مضامین

27-Oct-2009 :تاریخ اشاعت
655 :ہٹس

اہل ''بیعت'' کی خدمت میں: حصہ سوم

سیرت نبوی کے حوالے سے ''انقلاب بذریعہ احتجاج'' کا جو نظریہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب پچھلے دس پندرہ سال سے اپنے رسائل و جرائد اور اپنے پیرووں کی مجالس میں بڑے شد و مد سے پیش کرتے رہے ہیں، ہمیں روزنامہ ''نوائے وقت'' کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اُس نے پہلی مرتبہ اُسے قومی سطح پر بحث و مباحثہ کے لیے پیش کرنے کا موقع ڈاکٹر صاحب کو دیا، اور اِس طرح ہم طالب علموں کے لیے بھی یہ موقع پیدا کر دیا ہے کہ اِس نظریے کی غلطی اپنی قوم کے اہل دانش اور ڈاکٹر صاحب کے اُن ''اہل بیعت'' پر واضح کر سکیں جو اِسے انقلاب کا نبوی منہاج سمجھ کر اپنا نقد دل و جاں اِس کے لیے ڈاکٹر صاحب کے حضور میں پیش کر چکے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ خدا کے اِن سادہ دل بندوں کے ذہن بھی اگر اپنے امیر المومنین کی طرح اِس نظریہ انقلاب پر ''متحجر'' نہیں ہو گئے تو وہ یقینا اِسے گوش حق نیوش سے سنیں گے:

 
اے لالہ صحرائی باتو سخنی دارم
 
اِس معاملے میں ہم ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں بھی یہ عرض کرنے کی جسارت کریں گے کہ اِس طرح کی تحقیقات میں اُن کا منبع الہام اگرچہ بالعموم اُن کا شرح صدر ہوتا ہے، لیکن طوعاً و کرہاً اب اُنھوں نے دلیل و برہان کی راہ اختیار کر لی ہے تو تھوڑی دیر کے لیے اِسی میدان میں ٹھیر کر ہماری یہ معروضات بھی سن لیں۔ اُن کا شرح صدر حجت قاطع سہی، لیکن اتنی بات تو غالباً وہ بھی مانتے ہوں گے کہ:
 
گاہے گاہے غلط آہنگ بھی ہوتا ہے سروش
 
ڈاکٹر صاحب کا ارشاد ہے کہ اسلامی انقلاب کا جو منہاج اللہ تعالیٰ نے اپنی عنایت خاص سے اُن پر واضح کیا ہے، اُس کا ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اُسی کے اعماق میں اتر کر یہ گوہر نایاب اُنھوں نے اِس زمانے میں دریافت کیا ہے، اور اب وہ چاہتے ہیں کہ دنیا والوں کو بھی اپنی اِس غیر معمولی دریافت سے روشناس کریں:
 
بیا کہ جان تو سوزم ز حرف شوق انگیز
 
اِس منہاج کی تفصیل وہ اِس طرح کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو انقلاب خدا کی زمین پر برپا کیا، اُس میں آپ نے پہلے لوگوں کو اپنے نظریے کی طرف دعوت دی ؛ پھر جو لوگ اِس دعوت سے متاثر ہوئے اُن کی تعلیم و تربیت اور تزکیہ کا اہتمام کیا ؛ اِس کے بعد اُنھیں ہر ظلم و ستم کے مقابلے میں صبر محض اور بالآخر ہجرت کے مرحلے سے گزارا ؛ اور جب وہ اِس سارے عمل سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے تو اُنھیں نظام باطل کے خلاف اپنے زمانے کے حالات کے مطابق جہاد وقتال کا حکم دیا اور اِس طرح یہ انقلاب بالفعل برپا کر دیا۔
 
وہ فرماتے ہیں کہ اِس جدوجہد کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہی ہے کہ سمع و طاعت کی بنیاد پر ایک ایسی جماعت قائم کی جائے جس میں امیر کا فیصلہ حتمی حجت ہو، جس کے ارکان اُس کے اشارہ ابرو کو حکم سمجھیں اورجب وہ چاہے، اپنا تن، من، دھن اِس جدوجہد میں قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔
 
