرم کو زیادہ سنگین اور قابل مواخذہ بنا دیتا ہے، تاہم قرآن مجید میں رسولوں کے انذار کی جو تفصیل بیان کی گئی ہے، اس سے واضح ہے کہ رسولوں پر ان قوموں کو ایمان لانے کی دعوت دی اور نفس انکار وتکذیب پر انھیں خدا کے عذاب کی وعید سنائی:
 
قُلْ أَرَأَيْْتُمْ إِنْ أَتَاکُمْ عَذَابُهُ بَيَاتاً أَوْ نَهَاراً مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُونَ ۔ أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ آمَنْتُم بِهِ آلآنَ وَقَدْ کُنتُم بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ (يونس ١٠:٥٠، ٥١)
''کہہ دو کہ تم بتاؤ اگر اللہ کا عذاب تم پر را ت کو سوتے میں یا دن کو آ گیا تو وہ کیا چیز ہے جس کی ان مجرموں کو جلدی ہے؟ کیا پھر جب وہ عذاب آن پڑے گا تو تب تم ایمان لاؤ گے؟ کیا اب (ایمان لاتے ہو) جبکہ تم تو اس عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ کر رہے تھے؟''
 
انعام میں ہے:
وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِيْنَ إِلاَّ مُبَشِّرِيْنَ وَمُنذِرِيْنَ فَمَنْ آمَنَ وَأَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ وَالَّذِيْنَ کَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا کَانُواْ يَفْسُقُونَ (الانعام ٦:٤٨، ٤٩)
''اور ہم رسولوں کو اسی لیے بھیجتے ہیں کہ وہ بشارت دیں اور انذار کریں ۔ پھر جو لوگ ایمان لے آئے اور (اپنے اعمال کو) درست کر لیا، ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غم زدہ ہوں گے۔ لیکن جو ہماری آیات کو جھٹلائیں، ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے عذاب آ لیتا ہے ۔''
 
سورہ فاطرمیں فرمایا:
إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيْراً وَنَذِيْراً وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ ۔ وَإِن يُکَذِّبُوكَ فَقَدْ کَذَّبَ الَّذِيْنَ مِن قَبْلِهِمْ جَاء تْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالزُّبُرِ وَبِالْکِتَابِ الْمُنِيْرِ ۔ ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِيْنَ کَفَرُوا فَکَيْْفَ کَانَ نَکِيْرِ (فاطر ٣٥:٢٤ - ٢٦)
''ہم نے تمھیں حق کے ساتھ بھیجا، بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا۔ اور کوئی گروہ ایسا نہیں جس میں کوئی آگاہ کرنے والا نہ گزرا ہو۔ اور اگر یہ لوگ تمھیں جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے لوگوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا۔ ان کے پاس بھی ان کے رسول واضح دلائل اور صحائف اور ایک روشن کتاب لے کر آئے تھے۔ پھر میں نے کفر کرنے والوں کو پکڑا تو کیسی تھی میری سزا!''
 
قرآن مجید سے یہ بھی واضح ہے کہ اگرچہ پیغمبر کی تکذیب، اس کی دعوت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور اہل ایمان کو تعذیب وایذا کا نشانہ بنانے والے اصلاً قوم کے سردار اور بارسوخ لوگ ہوتے تھے، لیکن جب خدا کا عذاب آیا تو قوم کے صرف وہی افراد اس سے نجات پا سکے جو پیغمبر پر ایمان لا کر اس کا ساتھ اختیار کر چکے تھے۔ چنانچہ سیدنا نوح کی قوم کے معدودے چند افرادکے سوا ساری قوم طوفان میں غرق ہو گئی، حتیٰ کہ خود ان کی اپنی بیوی اور بیٹا بھی اس سے بچ نہ سکے۔ (ہود ١١:٤٢، ٤٣۔ التحریم ٦٦:١٠)
 
قرآن نے ان قوموں کے بحیثیت قوم عذاب کا نشانہ بننے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ انھوں نے پیغمبر کی پیروی اختیار کرنے کے بجائے اپنی قوم کے سرکش جباروں کی بات مانی اور ان کی پیروی میں پیغمبر اور اس لائی ہوئی نشانیوں کو جھٹلا دیا۔ قوم عاد کے بارے میں ارشاد ہوا ہے:
 
وَتِلْكَ عَادٌ جَحَدُواْ بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْاْ رُسُلَهُ وَاتَّبَعُواْ أَمْرَ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ وَأُتْبِعُوا فِی هَـذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ أَلا إِنَّ عَاداً کَفَرُوا رَبَّهُمْ أَلاَ بُعْداً لِّعَادٍ قَوْمِ هُودٍ (هود ١١:٥٨، ٦٠)
''اور یہ عاد کے لوگ تھے جنھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کے نافرمانی کی اور ہر ہٹ دھرم جبار کے طریقے کی پیروی کی۔ ان پر اس دنیا میں بھی لعنت مسلط کی گئی اور آخرت میں بھی۔ سنو، عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا۔ سنو، ہود کی قوم عاد کے لیے بربادی مقدر ہوئی۔''
 
قرآن نے ان قوموں کی بربادی کا وجہ ان کا ایمان نہ لانا ہی بیان کی ہے:
وَلَقَدْ أَهْلَکْنَا الْقُرُونَ مِن قَبْلِکُمْ لَمَّا ظَلَمُواْ وَجَاء تْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ وَمَا کَانُواْ لِيُؤْمِنُواْ کَذَلِك نَجْزِیْ الْقَوْمَ الْمُجْرِمِيْنَ (يونس ١٠:١٣)
''اور یقینا ہم نے تم سے پہلی قوموں کو بھی ہلاک کیا جب انھوں نے ظلم کیا۔ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے لیکن وہ ایمان لانے پر آمادہ نہ ہوئے۔ اسی طرح ہم مجرم قوموں کو سزا دیا کرتے ہیں ۔''
 
سورہ یونس میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ انبیا کے منکرین جب ان کی طرف سے پیش کردہ دلائل وبراہین پر غور کرنے سے گریز کرتے اور محض ہٹ دھرمی کی بنا پر ان کی تکذیب کا رویہ اختیار کیے رکھتے ہیں تو ایک خاص وقت تک آزمانے کے بعد اللہ تعالیٰ ان سے ایمان کی توفیق ہی سرے سے سلب کر لیتے ہیں اور خدا کے اس فیصلے کے بعد ہر قسم کی نشانیوں کو دیکھنے کے باوجود انھیں ایمان لانا نصیب نہیں ہوتا۔ ارشاد ہوا ہے:
 
إِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ کَلِمَتُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ ۔ وَلَوْ جَاءَ تْهُمْ کُلُّ آيَةٍ حَتّٰی يَرَوُا الْعَذَابَ الأَلِيْمَ (يونس ١٠:٩٦-٩٧)
''بے شک وہ لوگ جن پر تیرے رب کا فیصلہ لازم ہو جائے، چاہے ان کے پاس ہر نشانی آ جائے، وہ اس وقت تک ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے جب تک کہ دردناک عذاب کو اپنے سامنے نہ دیکھ لیں ۔''
 
اسی بنیاد پر جب انبیا اپنی مخاطب قوموں کے ایمان سے مایوس ہو گئے تو انھوں نے خدا سے دعا کی کہ اب وہ ایمان کی توفیق سے محروم کر دے تاکہ خدا کے عذاب کا فیصلہ ان پر نافذ ہو جائے۔ چنانچہ سیدناموسیٰ علیہ السلام نے درخواست کی کہ:
 
رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَی أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَی قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّی يَرَوُاْ الْعَذَابَ الأَلِيْمَ (يونس ١٠:٨٨)
''اے ہمارے رب، ان کے اموال کو تباہ کر دے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دے تاکہ جب تک یہ دردناک عذاب کو سامنے نہ پا لیں، ایمان نہ لانے پائیں ۔''
 
سیدنا نوح نے بددعا کی کہ:
رَّبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَاتَّبَعُوا مَن لَّمْ يَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ إِلَّا خَسَاراً.... وَقَدْ أَضَلُّوا کَثِيْراً وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِيْنَ إِلَّا ضَلَالاً (نوح ٧١:٢١-٢٤)
''اے میرے رب، انھوں نے میری نافرمانی کی اور ان لوگوں کی پیروی اختیار کی جن کے مال اور اولاد نے ان کے گھاٹے میں ہی اضافہ کیا ہے۔ ..... انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے، اور تو ان ظالموں کی گمراہی میں ہی اضافہ فرمانا۔''
 
