مضامین

24-Feb-2011 :تاریخ اشاعت
758 :ہٹس

شریعت کا مطالعہ ــ ہمارا نقطہ نظر

 

دین اسلام میں شریعت یا قانون کی غیر معمولی اہمیت ہے۔قرآن مجید نے قانون خداوندی کی تعلیم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بنیادی مقاصد میں سے قرار دیا ہے۔ ارشاد ہے:
''وہی ذات ہے، جس نے ان امیوں میں، انھی میں سے ایک رسول بھیجا ہے جو انھیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا اور اس طرح ان کا تزکیہ کرتا ہے اور (اس کے لیے) انھیں اللہ کے قانون اور حکمت خداوندی کی تعلیم دیتا ہے۔'' ١
 
اسلامی شریعت کی اسی اہمیت کے پیش نظر تاریخ کے اوراق میں ابن عمر، ابن عباس، ابن مسعود رضی اللہ عنہم، سعید بن جبیر، سعید بن مسیب، ابوحنیفہ، مالک، شافعی، ابن حنبل اور ابن تیمیہ رحمہم اللہ جیسے جلیل القدر لوگ، محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے سکھائے ہوئے اس قانون کا درس دیتے نظر آتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ لوگ نخل فطرت کے بہترین ثمر ہیں۔ علم وتقویٰ کے معاملے میں یہ اس مقام پر کھڑے ہیں جس تک رسائی آج ہمارے لیے ماوراے تصور ہے۔ ان بزرگوں کے سامنے ہمیں اپنی بے مائیگی کا پورا پورا احساس ہے۔
 
مگر یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دین کی آخری حجت اب اس زمین پر صرف اور صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے۔ دین، اب صرف اسی چیز کو کہا جاسکتاہے جسے آپ نے دین قرار دیا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
''آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور دین کی حیثیت سے تمھارے لیے اسلام کو پسند کرلیا ہے۔'' ٢
 
چنانچہ، اس تکمیل کے بعد اب رہتی دنیا تک صرف قرآن مجید اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی کو دین کی حیثیت حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ جوکچھ ہے، وہ خواہ کسی صحابی کا قول ہو، کسی عالم کی راے ہو، کسی فقیہ کا فتویٰ ہو یا کسی مجتہد کا اجتہاد، ظاہر ہے، قرآن وسنت کی سند کے بغیر اسے دین قرار نہیں دیا جا سکتا۔
 
چنانچہ، ہمارے ان بزرگوں نے نہ کبھی معصوم عن الخطا ہونے کا دعویٰ کیا اور نہ اس تحکم کے ساتھ اپنی بات ہی پیش کی کہ جو کچھ وہ کہہ دیں، اسی کو دین کی حیثیت سے مان لیا جائے۔ اس کے برعکس، واقعہ یہ ہے کہ وہ اپنی ہر بات دلائل ہی کی بنیاد پر پیش کرتے اور دلائل ہی کی بنیاد پر منواتے ہیں۔ بالبداہت واضح ہے کہ اس طریق کار میں ہمیں یہ حق حاصل ہوجاتا ہے کہ جہاں ہمیں ان کے دلائل مضبوط نظر آئیں، وہاں ہم ان کی بات مان لیں اور کسی معاملے میں ، اگر ہمیں ان کے دلائل کمزور محسوس ہوں تو ہم ان سے اختلاف کریں۔ علم کی دنیا میں اس چیز کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے کہ بات کس نے کہی، یہاں اصلاً یہ دیکھا جاتا ہے کہ بات کیا ہے اور کس بنیاد پر کہی گئی ہے۔
 
خدا گواہ ہے کہ اس کی رحمت ورأفت ہی کے سہارے ہم شریعت اسلامی پر اپنی تحقیقات پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ دعویٰ ہرگز نہیں کہ ہماری بات ہی صحیح ہے۔ ہم نے اپنی راے دلائل ہی کی بنیاد پر قائم کرنے اور اپنی بات دلائل ہی کی بنیاد پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ اب اختلاف ہم سے نہیں ہمارے دلائل سے ہوگا، اور جب دلیل کی بنیاد پر یہ اختلاف ہوگا تو یقینا ہمارے دلائل کی کمزوری ہم پر بھی واضح ہوجائے گی۔ اگر بات سمجھ میں آگئی تو ہمیں، ان شاء اللہ، اپنی راے سے رجوع کر لینے میں ہرگز کوئی تامل نہ ہوگا۔
 