اُنھیں اصرار ہے کہ اسلامی انقلاب کی جدوجہد کے لیے اپنا لائحہ عمل اُنھوں نے اِسی منہاج نبوی کے مطابق ترتیب دیا ہے۔ ہاں، البتہ اپنی اجتہادی بصیرت سے اتنی ترمیم وہ اِس میں کرنا چاہتے ہیں کہ اِس زمانے کے حالات کے لحاظ سے آخری مرحلے میں جہا د و قتال کے بجائے اگرچہ نوبت اُس کی بھی آ سکتی ہے اب احتجاجی مظاہروں اور تحریک لاتعاون پر انحصار کرنا چاہیے۔
 
وہ اِس بات کو بالکل نہیں چھپاتے کہ اُن کا یہ انقلاب جب بھی آئے گا، قوت کے ذریعے سے آئے گا۔ اُن کے نزدیک، اِس میں اصل کی حیثیت، اُن کے اپنے الفاظ میں، جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے اصول کو حاصل ہے۔ چنانچہ وہ برملا کہتے ہیں کہ اپنی قیادت میں خدائی فوج داروں کی جو جماعت وہ تیار کر رہے ہیں، اُس نے جس دن ضروری طاقت حاصل کر لی، اُسے لے کر وہ میدان میں کود پڑیں گے، اور قوم کی اکثریت جو اُن کے بقول اکثر خاموش ہی رہتی ہے، اُن کی ہم نوا ہو یا نہ ہو، وہ اگر خدا نے چاہا تو اپنا یہ انقلاب اِسی جماعت کے ذریعے سے برپا کر دیں گے:
 
چوں پختہ شوی خود رابر سلطنت جم زن
 
اِس سب کا ماخذ اُن کے نزدیک، سیرت نبوی ہے۔ ہم اِس وقت اِس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ رسول کی حیثیت سے جو انقلاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برپا کیا، وہ قرآن و سنت کی رو سے اِس لائحہ عمل کا ماخذ بن بھی سکتا ہے یا نہیں۔ برسبیل تنزل، ہم مان لیتے ہیں کہ بن سکتا ہے، لیکن اِس کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا یہ ماخذ استدلال کیا خود اپنی جگہ ثابت بھی ہے؟ ہم پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنی قوم کے ارباب دانش کو اِس حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں کہ جس سیرت کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب انقلاب کی یہ داستان پچھلے دس پندرہ سال سے ہر جگہ سنا رہے ہیں، اُس کے بارے میں تاریخ کی یہ شہادت بالکل ناقابل تردید ہے کہ اُس میں یہ سب کچھ کبھی واقع ہی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے اِسے اپنے نہاں خانہ دماغ میں کہیں پایا اور اپنے صحیفہ دل میں کہیں پڑھا ہو تو یہ دوسری بات ہے، لیکن جہاں تک قرآن مجید کی آیات، فقہ و حدیث کے ذخائر اور تاریخ و سیر کے دفاتر کا تعلق ہے، اُن میں یہ سب کہیں موجود نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت، تاریخ کا کوئی گم گشتہ ورق نہیں ہے۔ اُس کی سرگزشت احوال بالکل محفوظ اور اُس کا ہر پہلو صبح درخشاں کی طرح روشن ہے۔ ہم اُس کی یہ گواہی، بغیر کسی خوف تردید کے صفحہ قرطاس پر ثبت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے انقلاب تو یقینا برپا کیا اور تاریخ عالم کا سب سے حیرت انگیز انقلاب برپا کیا، لیکن اِس کے لیے جدوجہد کے دوران میں نہ بیعت سمع و طاعت کی بنیاد پر کوئی تنظیم قائم کی، نہ اپنے صحابہ سے اِس کا کبھی مطالبہ کیا۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اِن نفوس قدسیہ نے تعلیم بھی پائی اور تزکیہ بھی حاصل کیا، لیکن نہ اِس انقلاب کو برپا کر دینے کے لیے بحیثیت جماعت یہ کبھی میدان میں اترے، نہ اِس کے لیے کبھی تلوار اٹھائی، نہ جہاد و قتال کی نوعیت کا کوئی اقدام کیا۔ انقلاب بے شک، برپا ہوا، اور اُسے پیغمبر اور اُس کے چند ساتھیوں ہی نے برپا کیا، مگر یقین کیجیے تیر و تفنگ اور تیغ و تبر سے نہیں، بلکہ دعوت اور صرف دعوت کے ذریعے سے۔ تاریخ شہادت دیتی ہے کہ اِس انقلاب کی جدوجہد میں کسی جارحانہ اقدام کے لیے تیغ وتبر تو ایک طرف، ایک چھڑی اور ایک لٹھیا بھی کسی شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کبھی نہیں دیکھی۔ اِس کے لیے جدوجہد کی ابتدا بھی دعوت سے ہوئی اور انتہا بھی دعوت پر ہوئی۔ اِس میں دعوت سے آگے کوئی اقدام کبھی کیا ہی نہیں گیا۔ اِس کا ایک یہی مرحلہ ہے اور اِسی مرحلہ دعوت میں یہ جدوجہد اپنی منزل مقصود تک پہنچ گئی۔ باور کیجیے، تاریخ عالم کے اس حیرت انگیز انقلاب میں خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہا۔ یہ خدا کی زمین پر دعوت اور صرف دعوت کے ذریعے سے برپا ہو گیا۔
 