قرآن نے اس ضمن میں انبیا کی قوموں کے علاوہ خود ان کے افراد خانہ کے حوالے سے بھی اللہ تعالیٰ کے اس قانون کی وضاحت فرمائی ہے۔ چنانچہ سیدنا نوح کا ایک بیٹا اہل ایمان کے ساتھ کشتی میں سوار نہ ہونے پر خود اپنے والد کے سامنے طوفان کے عذاب کا شکار ہو گیا اور سیدنا نوح نے جب اس پر بارگاہ الٰہی میں شکوہ کیا تو انھیں تنبیہ کی گئی کہ ایمان نہ لانے کے باعث وہ بھی خدا کے عذاب کا مستحق تھا، اس لیے وہ پدرانہ شفقت سے مغلوب ہو کر اللہ تعالیٰ سے کوئی ناروا مطالبہ نہ کریں :
 
قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْْرُ صَالِحٍ فَلاَ تَسْأَلْنِ مَا لَيْْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّیْ أَعِظُكَ أَن تَکُونَ مِنَ الْجَاهِلِيْنَ (هود ١١:٤٦)
''اللہ نے فرمایا کہ اے نوح، وہ تمہارے اہل میں سے نہیں تھا۔ اس کے عمل نیک نہیں تھے۔ سو تو مجھ سے اس چیز کا سوال نہ کر جس کا تجھے علم نہیں ۔ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں میں سے نہ ہو جا۔''
 
سیدنا لوط کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی قوم پرخدا کا عذاب آنے سے پہلے اپنے اہل خانہ کو لے کر رات کے اندھیرے میں اپنی بستی سے نکل جائیں تو ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کی گئی کہ وہ اپنی بیوی کا ساتھ لے کر نہ جائیں، کیونکہ ایمان نہ لانے کی وجہ سے وہ بھی خدا کے عذاب کی مستحق ہے اور اسی انجام کا شکار ہوگی جو ان کی قوم کے لیے مقدر کیا جا چکا ہے:
 
فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْْلِ وَلاَ يَلْتَفِتْ مِنکُمْ أَحَدٌ إِلاَّ امْرَأَتَكَ إِنَّهُ مُصِيْبُهَا مَا أَصَابَهُمْ (هود ١١:٨١)
''اپنے گھر والوں کو لے کر رات کے کسی پہر میں روانہ ہو جا اور تم میں سے کوئی پلٹ کر پیچھے نہ دیکھے۔ ہاں، اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جانا۔ بے شک اس پر بھی وہی عذاب آئے گا جو پوری قوم پر آنے والا ہے۔''
 
قرآن مجید کے نزدیک ان قوموں کا اصل جرم خدا کی آیات پر غور نہ کرنا اور خداکی دی ہوئی علم وعقل کی صلاحیتوں کو استعمال نہ کرنا ہے۔ قرآن نے یہ بات غیر مبہم انداز میں واضح کی ہے کہ انبیا کی یہ قومیں جس جرم کی وجہ سے اصلاً عذاب کی مستحق قرار پائیں، وہ یہ تھا کہ انھوں نے انبیا ورسل کی دعوت اور ان کے پیش کردہ دلائل وبینات پر غور نہیں کیا اور نتیجتاً ان پر ایمان لانے کے بجائے ان کی تکذیب پر مصر رہے:
 
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللّهَ وَاجْتَنِبُواْ الطَّاغُوتَ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَی اللّهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلالَةُ فَسِيْرُواْ فِیْ الأَرْضِ فَانظُرُواْ کَيْْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُکَذِّبِيْنَ (النحل ١٦:٣٦)
''اور یقینا ہم نے ہر قوم میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ سو ان میں سے کچھ تو ایسے تھے جنھیں اللہ نے ہدایت دی اور کچھ وہ تھے جن پر گمراہی مسلط ہو گئی۔ تو تم زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا؟''
 
کَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ ذُو الْأَوْتَادِ ۔ وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٍ وَأَصْحَابُ الأَيْكَةِ أُوْلَئِكَ الْأَحْزَابُ ۔ إِن کُلٌّ إِلَّا کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ (ص ٣٨:١٢ -١٤)
''ان سے پہلے قوم نوح اور قوم عاد اور میخوں والے فرعون اور قوم ثمود اور قوم لوط اور جنگل والوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا۔ یہی ہیں (منکروں) کے گروہ۔ ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا جس پر میرا عذاب ان پر مسلط ہو گیا۔''
 
سیدنا نوح نے اپنی قوم کے بارے میں فرمایا:
رَبِّ إِنَّ قَوْمِیْ کَذَّبُونِ ۔ فَافْتَحْ بَيْْنِیْ وَبَيْْنَهُمْ فَتْحاً وَنَجِّنِیْ وَمَن مَّعِیْ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (الشعراء ٢٦:١٧٧، ١١٨)
''اے میرے رب، بے شک میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔ سو تو میرے اور ان کے درمیان واضح فیصلہ فرما دے اور مجھے اور میرے ساتھ جو اہل ایمان ہیں، انھیں (اپنے عذاب سے) بچا لے۔''
 
فرعون اور آل فرعون کے بارے میں ارشاد ہوا ہے:
فَلَمَّا جَاء تْهُمْ آيَاتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ ۔ وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْماً وَعُلُوّاً فَانظُرْ کَيْْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ (النمل ٢٧:١٣، ١٤)
''پھر جب ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں آئیں تو انھوں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ انھوں نے ظلم اور سرکشی سے کام لیتے ہوئے ان نشانیوں کو جھٹلا دیا حالانکہ ان کے دل ان کا یقین کر چکے تھے۔ سو دیکھو کہ مفسدین کا انجام کیسا ہوا۔''
 
یہی بات 'فَکَذَّبُوهُ فَأَهْلَکْنَاهُمْ' اور 'فَکَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ' کے الفاظ میں قوم عاد اور قوم شعیب کے بارے میں بیان ہوئی ہے۔ (الشعراء ٢٦:١٣٩، ١٨٩)
 
قرآن مجید نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پیغمبر کی قوم کو مختلف جسمانی اور معاشی تکالیف میں مبتلا کرتے ہیں تاکہ وہ متنبہ ہو کر اللہ کی طرف رجوع کریں، لیکن جب وہ کوئی سبق نہیں سیکھتے تو ان پر مال ودولت اور سامان عیش کی فراوانی کر دی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر اچانک خدا کا عذاب ان پر آن پڑتا ہے:
 
وَلَقَدْ أَرْسَلنَا إِلَی أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَاهمْ بِالْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ فَلَوْلا إِذْ جَاء هُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَـکِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْْطَانُ مَا کَانُواْ يَعْمَلُونَ فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُکِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْْء ٍ حَتَّی إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ أَخَذْنَاهُم بَغْتَةً فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (الانعام ٦:٤٢ -٤٥)
''اور یقینا ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو انھیں جسمانی اور مالی تکلیفوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اختیار کریں ۔ تو کیوں نہ ایسا ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو وہ عاجزی کرتے۔ مگر ان کے دل سخت ہو گئے اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے سامنے خوب صورت بنا دیا۔ پھر جب انھوں نے یاد دہانی کی ان باتوں کو فراموش کر دیا جو انھیں کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے۔ یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں پر جو ان کو دی گئیں، خوش ہو گئے تو ہم نے اچانک ان کو آپکڑا اور پھر ناگہاں وہ مایوس ہو کر رہ گئے۔ پھر ان لوگوں کی جنھوں نے ظلم کیا، جڑکاٹ دی گئی اور تعریف کا سزاوار اللہ،جہانوں کا پروردگار ہی ہے۔''
 
قرآن کی رو سے عذاب الٰہی کے یہ واقعات عبرت کی غرض سے رونما کیے جاتے ہیں تاکہ دنیا کے باقی لوگ ان سے سبق سیکھیں اور الٰہی ہدایت کے انکار اور اس کو جھٹلانے سے باز رہیں، چنانچہ ان قوموں پر دنیا میں آنے والے عذاب کو وہ آخرت کے عذاب کی ایک نشانی اور یاد دہانی قرار دیتا ہے جس سے واضح ہے کہ دنیا کے عذاب کا باعث اور علت بھی وہی ہے جس کی بنیاد پر آخرت میں اہل کفر عذاب الٰہی کے سزاوار قرار پائیں گے:
 
وَکَذَلِكَ أَخْذُ رَبّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَی وَهِیَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيْمٌ شَدِيْدٌ إِنَّ فِیْ ذَلِكَ لآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ (هود ١١:١٠٢، ١٠٣)
''اور تیرے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ بستیوں کو اس وقت پکڑتا ہے جب وہ ظلم کرتی ہیں ۔ بے شک اس کی گرفت بہت دردناک اور سخت ہے۔ اس میں نشانی ہے ان کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔ یہ وہ دن ہے جب میں سب لوگوں کو جمع کیا جائے گااور یہ وہ دن ہے جب سب (خدا کے سامنے) حاضر ہوں گے۔''
 
