ائمہ اصول کی اصطلاح میں قطعیت احتمال کی نفی ہےـ۔ دلالت الفاظ کی بحث میں یہ لفظ دو معنی کے لیے بولا جاتا ہے:ایک، جب سرے سے احتمال نہ ہو۔ دوسرے، جب احتمال کی بنا جس دلیل پر رکھی جائے، وہ ناقابل التفات ہو۔ پہلے معنی کی مثال محکم اور متواتر ہیں او ردوسرے معنی کے لیے وہ ظاہر، نص اور خبر مشہور کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں*۔ استاذ مخلوف نے''الموافقات'' پر اپنی تعلیقات میں لکھا ہے:
يستعمل القطع فی دلالة الالفاظ فياتی علی نوعين: اولهما الجزم الحاصل من النص القاطع، وهو ما لايتطرقه احتمال اصلًا... ثانيهما العلم الحاصل من الدليل الذی لم يقم بازائه احتمال يستند الی اصل يعتد به ، و لايضره الاحتمالات المستندة الی وجوه ضعيفة او نادرة.(الموافقات، الشاطبی ١/١٣)
''یہ لفظ جب دلالت الفاظ کے باب میں استعمال کیا جاتا ہے تو دو صورتوں کے لیے آتا ہے: ایک اُس جزم کے لیے جو نص قطعی سے حاصل ہوتاہے، یعنی وہ نص جس میں سرے سے احتمال کی گنجایش نہ ہو... دوسرے اُس علم کے لیے جو اُس دلیل سے حاصل ہوتا ہے جس کے مقابل میں کوئی ایسا احتمال نہ ہو جس کی بنا قابل لحاظ سمجھی جائے۔ نادر اور کمزور وجوہ پر مبنی احتمالات اُس پر اثرانداز نہیں ہوتے۔''
اِسی قطعیت کو علم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اُس کی تعریف ہی یہ کی جاتی ہے کہ علم اُس صفت سے عبارت ہے جس سے حقائق میں ایسا امتیاز حاصل ہو جائے کہ نقیض کا احتمال نہ رہے۔ قرآن جب اپنے بارے میں کہتا ہے کہ وہ 'العلم' اور 'الحق' ہے یا اپنے اندر تضادات کی نفی کرتا ہے تو اِسی حقیقت کا اعلان کرتا ہے۔ اِس کے مقابل میں لفظ ظن ہے۔ اِس میں احتمال کی نفی ممکن نہیں ہوتی ، صرف ایک احتمال کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ بعض کم سواد یہ سمجھتے ہیں کہ ہر وہ علم جو غور و تفحص سے حاصل کیا جائے یا اُس میں غلطی کا امکان مان لیا جائے، وہ ظنی ہوتا ہے۔ہرگز نہیں، غور و تفحص سے حاصل ہونے والے علم کو نظری کہا جاتا ہے جو قطعی بھی ہوتا ہے اور ظنی بھی۔ چنانچہ اُس کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ 'هو الفکر الذی يطلب به من قام به علمًا او ظنًا'۔ آمدی نے مزید وضاحت کی ہے کہ 'هو عام للنظر المتضمن للتصور و التصديق، والقاطع و الظنی'*۔رہا غلطی کا امکان تو یہ محسوسات اور تجربیات تک میں مانا جا سکتا ہے، اِس لیے کہ انسان جب تک انسان ہے، غلطی سے مبرا نہیں ہو سکتا۔ ائمہ اصول کی اصطلاح میں ظنی الدلالۃ کی تعبیر اِس کے لیے نہیں، بلکہ اُس کلام کے لیے اختیار کی جاتی ہے جس میں نقیض کا احتمال مان لیا جائے، یعنی تسلیم کر لیا جائے کہ ترجیح، بے شک اُسی مفہوم کی ہے جو 'هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ' سے بالعموم سمجھا جاتا ہے، لیکن اِس جملے کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اللہ ایک نہیں ہے ۔ اِس طرح کا احتمال ہے جو کسی کلام کو ظنی الدلالۃ بناتا ہے۔ رہے یہ احتمالات کہ 'هُوَ' مبتدا ہے اور لفظ 'اَللّٰهُ' اُس کی خبر ہے اور 'اَحَدٌ' دوسری خبر یا 'هُوَ' ضمیر الشان ہے اور 'اللّٰهُ اَحَدٌ' مبتدا اور خبر ہیں تو یہ مدعا کے احتمالات نہیں ہیں، تالیف کے احتمالات ہیں جو کلام کی قطعیت پر اثرانداز نہیں ہوتے۔ یہی معاملہ اُن اختلافات کا ہے جو ہم ائمہ سلف کے تفسیری اقوال میں دیکھتے ہیں۔ امام ابن تیمیہ نے اپنے ''مقدمة فی التفسير'' میں بالکل صحیح لکھا ہے:
فان منهم من يعبر عن الشيئ بلازمه او بنظيره، و منهم من ينص علی الشيئ بعينهٖ، و الکل بمعنی واحد فی اکثر الاماکن، فليتفطن اللبيب لذالك. (تفسير القرآن العظيم، ابن کثير ١/١٠)
''(یہ) اِس لیے(محسوس ہوتے ہیں) کہ اُن میں سے کوئی شے کو اُس کے لازم یا اُس کی نظیر سے تعبیر کر دیتا ہے اور کوئی کسی چیز کو بعینہٖ بیان کرتا ہے ، لیکن معنی میں اختلاف نہیں ہوتا، وہ اکثر مقامات میں ایک ہی ہوتے ہیں۔ یہ بات ہر عاقل کو سمجھ لینی چاہیے۔''
چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ لفظ قطعیت کے جو معنی اوپر بیان ہوئے ہیں، قرآن کی تمام آیات اُنھی میں محصور ہیں۔ زیادہ تر آیتوں میں سرے سے کوئی احتمال نہیں ہے، اِس لیے کہ اُن کے الفاظ ہی اُن کی تفسیر ہیں اور اُن میں نسخ، تخصیص یا تبدیلی اور تغیر کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔اِن کے علاوہ جتنی آیتیں ہیں، اُن کی تعداد انتہائی قلیل ہے۔ تمام احتمالات اُنھی میں پیدا کیے جاتے ہیں۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ محل تدبر ہیں اور تدبر کا حق ادا نہ کیا جائے تو مدعا مخفی رہ جاتا ہے۔ لیکن اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ حق ادا کیا جائے تو دلیل روز روشن کی طرح واضح کر دیتی ہے کہ اُس کے مقابل میں کوئی ایسا احتمال نہیں ہے جسے 'يستند الٰی اصل يعتد به'*قرار دیا جا سکے۔ دور حاضر میں قرآن کے جلیل القدر عالم او رمحقق امام حمید الدین فراہی نے اِسی بنا پر فرمایا ہے کہ قرآن میں ایک سے زیادہ تاویلات کا احتمال نہیں ہوتا۔ وہ قطعی الدلالۃ ہے۔ یہ محض قلت علم اور قلت تدبر ہے جو اختلافات کا باعث بن جاتی ہے۔ قرآن کے طالب علموں کو متنبہ رہنا چاہیے کہ اُس کی تمام معنی آفرینی اِسی قطعیت کی تلاش میں پنہاں ہے۔ اُن کے یقین و اذعان کو اِس پر کبھی متزلزل نہیں ہونا چاہیے۔
ـــــــــــــــــــــــــ
* التوضيح و التلويح، ابن مسعود الحنفی،مسعود بن عمر التفتازانی ١/ ٢٤٢۔ کشاف اصطلاحات الفنون، التهانوی ٢/١٢٠٠۔
* اِن تمام تعریفات اور مباحث کے لیے دیکھیے: الاحکام فی اصول الاحکام، الآمدی١/١٠۔ کشاف اصطلاحات الفنون، التهانوی٢/١٣٨٦۔
* یعنی ایسا احتمال جس کی بنا قابل لحاظ ہو۔