ہمارے قارئین، ہو سکتا ہے کہ ہمارے اِس بیان پر تعجب کریں، لیکن وہ تھوڑی دیر کے لیے توقف کر لیں۔ ہم اِس کی پوری تفصیل اُن کے سامنے پیش کیے دیتے ہیں۔
 
اِس انقلاب کی تاریخ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اِس کی دعوت ام القریٰ مکہ میں اپنی قوم کو دی۔ کم و بیش دس سال تک یہ دعوت ہر پہلو سے قوم کے سامنے پیش کی گئی۔ اِسے بے شک، کچھ لوگوں نے قبول کیااور اِس کے لیے اپنی قوم کا ہر ظلم بھی سہا، لیکن قوم، بحیثیت قوم اِس دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئی، یہاں تک کہ اللہ کی حجت پوری ہو گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ اب آپ یہ دعوت اپنی قوم کے دائرہ اختیار سے باہر دوسرے قبائل کے سامنے پیش کریں۔ اِس حکم الٰہی کے تحت آپ نے حج کے موقع پر منیٰ میں یہ دعوت عرب کے مختلف قبائل کے سامنے پیش کی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سب نے انکار کر دیا، مگر یثرب کے چند لوگ آگے بڑھے اور اُنھوں نے اِسے پورے شرح صدر کے ساتھ قبول کر لیا۔ اُن کی تعداد بعض روایات میں چھ اور بعض میں آٹھ بیان کی گئی ہے۔ اِس کے بعد آپ نے اِن لوگوں سے پوچھا: کیا تم میری پشت پناہی کرو گے؟ اِس کے جواب میں اُنھوں نے عرض کیا:
 
نحن مجتهدون للّٰه ولرسوله. نحن، فاعلم، اعداء متباغضون، وانما کانت وقعة بعاث عام الاول، يوم من ايامنا اقتتلنا فيه. فان تقدم، ونحن کذا، لا يکون لنا عليک اجتماع، فدعنا حتی نرجع الی عشائرنا، لعل اللّٰه يصلح ذات بيننا، وموعدك الموسم العام المقبل.(ابن سعد،الطبقات الکبریٰ ١/ ١٤٨)
''ہم اللہ اور اُس کے رسول کی خاطر اِس کام میں پوری طاقت صرف کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اِس وقت ہم آپ کی خدمت میںیہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ہم لوگ باہمی عداوت میں مبتلا ہیں، ابھی پچھلے سال ہمارے ہاں جنگ بعاث ہوئی ہے، اِس حالت میں اگر آپ تشریف لے گئے تو ہم آپ کی قیاد ت پر جمع نہ ہو سکیں گے۔ آپ فی الحال ہمیں اپنے لوگوں کی طرف واپس جانے دیجیے۔ امید ہے اللہ تعالیٰ ہمارے باہمی تعلقات درست فرما دیں گے۔ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آیندہ سال یہیں آپ سے پھر ملاقات ہو گی۔''
 