منکرین حق کے مواخذہ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کی مذکورہ تفصیلات پیش نظر رہیں تو وہ الجھن بالکل رفع ہو جاتی ہے جس کا سامنا زیر بحث زاویہ نگاہ کو ہے، یعنی یہ کہ جب دین کے معاملے میں جبر واکراہ درست نہیں تو پھر کفار کے خلاف قتال کا باعث ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے کو کیونکر قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہم نے قرآن مجید میں ان آیات کے سیاق وسباق کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنے لیے مقرر کردہ کسی قانون یا اپنے اوپر عائد کردہ کسی پابندی کا ذکر نہیں کیا جس سے یہ اخذ کیا جا سکے کہ وہ رسولوں کے ذریعے سے اتمام حجت کے بعد ایمان نہ لانے والوں کو بھی اس دنیا میں کسی سزا کا مستوجب نہیں ٹھہرائے گا، بلکہ محض اس معیار کو بیان کیا ہے جو اس کے نزدیک تکوینی سطح پر ہدایت اور ایمان کی توفیق بخشنے کے لیے شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ قرآن میں اہل حق کی ذمہ داری کو 'بلاغ مبین' تک محدود قرار دینے کی جو بات بیان ہوئی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ازخود اپنے اجتہاد سے کسی فرد یا گروہ کو سزا کا مستحق قرار دے کر اس کے خلاف کوئی اقدام نہیں کر سکتے۔ کسی فرد یا قوم پر حجت کے تمام ہو جانے اور پھر اس کے بعد اس کو عذاب کا مستحق قرار دینے کا معاملہ سرتا سر خدا کے علم اور اس کے ارادے پر منحصر ہے اور کسی انسان، حتیٰ کہ کسی قوم کی طرف مبعوث کیے جانے والے پیغمبر کو بھی اس کا اختیار حاصل نہیں ۔ پیغمبر سمیت ہر داعی حق کی ذمہ داری بس یہ ہے کہ وہ حق کا پیغام بے کم وکاست لوگوں تک پہنچا دے، الا یہ کہ خود اللہ تعالیٰ پیغمبر یا اس کے ساتھیوں کو کسی فرد یا گروہ کے خلاف اقدام کرنے کا حکم یا اجازت دے دیں ۔ عذاب کے سزاوار قرار پانے والے گروہوں کی تحدید وتعیین سے لے کر ان کو دی جانے والی مہلت کے خاتمے اور ان پر سزا کے نفاذ تک کے تمام فیصلے براہ راست بارگاہ الٰہی سے صادر ہوتے ہیں جبکہ اہل ایمان اس حکم پر محض فرمان الٰہی کی تعمیل میں عمل پیرا ہوتے اور اللہ کے فیصلے کو اسی کے حکم سے اسی فرد یا گروہ پر نافذ کرنے کے پابند ہوتے ہیں جس پر نافذ کرنے کا انھیں اختیار دیا گیا ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ ایک خدائی فیصلہ ہوتا ہے جس کی تنفیذ کے لیے انسانی ہاتھ وہی کردار ادا کرتے ہیں جو تدبیر امور کے وسیع تر دائرے میں خدا کے فرشتے خدا کے فیصلوں کی تنفیذ کے لیے ادا کرتے ہیں ۔ چنانچہ قرآن مجید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے 'لیس لک من الامر شئ او یتوب علیہم او یعذبہم' (آل عمران ٣:١٢٨) اور 'انما علیک البلغ وعلینا الحساب' (الرعد ١٣:٤٠) کے الفاظ میں اصولی طور پر بھی اس بات کو واضح فرمایا ہے اور منکرین حق کے خلاف قتال کے احکام کے ضمن میں بھی جگہ جگہ اس کی وضاحت کی ہے کہ یہ جنگ دراصل خدا کا عذاب ہے جسے ان پر نازل کرنے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے سپرد کی ہے۔ یہ تصریحات حسب ذیل ہیں :
 
مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک دعوت وتبلیغ کے بعد بھی قریش من حیث القوم آپ پر ایمان نہ لائے تو اتمام حجت کے بعد ان پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ فرما دیا گیا۔ تاہم بہت سی حکمتوں اور مصلحتوں کے تحت ان کو کلیتاً نابود کر دینے کے بجائے ایک تدریج کے ساتھ ان کے ضدی اور معاند عناصر کا صفایا کرنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی۔ اس ضمن میں مکی دور میں ہی مشرکین کو عذاب الٰہی کی ممکنہ صورتوں میں سے ایک صورت یہ بتا دی گئی کہ اہل حق کی قوت بازو منکرین کو ان کے کفر کا مزہ چکھا دے:
 
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَی أَن يَبْعَثَ عَلَيْْکُمْ عَذَاباً مِّن فَوْقِکُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِکُمْ أَوْ يَلْبِسَکُمْ شِيَعاً وَيُذِيْقَ بَعْضَکُم بَأْسَ بَعْضٍ انظُرْ کَيْْفَ نُصَرِّفُ الآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ ۔ وَکَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُل لَّسْتُ عَلَيْْکُم بِوَکِيْلٍ ۔ لِّکُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ (الانعام ٦:٦٥۔٦٧)
''کہہ دو کہ وہ اس پر قادر ہے کہ چاہے تو تم پر تمہارے اوپر سے یا نیچے سے تم پر کوئی عذاب مسلط کر دے یا تمہارے مختلف گروہ بنا کر تمھیں آپس میں بھڑا دے اور ایک دوسرے کی پکڑ کا مزہ چکھا دے۔ دیکھو ہم کس کس انداز سے نشانیوں کو بیان کرتے ہیں تاکہ یہ سمجھ جائیں ۔ اور تیری قوم نے اس عذاب کو جھٹلا دیا حالانکہ اس کا آنا لازم ہے۔ تم کہہ دو کہ میں اس کو منوانے کے لیے تم پر مسلط نہیں کیا گیا۔ ہر عذاب کے آنے کا وقت بالکل مقرر ہے اور عنقریب تم جان لو گے۔''
 
یہ عذاب ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کی صورت میں نازل ہونا شروع ہوا۔
 
ہجرت مدینہ کے بعد اہل کفر کے خلاف لڑائی کے باقاعدہ آغاز سے پہلے سورہ محمد میں مسلمانوں سے کہا گیا کہ جب میدان جنگ میں ان کا دشمن سے آمنا سامنا ہو تو وہ اچھی طرح ان کی گردنیں ماریں اور پھر خوب خون ریزی کے بعد ان کو باندھ کر قیدی بنا لیں ۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ یہ دراصل اللہ تعالیٰ کا انتقام ہوگا جو وہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے کفار سے لے گا:
 
فَإِذا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ کَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّی إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّی تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء ُ اللَّهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَکِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَکُم بِبَعْضٍ وَالَّذِيْنَ قُتِلُوا فِیْ سَبِيْلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ (محمد ٤٧:٤)
''پھر جب کفار کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ ہو تو خوب ان کی گردنیں مارو۔ یہاں تک کہ جب اچھی طرح ان کی خون ریز ی کر چکو تو انھیں مضبوط باندھ لو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان کر کے چھوڑ دینا ہے یا فدیہ لے کر رہا کر دینا۔ (ان کے ساتھ لڑائی جاری رکھو) یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے انتقام لے لیتا، لیکن (اس نے تمھیں اس کا حکم دیا ہے) تاکہ وہ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائے۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں گے، اللہ ان کے اعمال کو ہرگز اکارت نہیں جانے دے گا۔''
 
مشرکین قریش پر یہ عذاب بالفعل غزوہ بدر میں نازل ہوا۔ قرآن مجید نے بتایا ہے کہ عذاب کے اس فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تکوینی لحاظ سے مداخلت کرتے ہوئے ان تمام اسباب کو ختم کر دیا جو اس معرکے کے بپا ہونے میں رکاوٹ بن سکتے تھے۔ مثال کے طور پر ایسے حالات پیدا کر دیے گئے کہ بعض اہل ایمان کی خواہش کے برعکس، شام سے لوٹنے والے قریش کے تجارتی قافلے کے بجائے مکے سے آنے والے لشکر کے ساتھ مسلمانوں کا ٹکراؤ ناگزیر ہو گیا:
 
وَإِذْ يَعِدُکُمُ اللّهُ إِحْدَی الطَّائِفَتِيْْنِ أَنَّهَا لَکُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَکُونُ لَکُمْ وَيُرِيْدُ اللّهُ أَن يُحِقَّ الحَقَّ بِکَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْکَافِرِيْنَ ۔ لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ کَرِهَ الْمُجْرِمُونَ (الانفال ٨:٧، ٨)
''اور جب اللہ تم سے وعدہ کر رہا ہے کہ دونوں گروہوں میں سے ایک سے تمھارا واسطہ پڑے گا، اور تم یہ پسند کرتے تھے کہ کیل کانٹے کے بغیر آنے والا قافلہ تمھیں ملے، لیکن اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اپنے کلمات کے ذریعے سے حق کو سربلند کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر رکھ دے۔''
 