اسلامی شریعت سے متعلق ہم یہاں چند باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں: ایک یہ کہ قرآن مجید یا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے والی بات ہی شریعت کی حیثیت سے پیش کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی چیز شریعت اسلامی کا حصہ نہیں ہے۔ یہ ایک نہایت اہم بات ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ معاملات، خواہ فرد سے متعلق ہوں یا ریاست سے، ان میں شریعت بس اتنی ہی ہے جس کی تعلیم قرآن وسنت سے ہمیں ملتی ہے۔ اس کے بعد انفرادی معاملات میں ہرفرد اور اجتماعی معاملات میں ریاست کی سطح پر بنائے گئے ادارے شریعت کے مقرر کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے اجتہاد اور تفصیلی قانون سازی کریں گے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ دو افراد کے مابین یہ اجتہاد، اور مختلف ادوار میں، ایک ہی اسلامی ریاست کا تفصیلی قانون مختلف ہو۔ مزیدبراں یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تمام مختلف اجتہاد اور قوانین شریعت اسلامی کے عین مطابق ہوں، مگر یہ بات بہرحال واضح رہے کہ یہ اجتہاد یا یہ تفصیلی قانون سازی ریاست کاقانون تو بن سکتی ہے، شریعت کا حصہ کبھی نہیں بنے گی۔ اوپر ہم نے سورہ مائدہ کی جس آیت کا ترجمہ نقل کیا ہے، اس سے ہماری اس بات کی تائید ہوتی ہے۔
 
اس سے یہ بھی معلوم ہوجاتاہے کہ جن معاملات میں قرآن مجید اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے قانون سازی کر دی ہے، ان میں اجتہاد کا کوئی مقام نہیں۔ اجتہاد کا دائرہ اگرچہ نہایت وسیع ہے، مگر یہ قرآن وسنت میں طے کردہ حدود سے آگے شروع ہوتا ہے۔ چنانچہ آج ہم اجتہاد کر کے نماز کی کوئی نئی ہیئت یا زکوٰۃ کی کوئی نئی شرح مقرر نہیں کر سکتے۔
 
دوسری بات یہ ہے کہ اسلامی شریعت 'الکتاب'اور 'الحکمۃ' یعنی قوانین اور فلسفے ،دونوں کا مجموعہ اور بہترین امتزاج ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ انسان ایک باشعور ہستی ہے۔ لہٰذا اسے اگر کسی حکم میں پائی جانے والی حکمت سمجھ میں نہ آئے تو اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ وہ پورے دل و جان سے اس حکم کی پیروی کر سکے۔ چنانچہ ناگزیر ہے کہ شریعت اسلامی کی تدوین وتبیین میں ان دونوں ہی جہتوں کاپورا پورا لحاظ کیا جائے۔
 
اس معاملے میں ہمیں پچھلی امتوں سے سبق لینا چاہیے۔ یہود کا جرم یہ تھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے قوانین کو تمام حکمتوں سے مجرد کرکے ان کے ظاہری احکام کی پابندی ہی کو دین کا منتہا بنا لیا تھا۔ ان کے برخلاف سینٹ پال نے تورات کے قوانین کاانکار کرتے ہوئے نصاریٰ کے لیے اللہ کی شریعت ہی کا انکار کردیا اور اپنے دین کو ہر قسم کے قوانین سے خالی، چند اخلاقی احکام کا مجموعہ بناڈالا۔
 
چنانچہ، جو شخص بھی شریعت اسلامی کی تدوین یا شرح کا کام کرے،اس پر، جیسا کہ ہم نے بیان کیا، لازم ہے کہ وہ اپنے بیان میں ان دونوں ہی جہتوں کا لحاظ رکھے۔ اگر اسے بیان کرنے میں، اس میں پائی جانے والی حکمت سے چشم پوشی کی گئی تو اس پر یہودیت کا غلبہ ہوجائے گا۔ اس کے برعکس، اگر اسے بیان کرنے میں قوانین کی ظاہری ہیئت کوحکمت پر قربان کیا گیا تو سینٹ پال کی نصرانیت وجود میں آجائے گی۔ اس بات کے پیش نظر بیان شریعت میں، جہاں ممکن ہو، احکام کی حکمت اور ان کے فلسفے پربھی روشنی ڈالنی چاہیے، مگر ظاہر ہے، کوئی انسان اللہ تعالیٰ کے احکام میں پائی جانے والی تمام حکمتوں کا احاطہ نہیں کر سکتا، اس وجہ سے اس معاملے میں اپنے رب کے حضور اہل ایمان کو یہی اعتراف کرنا چاہیے کہ 'سُبْحٰنَكَ لاَ عِلْمَ لَنَآ اِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا، اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِيْمُ الْحَکِيْمُ'۔٣
 
اس کے علاوہ قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے استنباط کے اصول اور طریق کار پر ان شاء اللہ ہم الگ سے تفصیلی بحث کریں گے۔
ـــــــــــــــــــــــــ
١۔  الجمعہ٦٢:٢۔'هوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّيينَ رَسُوْلاً مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِه وَيُزَکِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ'۔
٢۔  المائدہ٥:٣۔ 'اَلْيَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِيْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِيْتُ لَکُمُ الْاِسْلاَمَ دِيْنًا'۔
٣۔  البقرہ ٢:٣٢۔ ''(اے پروردگار)، تو اس سے پاک ہے (کہ کوئی غیر حکیمانہ کام کرے)، مگر ہمارا علم تو بس اتنا ہی ہے، جتنا تو نے ہمیں سکھایا۔ بے شک، تو بے انتہا علم وحکمت والا ہے۔''
 
:مصنف

View My Stats
Copyright 2013 © Al-Mawrid. Al rights Reserved.