چنانچہ یثرب پہنچ کر اُنھوں نے اِس کے لیے جدوجہد شروع کی۔ دوسرے سال، یعنی ١٢۔ بعد بعثت میں، اُن کے ١٢ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقبہ کے مقام پر ملے۔ اُن میں پانچ آدمی تو وہی تھے، جنھوں نے پچھلے سال اسلام قبول کیا تھا۔ باقی سات آدمیوں میں سے پانچ قبیلہ خزرج اور دو اوس کے تھے۔ اُن سے معلوم ہوا کہ اسلام کی دعوت اگرچہ اُن کے سب گھرانوں میں پھیل چکی ہے، لیکن اُن کے ارباب حل و عقد ابھی تک ایمان نہیں لائے۔ یہ لوگ مدینہ واپس جانے لگے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی حضرت مصعب بن عمیر کو اِن کے ساتھ کر دیا۔ اُن کی رہنمائی میں اِن لوگوں نے بڑی تیزی کے ساتھ یثرب میں اسلام کی دعوت پھیلانا شروع کی۔ چنانچہ اگلے سال، یعنی ١٣۔ بعد بعثت میں، زمانہ حج آنے تک اوس وخزرج کے ارباب حل و عقد اور اشراف و اکابر اسلام میں داخل ہو گئے اور اِس طرح بغیر کسی جارحانہ اقدام کے دعوت اور محض دعوت کے ذریعے سے یثرب کا سیاسی اقتدار آں حضرت کو منتقل ہوا،اسلامی تاریخ کا پہلا ''دارالاسلام'' وجود میں آیا اور یہ انقلاب برپا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فرماں روا کی حیثیت سے اِسی عقبہ کے مقام پر اہل یثرب سے بیعت سمع و طاعت لی اور اِس کے کم و بیش تین ماہ بعد یثرب کا اقتدار سنبھالنے کے لیے مکہ سے روانہ ہو گئے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی اپنی کتاب، ''سیرت سرور عالم'' میں ''بیعت عقبہ کی اہمیت'' کے زیر عنوان لکھتے ہیں:
 
''اسلام کی تاریخ میں یہ ایک انقلابی موقع تھا جسے خدا نے اپنی عنایت سے فراہم کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھا کر تھام لیا۔ اہل یثرب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو محض ایک پناہ گزین کی حیثیت سے نہیں، بلکہ خدا کے نائب اور اپنے امام و فرماں روا کی حیثیت سے بلا رہے تھے، اور اسلام کے پیرووں کو اُن کا بلاوا اِس لیے نہ تھا کہ وہ ایک اجنبی سرزمین میں محض مہاجر ہونے کی حیثیت سے جگہ پا لیں، بلکہ مقصد یہ تھا کہ عرب کے مختلف قبائل اور خطوں میں جو مسلمان منتشر ہیں، وہ یثرب میں جمع ہو کر اور یثربی مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک منظم اسلامی معاشرہ بنا لیں۔ اِس طرح یثرب نے دراصل اپنے آپ کو ''مدینۃ الاسلام''کی حیثیت سے پیش کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسے قبول کر کے عرب میں پہلا ''دارالاسلام'' بنا لیا۔'' (٢/٧٠٦)
 
تاریخ کا یہ حیرت انگیز انقلاب اِس طرح برپا ہوا۔ اِس کے لیے کوئی جتھا منظم نہیںہوا، کوئی مظاہرہ نہیں کیا گیا، کوئی لاٹھی نہیں چلی، کوئی تلوار نہیں اٹھائی گئی، صرف دعوت پیش کی گئی، اِس سے لوگوں کے دل و دماغ مسخر ہوئے، اُن کے ارباب حل و عقد نے پورے شرح صدر کے ساتھ اِس کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور خدا کی زمین پر ایک عالم نو نے اپنے چہرے سے نقاب الٹ دی۔
 