إِذْ أَنتُم بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَهُم بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوَی وَالرَّکْبُ أَسْفَلَ مِنکُمْ وَلَوْ تَوَاعَدتَّمْ لاَخْتَلَفْتُمْ فِیْ الْمِيْعَادِ وَلَـکِن لِّيَقْضِیَ اللّهُ أَمْراً کَانَ مَفْعُولاً (الانفال ٨:٤٢)
''اور اگر تم باہم طے کر کے لڑائی کے لیے نکلتے تو مقررہ وقت یا جگہ پر اکٹھے نہ پہنچتے، لیکن اللہ نے یہ اس لیے کیا کہ ایک طے شدہ فیصلے کو نافذ کر دے۔''
 
اسی طرح دونوں گروہوں کو میدان جنگ میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لیے دونوں کی تعداد کو بھی ایک دوسرے کی نگاہ میں کم کر کے دکھایا گیا:
 
إِذْ يُرِيْکَهُمُ اللّهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِيْلاً وَلَوْ أَرَاکَهُمْ کَثِيْراً لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ فِیْ الأَمْرِ وَلَـکِنَّ اللّهَ سَلَّمَ إِنَّهُ عَلِيْمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ۔ وَإِذْ يُرِيْکُمُوهُمْ إِذِ الْتَقَيْْتُمْ فِیْ أَعْيُنِکُمْ قَلِيْلاً وَيُقَلِّلُکُمْ فِیْ أَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِیَ اللّهُ أَمْراً کَانَ مَفْعُولاً وَإِلَی اللّهِ تُرْجَعُ الأمُورُ (الانفال ٨:٤٣، ٤٤)
''جب اللہ نے خواب میں تمھیں ان کی تعداد تھوڑی دکھائی۔ اگر وہ تمھیں ان کی تعداد زیادہ دکھاتا تو تمھاری ہمت پست ہو جاتی اور تم اس معاملے میں باہم نزاع کرنے لگ جاتے، لیکن اللہ نے (تمھیں اس آزمائش سے) بچا لیا۔ بے شک وہ دلوں کیفیت کو خوب جانتا ہے۔ اور وہ وقت بھی یاد کرو کہ تمہارا آمنا سامنا ہوا تو اللہ انھیں تمہاری نگاہوں میں تھوڑا کر کے اور ان کی نظروں میں تمھاری تعداد کو کم کر کے دکھا رہا تھا تاکہ اللہ اس فیصلے کو رو بہ عمل کر دے جس کو بہرحال ہونا ہی تھا۔''
 
بدر کے معرکے میں قریش کے بڑے بڑے سردار مسلمانوں کے ہاتھوں تہ تیغ ہوئے۔ اگرچہ عام انسانی اخلاقیات کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کے پاس اس جنگ کا پورا پورا جواز موجود تھا، لیکن قرآن مجید نہایت اصرار کے ساتھ اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ یہ درحقیقت اللہ کا عذاب تھا جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کے نتیجے میں اہل ایمان کے ہاتھوں قریش پر نازل کیا گیا:
 
ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَآقُّواْ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَمَن يُشَاقِقِ اللّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللّهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ۔ ذَلِکُمْ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلْکَافِرِيْنَ عَذَابَ النَّارِ (الانفال ٨:١٣، ١٤)
''اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کی راہ اختیار کی اور جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کرے گا تو بے شک اللہ نہایت سخت سزا دینے والا ہے، سو اب اس عذاب کو چکھو۔ اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ بے شک منکروں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔''
 
قرآن نے اسی پہلو سے غزوہ بدر میں مشرکین کی ذلت اور رسوائی کو فرعون اور دوسرے منکرین حق پر نازل ہونے والے عذاب کے مثل قرار دیا ہے:
 
کَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِيْنَ مِن قَبْلِهِمْ کَفَرُواْ بِآيَاتِ اللّهِ فَأَخَذَهُمُ اللّهُ بِذُنُوبِهِمْ إِنَّ اللّهَ قَوِیٌّ شَدِيْدُ الْعِقَابِ (الانفال ٨:٥٢)
''ان کا حال بھی وہی ہے جو آل فرعون اور ان سے پہلی قوموں کا تھا۔ انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تو اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان پر گرفت کی، اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔''
 
اس واقعے کے بعد اس حوالے سے قریش کو بالواسطہ مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
وَإِذْ قَالُواْ اللَّهُمَّ إِن کَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاء ِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيْمٍ ۔ وَمَا کَانَ اللّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيْهِمْ وَمَا کَانَ اللّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ۔ وَمَا لَهُمْ أَلاَّ يُعَذِّبَهُمُ اللّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا کَانُواْ أَوْلِيَاء هُ إِنْ أَوْلِيَآؤُهُ إِلاَّ الْمُتَّقُونَ وَلَـکِنَّ أَکْثَرَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ (الانفال ٨:٣٢۔٣٤)
''اور یاد کرو جب انھوں نے کہا کہ اے اللہ، اگر یہی دین تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر مسلط کر دے۔ (اس سے پہلے تو) اللہ ان پر عذاب نازل نہیں کر سکتا تھا کیونکہ تم ان کے مابین موجود تھے اور نہ اللہ انھیں اس حال ہی میں سزا دے سکتا تھا کہ وہ گناہوں کی معافی مانگ رہے ہوں ۔ (لیکن اب ہجرت کے بعد) اس میں کیا رکاوٹ تھی کہ اللہ ان پر عذاب نازل کرتا، جبکہ وہ مسجد حرام سے بھی روکتے ہیں حالانکہ وہ اس کی تولیت کے حقدار بھی نہیں ۔ اس کے حقیقی متولی تو صرف پرہیز گار ہیں، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔''
 
قرآن مجید نے غزوہ بدر کے تناظر میں یہ بات بھی واضح فرمائی ہے کہ چونکہ اس بات کا علم اللہ ہی کو ہے کہ منکرین میں سے کن کی صلاحیت ایمان بالکل سلب ہو چکی ہے اور کن کے حق میں ابھی ایمان لانے کا امکان موجود ہے، اس لیے قریش کے لشکر میں سے کچھ لوگ تو تہ تیغ کر دیے گئے لیکن باقی کو بچ کر واپس جانے کا موقع دیا گیا ہے:
 
لِيَقْطَعَ طَرَفاً مِّنَ الَّذِيْنَ کَفَرُوا أَوْ يَکْبِتَهُمْ فَيَنقَلِبُواْ خَآئِبِيْنَ ۔ لَيْْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَیْْء ٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذَّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ (آل عمران ٣:١٢٨)
''تاکہ اللہ کافروں کی جماعت کے ایک حصے کو کاٹ ڈالے یا ان کو بری طرح رسوا کر دے تاکہ وہ نامراد واپس پلٹ جائیں ۔ (اے پیغمبر) اس معاملے میں تمھارے پاس کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ خود ہی یا ان پر نظر عنایت کرے گا اور یا انھیں عذاب دے گا، کیونکہ یہ ظالم ہیں ۔''
 
جہاد وقتال کے آخری مرحلے میں جب سورہ توبہ میں مشرکین کو ایمان نہ لانے پر قتل کرنے کا حکم دیا گیا تو اس موقع پر بھی اس اقدام کی یہ حیثیت واضح کی گئی۔ ارشاد ہوا ہے:
 
فَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْْرٌ لَّکُمْ وَإِن تَوَلَّيْْتُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّکُمْ غَيْْرُ مُعْجِزِیْ اللّهِ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ کَفَرُواْ بِعَذَابٍ أَلِيْمٍ (التوبه ٩:٣)
''پھر اگر تم ایمان لے آؤ تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے، اور اگر اس سے گریز کرو گے تو جان لو کہ اللہ کی گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے اور ان کافروں کے ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔''
 
فرمایا:
قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّهُ بِأَيْْدِيْکُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْکُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ ۔ وَيُذْهِبْ غَيْْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللّهُ عَلَی مَن يَشَاء ُ وَاللّهُ عَلِيْمٌ حَکِيْمٌ (التوبه ٩:١٤، ١٥)
''ان سے لڑو تاکہ اللہ تمھارے ہاتھوں انھیں عذاب دے اور انھیں رسوا کرے اور ان کے خلاف تمھیں فتح عطا فرمائے اور مومنوں کے دلوں کو تسکین بخشے اور ان (کافروں ) کے دلوں کے غیظ کو بھی دور کر دے۔ ہاں اللہ جس پرچاہے گا، عنایت فرمائے گا اور اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔''
 