مدینہ پہنچتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس ریاست کا دستور تحریر کیا۔ تاریخ میں یہ ''میثاق مدینہ'' کے نام سے مشہور ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس میں یہود کو اپنی قیادت کے تابع ایک معاہد اقلیت کی حیثیت سے اِس نئی ریاست کا شہری تسلیم کیا۔ اُنھیں اور مسلمانوں کو سیاسی لحاظ سے ایک وحدت قرار دیا۔ دیت، قصاص اور صلح و جنگ کا قانون رقم کیا او ریہ دفعہ پوری شان کے ساتھ اُس میں ثبت کر دی کہ خدا کی شریعت 'سپریم لا' ہے، اِس لیے تمام نزاعات میں فیصلہ کن حیثیت اب اِس ریاست میں صرف اللہ اور اُس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہو گی۔ آپ نے لکھا:
 
وانکم مهما اختلفتم فيه من شئ، فان مرده الی اللّٰه عز وجل والی محمد صلی اللّٰه عليه وسلم.(السيره النبوية، ابن هشام ٢/١١١)
''اور جب کبھی تم میں کسی چیز کے متعلق کوئی اختلاف پیدا ہو گا تو فیصلے کے لیے اللہ اور اُس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا جائے گا۔''
 
یہی ''میثاق مدینہ'' ہے جس کے بعد ایک باقاعدہ حکومت وجود میں آ گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے سیاست، معیشت، معاشرت، حدودوتعزیرات اور جہاد وقتال سے متعلق اسلام کا پورا قانون چند ہی برسوں میں اِس ریاست میں پوری طرح نافذ کر دیا۔
 
چنانچہ فتح مکہ سے بہت پہلے نکاح، میراث، بیع و شرا، مزارعت، شفعہ، سود اور جوئے کی حرمت وغیرہ کے ضوابط اِس میں نافذ کیے گئے، صلح و جنگ کا اسلامی قانون جاری ہوا، شوریٰ کی روایت قائم ہوئی، اللہ کی حدود مجرموں پر جاری کی گئیں، انسانوں کے بیچ اونچ نیچ، جبر و استبداد اور ظلم و استحصال کی جڑ کاٹی گئی، عدل و قسط کے تمام اعلیٰ تصورات لباس حقیقت میں نمودار ہوئے اور لوگوں نے اُنھیں اپنے ہاتھوں سے چھوا اور آنکھوں سے دیکھا۔ یہ سب ہوا، اور اِس طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا برپا کیا ہوا یہ انقلاب اپنے تمام ثمرات کے ساتھ منصہ عالم پر نمودار ہو گیا۔
 
یہ اِس انقلاب کی تاریخ ہے۔ اِسے بار بار دیکھیے، یہ قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے، یہ حدیث و سنت کے ذخائر میں موجود ہے، اِسے مورخوں نے قلم بند کیا ہے، یہ فقہ و اصول کی کتابوں اور قرآن کی تفسیروں تک میں پڑھ لی جا سکتی ہے، اِس کا ایک ایک ورق الٹ کردیکھ لیجیے، آپ تسلیم کریں گے کہ جہاں تک قتال کا تعلق ہے، وہ اِس کوبرپا کرنے کے لیے ہرگز نہیں ہوا، اِس انقلاب کے بالفعل برپا ہوجانے کے بعد ہوا ہے اور کسی ''تنظیم اسلامی'' اور اُس کے ''امیر'' کی قیادت میں نہیں ہوا، بلکہ ایک باقاعدہ حکومت کی طرف سے، جس کے شہریوں پر اُس کے فرماں روا کو ہر لحاظ سے کامل سیاسی اقتدار حاصل تھا، مکہ اور جزیرہ نماے عرب کے آخری کناروں تک اِس انقلاب کی توسیع کے لیے ہوا ہے۔ اِس فرق کو ذہن نشین کر لیجیے، انقلاب کو برپا کرنے کے لیے نہیں، اِس انقلاب کے برپا ہو جانے کے بعد ایک باقاعدہ حکومت کے تحت اِس کی توسیع کے لیے ہوا ہے۔
 
چنانچہ ہم میں سے کوئی شخص اگر اپنے اندر اِس کی اہلیت پاتا ہو تو وہ آج بھی اِسے برپا کرنے کی جدوجہد کر سکتا ہے، لیکن اِس کا طریقہ یہ نہیں کہ کوئی داعی انقلاب اپنا جتھا منظم کر کے زور و قوت کے ساتھ اِسے امت پر مسلط کر دے۔ اِس کے لیے پیغمبر کی سیرت سے کوئی رہنمائی اگر حاصل ہوتی ہے تو وہ یہی ہے کہ دعوت اور صرف دعوت کے ذریعے سے مسلمانوں کو اپنا ہم نوا بنا کر اُن کی آزادانہ مرضی اور اُن کی رائے اور مشورے سے پہلے اِسے امت میں برپا کیا جائے، اور پھر اگر ضرورت ہو تو جہادو قتال کے ذریعے سے یہ امت اپنے فرماں رواؤں کی قیادت میں بالکل اُسی طرح پوری دنیا میں اِس کی توسیع کے لیے نکل کھڑی ہو، جس طرح رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام، خلفاے راشدین کی قیادت میں روم و ایران کی بادشاہتوں میں اِس کے لیے نکل کھڑے ہوئے تھے اور اُنھوں نے اِن کی سرحدوں پر کھڑے ہو کر کہا تھا: اسلام لاؤ، جزیہ دو یا لڑنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ ٢
 
اِس انقلاب کی یہی تاریخ ہے جس کی بنا پر اسلامی قانون میں یہ دفعہ ثبت ہوئی ہے کہ جہادوقتال کے لیے حکومت شرط ہے۔ یہ فقہ اسلامی کا مسلم قانون ہے۔ صاحب ''فقہ السنہ'' لکھتے ہیں:
 
والنوع الثالث من الفروض الکفاية ما يشترط فيه الحاکم، مثل: الجهاد واقامة الحدود.(السيد سابق ٣/٣٠)
''اور کفایہ فرائض کی تیسری قسم وہ ہے جس میں حکمران کا ہونا شرط ہے، مثال کے طور پر جہاد اور اقامت حدود۔''
 
شریعت کی رو سے جس طرح کوئی شخص اقتدار اور حکومت کے بغیر کسی زانی کو کوڑے نہیں مار سکتا، کسی چور کا ہاتھ نہیں کاٹ سکتا، اِسی طرح جہاد وقتال کے لیے بھی اقدام نہیں کر سکتا۔ اِس نوعیت کا ہر اقدام شریعت میں جرم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کسی پیغمبر نے اقتدار کے بغیر کبھی جہاد نہیں کیا۔ قرآن اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ عالم کے پروردگار نے اُن کو اِس کی اجازت اُس وقت دی جب اُنھوں نے ہجرت کر کے اپنی جماعت کسی آزاد علاقے میں منظم کر لی اور اُن کا اقتدار اِس جماعت پر بزور و قوت قائم ہو گیا۔ اللہ کے یہ پیغمبر اِس معاملے میں اس قدر محتاط رہے ہیں کہ اُنھیں جب تک اقتدار حاصل نہیں ہوا، قتال کا نام بھی اُن کی زبان پر کبھی نہیں آیا۔ چنانچہ دیکھ لیجیے، قرآن مجید کی وہ سورتیں جو ام القریٰ میں نازل ہوئیں، وہ اِس حکم سے بالکل خالی ہیں۔ یہی حقیقت سیدنا موسیٰ اور سیدنا مسیح کی سیرت سے بھی صاف واضح ہوتی ہے۔ اسلام کے نزدیک یہ تصور ہی مضحکہ خیز ہے کہ جو نظام امارت اپنے لوگوں پر اللہ کی حدود نافذ کرنے اور ارتکاب جرم کی صورت میں مجرم کو سزا دینے کا اختیار نہیں رکھتا، اُسے قتال کی اجازت دے دی جائے۔ قاضی ابوبکر بن العربی سورہ حج کی آیت ٤٠ کی شرح میں لکھتے ہیں:
 