اکابر مفسرین نے بھی مشرکین عرب کے ساتھ کیے جانے والے جہاد وقتال کی تفسیر اسی مخصوص تناظر میں کی ہے۔ ابن زید فرماتے ہیں :
(فمهل الکافرين امهلهم رويدا) قال مهلهم فلا تعجل عليهم ترکهم حتی لما اراد الانتصار منهم امره بجهادهم وقتالهم والغلظة عليهم (تفسير الطبری، ٣٠/١٥٠)
'''فمهل الکافرين امهلهم رويدا' کا مطلب یہ ہے کہ ان کو مہلت دو اور ان کے خلاف جلدی نہ کرو۔ اللہ نے ان کو چھوڑے رکھا، یہاں تک کہ جب ان سے انتقام لینا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کے ساتھ جہاد کرنے اور سخت رویہ اپنانے کا حکم دیا۔''
 
امام رازی لکھتے ہیں :
فان قيل لما کان حضوره فيهم مانعا من نزول العذاب عليهم فکيف قال قاتلوهم يعذبهم الله بايديکم قلنا المراد من الاول عذاب الاستيصال ومن الثانی العذاب الحاصل بالمحاربة والمقاتلة (مفاتيح الغيب، ١٥/١٥٨)
''اگر یہ سوال کیا جائے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی قوم کے اندر موجود ہونا ان پر عذاب کے نازل ہونے میں رکاوٹ تھا تو پھر یہ کیوں کہا گیا کہ تم ان سے لڑو تاکہ اللہ تمھارے ہاتھوں سے ان پر عذاب نازل کرے؟ تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ جس عذاب کی نفی کی گئی ہے، وہ قریش کو بالکلیہ نابود کر دینے کا عذاب ہے، جبکہ جس عذاب کا حکم دیا گیا ہے، اس سے مراد جنگ اور قتال کے ذریعے سے حاصل ہونے والا عذاب ہے۔''
 
انہ تعالی لما بين ما انزله باهل بدر من الکفار عاجلا وآجلا کما شرحناه اتبعه بان بين ان هذه طريقته وسنته فی الکل فقال کداب آل فرعون والمعنی عادة هولاء فی کفرهم کعادة آل فرعون فی کفرهم فجوزی هولاء بالقتل والسبی کما جوزی اولئك بالاغراق (١٥/١٨٠)
''اللہ تعالیٰ جب اس عذاب کی وضاحت کر چکے جو انھوں نے اہل بدر پر فی الفور یا بالمآل نازل کیا تو اس کے بعد اب فرمایا کہ (حق کے منکر) ہر گروہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں ۔ چنانچہ فرمایا کہ 'کداب آل فرعون' جس کا معنی یہ ہے کہ انھوں نے بھی کفر میں وہی طریقہ اختیار کیا جو آل فرعون نے کیا تھا، اس لیے جیسے ان کو غرق کر دینے کی سزا دی گئی تھی، ان کو بھی قتل اور قید کی صورت میں سزا دی گئی ہے۔''
 
مولانا شبیر احمد عثمانیؒ لکھتے ہیں :
''قرآن کریم میں اقوام ماضیہ کے جو قصے بیان فرمائے ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب کوئی قوم کفر وشرارت اور انبیاء علیہم السلام کی تکذیب وعداوت میں حد سے بڑھ جاتی تھی تو قدرت کی طرف سے کوئی تباہ کن آسمانی عذاب ان پر نازل کیا جاتا تھا جس سے ان کے سارے مظالم اور کفریات کا دفعۃً خاتمہ ہو جاتا تھا۔ فکلا اخذنا بذنبه فمنهم من ارسلنا عليه حاصبا ومنهم من اخذته الصيحة ومنهم من خسفنا به الارض ومنهم من اغرقنا وما کان الله ليظلمهم ولکن کانوا انفسهم يظلمون (عنکبوت رکوع ٤) کوئی شبہ نہیں کہ عذاب کی یہ اقسام بہت سخت مہلک اور آیندہ نسلوں کے لیے عبرت ناک تھیں لیکن ان صورتوں میں معذبین کو دنیا میں رہ کر اپنی ذلت ورسوائی کا نظارہ نہیں کرنا پڑتا تھا اور نہ آیندہ کے لیے توبہ ورجوع کا کوئی امکان باقی رہتا تھا۔ مشروعیت جہاد کی اصلی غرض وغایت یہ ہے کہ مکذبین ومتعنتین کو حق تعالیٰ بجائے بلاواسطہ عذاب دینے کے اپنے مخلص وفادار بندوں کے ہاتھ سے سزا دلوائے۔ سزا دہی کی اس صورت میں مجرمین کی رسوائی اور مخلصین کی قدر افزائی زیادہ ہے۔ وفادار بندوں کا نصرت وغلبہ علانیہ ظاہر ہوتا ہے۔ ان کے دل یہ دیکھ کر ٹھنڈے ہوتے ہیں کہ جو لوگ کل تک انہیں حقیر وناتواں سمجھ کر ظلم وستم اور استہزا وتمسخر کا تختہ مشق بنائے ہوئے تھے، آج خدا کی تائید ورحمت سے انہی کے رحم وکرم یا عدل وانصاف پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ کفر وباطل کی شوکت ونمائش کو دیکھ کر جو اہل حق گھٹتے رہتے تھے یا جو ضعیف ومظلوم مسلمان کفا ر کے مظالم کا انتقام نہ لے سکنے کی وجہ سے دل ہی دل میں غیظ کھا کر چپ ہو رہتے تھے، جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ سے ان کے قلوب تسکین پاتے تھے اور آخری بات یہ ہے کہ خود مجرمین کے حق میں بھی سزا دہی کا یہ طریقہ نسبۃً زیادہ نافع ہے کیونکہ سزا پانے کے بعد بھی رجوع وتوبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ حالات سے عبرت حاصل کر کے بہت سے مجرموں کو توبہ نصیب ہو جائے، چنانچہ حضور پرنور صلعم کے زمانہ میں ایسا ہی ہوا کہ تھوڑے دنوں میں سارا عرب صدق دل سے دین الٰہی کا حلقہ بگوش ہو گیا۔'' (تفسیر عثمانی، ص ٢٥٠، ٢٥١)
 
دوسری جگہ فرماتے ہیں :
''نزول توراۃ کے بعد دنیا میں ایسے غارت کے عذاب کم آئے۔ بجائے اہلاک سماوی کے جہاد کا طریقہ مشروع کر دیا گیا، کیونکہ کچھ لوگ احکام شریعت پر قائم رہا کیے۔'' (تفسیر عثمانی، ص ٥١٩)
 
مولانا وحید الدین خان لکھتے ہیں :
''درحقیقت یہ اشاعت اسلام کی جدوجہد نہیں بلکہ منکرین رسالت کے اوپر اس خدائی فیصلہ کا ظہور تھا جس کو قرآن میں امر اللہ، حکم اللہ، وعد اللہ وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور جو ''احقاق حق'' اور ''ابطال باطل'' کے لیے ہوتا ہے۔ یہ اپنی اصل نوعیت کے اعتبار سے اسلام کے اصولوں کو منوانے کی کوشش نہیں تھی، بلکہ حقیقۃً اسلام کے اصولوں کو نہ ماننے کی سزا تھی جو زمین وآسمان کے مالک کی طرف سے ایک مخصوص شکل میں ان کے اوپر نافذ کی گئی تھی۔ یہ سزا ہر اس انسان کو لازماً ملنے والی ہے جو خدا کی ہدایت کو ماننے سے انکار کر دے۔ فرق صرف یہ ہے عام انسانوں کو قیامت میں ملے گی اور رسول کے براہ راست مخاطبین کو دنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں بھی۔ (ولنذيقنهم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر (سجدہ ٢١)
 
یہ صحیح ہے کہ اس فیصلہ الٰہی کے نفاذ سے من جملہ اور فائدوں کے، اسلام کو تبلیغی اور توسیعی فائدے بھی حاصل ہوئے، مگر یہ اس کے دیگر نتائج تھے، جس طرح ہر واقعہ کے بہت سے دیگر نتائج واثرات ہوتے ہیں ۔ جہاں تک حکم کی اصولی نوعیت کا تعلق ہے، وہ وہی تھی جو اوپر مذکور ہوئی۔'' (تعبیر کی غلطی، ص ١١٥، ١١٦)
 
قرآن مجید نے اسی پہلو سے انسانی دائرہ اختیار کی تحدید عہد رسالت کے منافقین کے حوالے سے بھی واضح کی ہے۔ منافقین بھی منکرین حق کا ایک گروہ تھا جو بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے گروہ میں شامل ہو کردرحقیقت ان کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں مصروف تھا۔ بظاہر ایمان لے آنے کی وجہ سے انھیں دوسرے گروہوں کے مقابلے میں زیادہ مہلت دی گئی، تاہم اصولی طور پر وہ بھی خدا کے عذاب کے مستحق تھے اور قرآن مجید میں بار بار یہ دھمکی دی گئی کہ اگر وہ اپنی روش سے باز نہ آئے تو خدا کے قانون کے مطابق وہ بھی اہل ایمان کے ہاتھوں خدا کے عذاب کی گرفت میں آ جائیں گے:
 
لَئِن لَّمْ يَنتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِيْنَ فِیْ قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِیْ الْمَدِيْنَةِ لَنُغْرِيَنّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيْهَا إِلَّا قَلِيْلاً ۔ مَلْعُونِيْنَ أَيْْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيْلاً ۔ سُنَّةَ اللَّهِ فِیْ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِن قَبْلُ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيْلاً (الاحزاب ٣٣:٦٢)
لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں سزا دینے کی کوئی صریح اجازت نازل نہیں ہوئی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت تک بطور ایک گروہ کے متحرک ہونے کے باوجود ان کے خلاف کسی قسم کا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ اہل ایمان قرآن کے الفاظ میں 'وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِکُمْ أَن يُصِيْبَکُمُ اللّهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِندِهِ أَوْ بِأَيْْدِيْنَا' (توبه ٩:٥٢) کی کیفیت میں اس کے منتظر رہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کب اس کی اجازت ملتی ہے۔ چنانچہ آپ کی وفات کے موقع پر سیدنا عمر کو اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں اسی لیے تردد پیش آیا تھا کہ منافقین کے اس گروہ پر عملاً یہ سزا ابھی تک نافذنہیں ہوئی تھی اور چونکہ اس کا فیصلہ وحی ہی کی بنیاد پر کیا جا سکتا تھا، اس لیے ان کے خیال میں منافقین کو ان کے انجام سے دوچار کیے بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف نہیں لے جا سکتے تھے۔ انھوں نے اس موقع پر کہا:
 
والله ما مات رسول الله صلی الله عليه وسلم ولا يموت حتی يقطع ايدی اناس من المنافقين کثير وارجلهم (دارمی، رقم ١٦١٦)
''بخدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا اور جب تک آپ منافقین میں سے بہت کے ہاتھ پاؤں نہ کاٹ لیں، آپ کا انتقال نہیں ہو سکتا۔''
 
اس موقع پر سیدنا عمر اور عمومی طور پر صحابہ کی جماعت کو یہی اشکال اپنی اس ذمہ داری کے حوالے سے بھی پیش آیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں 'شہادت علی الناس' کے منصب پر فائز کر کے جزیرہ عرب سے باہر کی اقوام پر اتمام حجت کرنے کے ضمن میں ان پر عائد کی تھی۔ طبری کی روایت ہے:
 
لما بويع ابوبکر فی السقيفة وکان الغد جلس ابوبکر علی المنبر فقام عمر فتکلم قبل ابی بکر فحمد الله واثنی عليه بما هو اهله ثم قال ايها الناس انی قد کنت قلت لکم بالامس مقالة ما کانت الا عن رايی وما وجدتها فی کتاب الله ولا کانت عهدا عهده الی رسول الله صلی الله عليه وسلم ولکنی قد کنت اری ان رسول الله سيدبر امرنا حتی يکون آخرنا (الکامل فی التاريخ ٣/٢١٠)
''جب سقیفہ بنی ساعدہ میں ابوبکر کی بیعت کر لی گئی اور اگلا دن ہوا تو ابوبکر آکر منبر پر بیٹھ گئے۔ ابوبکر کے بات کرنے سے پہلے عمر اٹھے اور انہوں نے گفتگو کی۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرنے کے بعد انہوں نے کہا: اے لوگو، کل میں نے تم سے ایک بات کہی تھی جو سراسر میری اپنی رائے تھی۔ نہ میں نے اس کو کتاب اللہ میں پایا اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ایسا کوئی وعدہ کیا تھا۔ بس میرا خیال یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے امور کی دیکھ بھال کرتے رہیں گے اور ہم سب کے دنیا سے جانے کے بعد ہی آپ کا انتقال ہوگا۔''
 
ابن حبان کی روایت ہے:
اما بعد فانی قد قلت لکم امس مقالة لم تکن کما قلت وانی والله ما وجدتها فی کتاب انزله الله ولا فی عهد عهده الی رسول الله صلی الله عليه وسلم ولکنی کنت ارجو ان يعيش رسول الله صلی الله عليه وسلم حتی يدبرنا يقول حتی يکون آخرنا فاختار الله جل وعلا لرسوله الذی عنده علی الذی عندکم (ابن حبان، رقم ٦٦٢٠۔ مصنف عبد الرزاق، رقم ٩٧٥٦)
''اما بعد! میں نے کل تم سے ایک بات کہی تھی جو حقیقت میں اس طرح نہیں تھی جیسے میں نے کہی۔ بخدا میں نے وہ نہ تو اللہ کی اتاری ہوئی کتاب میں پائی اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ارشاد میں جو آپ نے مجھ سے فرمایا ہو۔ البتہ مجھے یہ توقع تھی کہ نبی صلی للہ علیہ وسلم ہمارے معاملات کی تدبیر کے لیے زندہ رہیں گے، یعنی ہم سب کے بعد دنیا سے رخصت ہوں گے، لیکن اللہ نے اپنے رسول کے لیے تمھارے قرب کے بجائے اپنے قرب کو پسند کیا۔''
 
بعد میں ایک موقع پر انھوں نے عبد اللہ بن عباس کے سامنے قرآن مجید میں اپنے اس استنباط کا ماخذ بھی بیان کیا۔ ابن عباس بیان کرتے ہیں :
 
والله انی لامشی مع عمر فی خلافته وهو عامد الی حاجة له وفی يده الدرة وما معه غيری قال وهو يحدث نفسه ويضرب وحشی قدمه بدرته قال اذ التفت الی فقال يابن عباس هل تدری ما حملنی علی مقالتی هذه التی قلت حين توفی الله رسوله؟ قال قلت لا ادری يا امير المومنين انت اعلم قال والله ان حملنی علی ذلك الا انی کنت اقرا هذه الآية (وکذلك جعلناکم امة وسطا لتکونوا شهداء علی الناس ويکون الرسول عليکم شهيدا) فو الله انی کنت لاظن ان رسول الله سيبقی فی امته حتی يشهد عليها بآخر اعمالها فانه للذی حملنی علی ان قلت ما قلت (الکامل فی التاريخ، ٣/٢١١)
''بخدا، ایک دن میں سیدنا عمر کی خلافت کے زمانے میں ان کے ساتھ چل رہا تھا اور وہ اپنے کسی کام سے جا رہے تھے اور درہ انہوں نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا اور میرے علاوہ ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ وہ اپنے آپ سے باتیں کیے جاتے تھے اور اپنا درہ اپنے دائیں پاؤں پر مارتے جاتے تھے۔ اچانک میری طرف پلٹے اور کہنے لگے، اے ابن عباس! کیا تمھیں پتہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر میں نے جو بات کہی، اس کا سبب کیا تھا؟ میں نے کہا، اے امیر المومنین، مجھے پتہ نہیں، آپ بہتر جانتے ہیں ۔ انہوں نے کہا، بخدا! اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ میں قرآن مجید میں جب یہ آیت پڑھتا تھا کہ 'وکذلك جعلناکم امة وسطا لتکونوا شهداء علی الناس ويکون الرسول عليکم شهيدا' تو اس کا مطلب میں یہ سمجھتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے مابین موجود رہیں گے اور اس بات کے گواہ بنیں گے کہ اس امت نے اپنی ذمہ داری کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔ بس یہی چیز تھی جس نے مجھے وہ بات کہنے پر آمادہ کیا جو میں نے اس موقع پر کہی۔''
 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر یہ رویہ نہ صرف سیدنا عمر کا تھا بلکہ صحابہ کا عمومی رد عمل بھی یہی تھا۔ ابوسلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں :
 
اقتحم الناس علی النبی صلی الله عليه وسلم فی بيت عائشة ينظرون اليه فقالوا: کيف يموت وهو شهيد علينا ونحن شهداء علی الناس فيموت ولم يظهر علی الناس؟ لا والله ما مات ولکنه رفع کما رفع عيسی بن مريم صلی الله عليه وسلم وليرجعن وتوعدوا من قال انه مات ونادوا فی حجرة عائشة وعلی الباب: لا تدفنوه فان رسول الله صلی الله عليه وسلم لم يمت (ابن سعد، الطبقات الکبری، ٢/٢٧١)
''ام المومنین عائشہ کے حجرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لیے لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا اور انہوں نے کہا کہ آپ کیسے انتقال کر سکتے ہیں جبکہ آپ ہم پر گواہ ہیں اور ہمیں لوگوں پر گواہ بنایا گیا ہے؟ تو کیا لوگوں پر غلبہ قائم ہونے سے پہلے ہی آپ وفات پا گئے؟ بخدا نہیں، آپ کا انتقال نہیں ہوا، بلکہ آپ کو اسی طرح کچھ عرصے کے لیے اٹھایا گیا ہے جیسے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو اٹھایا گیا، اور آپ لازماً واپس آئیں گے۔ اور انہوں نے ان لوگوں کو ڈانٹنا شروع کر دیا جو کہہ رہے تھے کہ آپ کا انتقال ہو گیا ہے۔ انہوں نے ام المومنین کے حجرے میں اور دروازے پر یہ اعلان کیا کہ آپ کو دفنانا مت، کیونکہ آپ کا انتقال نہیں ہوا۔''
 
چونکہ 'شہادت علی الناس' کے منصب کی رو سے صحابہ کرام پر دنیا کی اقوام کے سامنے حق کی گواہی دینے اور ان پر اسلام کا غلبہ قائم کرنے کی ذمہ داری عائد کی گئی تھی اور یہ عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے مطابق ایک مخصوص جغرافیائی دائرے میں ایک محدود مدت کے اندر پایہ تکمیل کو پہنچنا تھا، اس لیے صحابہ کا خیال یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن قوموں کے سربراہوں کو خطوط لکھ کر ان پر حجت تمام کر دی اور 'شہادت علی الناس' کی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے ان کے خلاف جنگ کا اقدام کرنے کی اجازت دے دی ہے، اسے خود اپنی زندگی میں اور اپنی نگرانی میں مکمل کرائیں گے، لیکن آپ کی وفات سے یہ بات ان پر واضح ہوئی کہ ان کا یہ استنباط درست نہیں تھا۔ اس سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی اہل ایمان کو بھی منکرین حق کے خلاف قتال کا حق انسانی دائرہ میں اختیار میں نہیں، بلکہ خدا کے دیے ہوئے اذن کے تحت خدا ہی کے نامزد کردہ گروہوں کے خلاف دیا گیا تھا اور منکرین حق کے خلاف اقدام کے حوالے سے انسانی دائرہ اختیار کی تحدید اور خدا کے اذن کی شرط صحابہ کرام پر پوری طرح واضح تھی۔
 
اوپر کی سطور میں ہم نے جو بحث کی ہے، اس سے فقہا اور مفسرین کے اس عام نقطہ نظر کی غلطی بھی واضح ہو جاتی ہے جس کی رو سے منکرین حق کے خلاف قتال کے احکام نازل ہونے کے بعد وہ تمام نصوص جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دینی ذمہ داری کو ابلاغ وتبلیغ تک محدود قرار دیا یا محارب وغیر محارب کفار کے مابین فرق کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، کالعدم اور منسوخ قرار پا گئی ہیں اور اب اہل ایمان کی دینی وشرعی ذمہ داری کی تعیین وتحدید میں ان کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔ ہم نے واضح کیا ہے کہ یہ ہدایات عام انسانی اخلاقیات کے دائرے میں اہل ایمان کی ذمہ داری اور اس کے حدود کا تعین کرتی ہیں اور اس دائرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان اول وآخر اسی کے پابند تھے کہ دین کے معاملے میں کسی فرد یا گروہ تک حق کا پیغام پہنچا دینے کے بعد اس کے ساتھ جبر واکراہ کا طریقہ ہرگز اختیار نہ کریں، نیز اہل ایمان کے دشمن گروہوں اور غیر جانب دار کفار کے مابین فرق کو ملحوظ رکھیں اور اگر کوئی گروہ مسلمانوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہے تو اس کے ساتھ بر وقسط ہی کا معاملہ کیا جائے، بلکہ اگر کوئی گروہ میدان جنگ میں آ جانے کے باوجود مسلمانوں کے خلاف قتال پر آمادہ نہیں بلکہ صلح کی طرف مائل ہے تو اس کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ عمومی انسانی اخلاقیات کے دائرے میں ان ہدایات میں کوئی نسخ واقع نہیں ہوا، بلکہ پوری طرح محکم اور قیامت تک کے لیے قابل عمل ہیں ۔ صحابہ اور تابعین کے ہاں حکم کے اس تغیر کے لیے 'نسخ' کی تعبیر اختیار کی گئی ہے جو لفظ کے لغوی اور ظاہری مفہوم کے لحاظ سے درست ہے، لیکن اس کو متاخرین کے اصطلاحی مفہوم یعنی ''حکم کے بالکلیہ ازالہ'' کے اعتبار سے نسخ نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ 'نسخ' کا معنی کسی حکم کو اپنی اصل اساس کے اعتبار سے کالعدم قرار دینے یا اس میں تخصیص وتحدید پیدا کر دینا ہے۔ اس اعتبار سے دین میں جبر واکراہ کی نفی کرنے اور کفارکے ساتھ مصالحانہ تعلقات کی اجازت دینے والے نصوص 'نسخ' کے دائرے میں آ ہی نہیں سکتے، اس لیے کہ وہ ایک اخلاقی اصول پر مبنی ہیں جن میں نسخ واقع نہیں ہو سکتا۔ یہ درحقیقت ایک مخصوص صورت حال میں ایک اخلاقی اصول پر دوسرے اخلاقی اصول کی ترجیح کا مسئلہ ہے جس سے پہلے اخلاقی اصول کے فی نفسہ کالعدم قرار پانے کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
 
یہ ایسے ہی ہے جیسے مثال کے طور پر سیدنا خضر نے خدا کے حکم پر ایک بے گناہ بچے کو قتل کر دیا۔ جہاں تک عام انسانی اخلاقیات کا تعلق ہے، وہ اس کا فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں تھے اور سیدنا موسیٰ نے اسی بنا پر ان کے اس عمل پر اعتراض کیا تھا، لیکن خدا کی طرف سے اس لڑکے کو قتل کرنے کا حکم ملنے کے بعد ان کے لیے عام اخلاقی اصول کے بجائے خدا کے حکم کی پیروی کرنا لازم ہو گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس سے ایک عمومی اخلاقی اصول کے طور پر قتل نفس کی حرمت پر کوئی زد نہیں پڑی۔ یہ حرمت اپنی جگہ پہلے کی طرح برقرار رہی اور سیدنا خضر اس لڑکے کے علاوہ دوسرے انسانوں کے حوالے سے اسی کے پابند تھے۔ بالکل یہی معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد انکار حق پر قائم رہنے والے گروہوں کاتھا۔ عام انسانی اخلاقیات کی رو سے مسلمان ان میں سے صرف ان گروہوں کے خلاف جنگ کا اختیار رکھتے تھے جو فتنہ وفساد کے مرتکب ہوں ۔ ان کے علاوہ باقی گروہوں کے خلاف انھیں کوئی اقدام کرنے کا حق حاصل نہیں تھا اور نہ صرف یہ کہ وہ اپنی مصلحت کے لحاظ سے ان میں سے جس گروہ کے ساتھ مصالحانہ تعلقات قائم کرنا چاہتے، کر سکتے تھے بلکہ ان میں سے جو گروہ ان کے ساتھ بر وقسط کا رویہ اپناتے، ان کے ساتھ بر وقسط ہی کا معاملہ کرنے کے پابند بھی تھے۔ تاہم جب اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کے تحت یہ فیصلہ فرمایا کہ پیغمبر کی طرف سے حجت تمام کر دیے جانے کے باوجود جن گروہوں نے کفر پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا ہے، وہ خدا کے عذاب کے مستحق ہیں جو خدا نے اہل ایمان کی تلواروں کے ذریعے سے ان پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو اب اہل ایمان خدا کے اس فیصلے کے تحت، نہ کہ عمومی اخلاقی اصولوں کے فی نفسہ منسوخ ہو جانے کی وجہ سے، اس کے پابند تھے کہ کفارکے ساتھ مصالحانہ تعلقات کوختم کر کے ان کے ساتھ جنگ کریں اور ان میں جس گروہ کے لیے خدا نے قتل یا محکومی کی صورت میں جو سزا مقرر کی ہے، وہ کسی رو رعایت کے بغیر اس پر نافذ کر دیں ۔ یہ حکم اللہ تعالیٰ کے ایک خصوصی قانون پر مبنی تھا جس کے مطابق وہ اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے اتمام حجت کے بعد منکرین حق کو قتل واسارت یا محکومی کی صورت میں ان کے کفر کی سزا دیتا ہے۔ یہ معاملہ سر تا سر اللہ کے فیصلے اور اس کے اذن پر منحصر ہوتا ہے اور اس میں کسی انسان کو اپنے تئیں کوئی فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس پرامن اور صلح جو کفار کے ساتھ مصالحانہ تعلقات کی اجازت عام انسانی اخلاقیات پر مبنی ہے اور اس دائرے میں اس میں کوئی نسخ واقع نہیں ہوا بلکہ وہ شریعت کے ایک محکم حکم کی حیثیت رکھتی ہے۔
 
گزشتہ صفحات میں ہم نے عہد نبوی وعہد صحابہ میں جہاد وقتال کے مختلف پہلووں پر جو بحث کی ہے، اس کا حاصل درج ذیل نکات کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے:
 
١۔ منصب رسالت پر فائز کوئی ہستی جب کسی قوم میں مبعوث کر دی جاتی ہے تو اس فیصلے کے ساتھ کی جاتی ہے کہ رسول اور اس کے پیروکار اپنے مخالفوں پر بہرحال غالب آ کر رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جزیرہ نماے عرب میں مبعوث کیا گیا تو اس سنت الٰہی کے مطابق یہ دوٹوک اعلان کر دیا گیا کہ آپ کی مخالفت کرنے والے تمام مذاہب کے پیروکاروں کے لیے مغلوبیت اور محکومیت مقدر ہو چکی ہے۔
 
٢۔ اس غلبے کے حصول کی حکمت عملی میں دعوت وتبلیغ کے ساتھ ساتھ 'جہاد وقتال' بھی ایک لازمی عنصر کے طور پر شامل تھا، چنانچہ یہ ہدف 'ويکون الدين لله' کے الفاظ میں آغاز ہی میں واضح کر دیا گیا تھا۔ البتہ اس وعدے کا عملی ظہور دو مرحلوں میں ہوا۔ جزیرہ عرب کی حد تک تو اس دین کو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں غالب کر دیا گیا، چنانچہ مدنی عہد نبوت میں غلبہ دین کی جدوجہد مختلف ادوار سے گزرنے کے بعد جب اپنے آخری مراحل کو پہنچی تو باطل ادیان پر دین حق کے غلبہ کی دو صورتیں متعین طور پر واضح کر دی گئیں ۔ مشرکین کے لیے تو لازم کیا گیا کہ وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو جائیں، ورنہ انھیں قتل کر دیا جائے گا، جبکہ اہل کتاب سے کہا گیا کہ وہ جزیہ دے کر مسلمانوں کی محکومی اور زیردستی قبول کر لیں ۔ جزیرہ عرب سے باہر روم، فارس اور مصر کی سلطنتوں تک اس غلبے کی توسیع کی ذمہ داری صحابہ کرام پر عائد کی گئی جنھیں اس مقصد کے لیے 'شہادت علی الناس' کے منصب پر فائز کیا گیا تھا۔
 
٣۔ قانون رسالت کی رو سے پیغمبر کی مخاطب اقوام پر مذکورہ سنت الٰہی کا نفاذ خدا کے براہ راست اذن کے تحت کیا جاتا ہے اور اس میں انسانوں حتیٰ کہ پیغمبروں کے اجتہادی فیصلے کا بھی کوئی دخل نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ رسول اور اس کے پیروکاروں کا یہ غلبہ پوری دنیا کی قوموں پر نہیں، بلکہ ان مخاطبین پر ہوتا ہے جن پر اتمام حجت کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا نافذ کرنے کا اذن مل جاتا ہے۔ اس اصول کے تحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین نے جو جہاد کیا، وہ غلبہ دین کے اسی وعدے کی تکمیل کے لیے اور انھی اقوام تک محدود تھا جن کے خلاف اقدام کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی تھی اور جن کی تعیین نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سربراہوں کو خطوط لکھ کر، کر دی تھی۔ چنانچہ اسلامی تاریخ کے صدر اول میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروکاروں کے ہاتھوں جزیرہ عرب اور روم وفارس کی سلطنتوں پر دین حق کا غلبہ قائم ہو جانے کے بعد غلبہ دین کے لیے جہاد وقتال کے حکم کی مدت نفاذ خود بخود ختم ہو چکی ہے۔ یہ شریعت کا کوئی ابدی اور آفاقی حکم نہیں تھا اور نہ اس کا ہدف پوری دنیا پر تلوار کے سائے میں دین کا غلبہ اور حاکمیت قائم کرنا تھا۔ اس کے بعد قیامت تک کے لیے جہاد وقتال کا اقدام دین کے معاملے میں عدم اکراہ اور غیر محارب کفار کے ساتھ جنگ سے گریز کے ان عمومی اخلاقی اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی کیا جائے گا جو قرآن مجید کے نصوص میں مذکور ہیں ۔
 
ــــــــــــــــــــــــــــــ
1- البتہ 'لا اکراه فی الدين' اور اس کے ہم معنی نصوص سے، جو اصلاً تکوینی جبر واکراہ کی نفی کے بیان کے لیے آئی ہیں، التزامی طور پر یہ استدلال یقینا درست ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت کے بغیر کسی انسان کو دین کے معاملے میں کسی دوسرے انسان پر جبر واکراہ کا حق حاصل نہیں ۔ چنانچہ بعض روایات میں اس آیت کی جو شان نزول بیان ہوئی ہے، اس سے آیت سے اخذ ہونے والے اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ انصار میں یہ رواج تھا کہ اگر کسی عورت کے بچے پیدایش کے بعد فوت ہو جاتے تو وہ منت مان لیتی کہ اگر میرا کوئی بچہ زندہ رہا تو میں اسے یہودی مذہب کا پیروکار بناؤں گی۔ اس طرح انصار کے کئی بچے یہودیوں کی سرپرستی میں رہتے تھے۔ جب بنو نضیر کو مدینہ منورہ سے جلا وطن کیا گیا تو انصار نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو ان کے ساتھ نہیں جانے دیں گے۔ ہم نے تو ان کو اس وقت یہودی مذہب کا پیروکار بنایا تھا جب ہم سمجھتے تھے کہ ان کا دین ہمارے دین سے بہتر ہے۔ اب جب اسلام آ چکا ہے تو ہم انھیں اسلام کی پیروی پر مجبور کریں گے۔ اس پر قرآن مجید میں لا اکراہ فی الدین کا حکم نازل ہوا اور کہا گیا کہ ان میں سے جو یہودیوں کے ساتھ جانا چاہے، چلا جائے اور جو یہودی مذہب چھوڑ کر وہیں رہنا چاہے، رہ جائے۔ (تفسیر الطبری، ٣/١٠)
 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بعض مواقع پر اسی تناظر میں اس آیت کا حوالہ دینا منقول ہے۔ روایت ہے کہ جب ابو الحصین انصاری کے دو بیٹے نصرانی ہو کر شام چلے گئے تو انھوں نے یہ معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار کیا اور کہا کہ آپ ان کوپیغام دے کر واپس بلوائیں ۔ آپ نے فرمایا: لا اکراه فی الدين۔ (الاصابہ، ترجمہ ابو حصین الانصاری، ١/٢٣٣، ٣/٣٠٨۔ اسد الغابہ، ٣/١٦٠)
 
'طبقات المحدثین باصبہان' کے مصنف عبد اللہ بن محمد بن جعفر انصاری کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان فارسیؓ کی درخواست پر ان کے اہل خاندان کے نام جو امان نامہ لکھوایا، اس میں فرمایا کہ:
 
من آمن بالله وبرسله کان له فی الآخرة ترعة الفائزين ومن اقام علی دينه ترکناه ولا اکراه فی الدين (طبقات المحدثين باصبهان ١/٢٣٢)
 
بعض آثار میں سیدنا عمر سے بھی آیت کو اس مفہوم پر محمول کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔ مثلاً ان کے غلام وسق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر نے مجھے اسلام قبول کرنے کی ترغیب دی، لیکن میں نے انکار کر دیا۔ اس پر انھوں نے فرمایا کہ لا اکراه فی الدين۔ پھر جب ان کی وفات کا وقت قریب آ گیا تو انھوں نے مجھے آزاد کر دیا۔ (ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، ٦/١٥٨۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ١٢٥٥٠) ایک موقع پر انھوں نے ایک معمرمسیحی خاتون کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ اس نے کہا کہ کیا میں موت کے قریب پہنچ کر اپنامذہب چھوڑ دوں ؟ اس پر سیدنا عمر نے فرمایا کہ لا اکراه فی الدين۔ (نحاس، الناسخ والمنسوخ ١/١٩١)
 
اسی طرح شام کی فتوحات میں مسلمانوں کے جرنیل عیاض بن غنم نے مریم الداریۃ کے نام خط میں لکھا:
 
ولسنا نکرهك علی فراق دينك ولا احدا من اهل بلدتك قال الله تعالیٰ لا اکراه فی الدين (واقدی، فتوح الشام ١/٣٧٦)
''ہم تمھیں یا تمھارے شہر کے لوگوں میں سے کسی کو اپنا دین چھوڑنے پر مجبور نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ۔''
________________________
 
:مصنف

View My Stats
Copyright 2014 © Al-Mawrid. Al rights Reserved.