قال علماؤنا رحمهم اللّٰه: کان رسول اللّٰه صلی اللّٰه عليه وسلم قبل بيعة العقبة لم يؤذن له فی الحرب ولم تحل له الدماء.(احکام القرآن ٣/١٢٩٧)
''ہمارے علما نے فرمایا ہے: حضور صلی اللہ علیہ سلم کو بیعت عقبہ سے پہلے نہ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی اور نہ آپ کے لیے خون بہانا جائز ٹھیرایا گیا۔''
 
اور، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، یہ بیعت عقبہ وہی ہے، جس سے جزیرہ نماے عرب میں اسلام کے دور اقتدار کی ابتدا ہوئی۔
 
انقلاب اور انقلاب کے بعد اِس کی توسیع کا یہ نبوی منہاج ہے۔ اِس سے ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ ''بیعت سمع و طاعت''، ''ٹھیٹ فوجی نظم و ضبط کی حامل تنظیم''، ''جس کی لاٹھی اس کی بھینس'' اور ''جہادو قتال'' کے جو اساطیر ڈاکٹر صاحب پچھلے دس پندرہ سال سے اِس قوم کو سنا رہے ہیں، اُن کا حقیقت سے کتنا تعلق ہے:
 
ببیں تفاوت رہ از کجا ست تا بہ کجا
 
اسلامی انقلاب کے اِن علم برداروں کا المیہ یہ ہے کہ یہ نہ دین کو اُس کی صحیح تعبیر کے ساتھ اِس قوم کے سامنے پیش کر سکے ؛ نہ جاہلیت جدیدہ کے پیدا کیے ہوئے مسائل کا کوئی واضح حل اُس کے سامنے لا سکے، نہ شریعت کو ملائیت کے تعصبات سے بالاتر ہو کر خالص قرآن و سنت کی بنیاد پر سمجھنے کا کوئی اہتمام کر سکے، نہ سیاست، معیشت، معاشرت، تعلیم وتعلم اور حدودوتعزیرات کے مسائل میں دین حق کی برتری ذہنوں پر قائم کر دینے میں کامیاب ہو سکے ؛ چنانچہ اِس کے نتیجے میں قوم نے اِن کی قیادت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے تو اب یہ ہنگامہ و احتجاج اور جہادو قتال کے ذریعے سے انقلاب برپا کرنے کا فلسفہ سیرت نبوی سے برآمد کر رہے ہیں:
 
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
 
ہم اِس فلسفہ کو دین و شریعت کی رو سے بالکل غلط اور ملک و قوم کے لیے سخت نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ ہمارے نزدیک امت مسلمہ کے حق میں یہ بات اُس کے پروردگار کی طرف سے ہمیشہ کے لیے طے کر دی گئی ہے کہ اُس کی مرضی کے بغیر کوئی شخص اُس پر مسلط نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اِس طرح کا کوئی انقلاب خواہ مارشل لا کی کوکھ سے برآمد کیا جائے یا مذہبی جماعتوں کے بطن سے تولد ہو، ہرحال میں ایک ناجائز ولادت ہے۔ اسلامی شریعت میں اِس کے جواز کے لیے کوئی گنجایش قیامت تک ثابت نہیں کی جا سکتی۔ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:
 
من بايع رجلاً عن غير مشورة من المسلمين فلا يبايع هو ولا الذی بايعه تغرة ان يقتلا.(بخاری،رقم ٦٨٣٠)
''جس شخص نے مسلمانوں کی رائے کے بغیر اُن کے حکمران کی حیثیت سے کسی شخص کی بیعت کی، وہ اور جس کی بیعت کی گئی، دونوں اپنے اِس اقدام سے اپنے آپ کو قتل کے لیے پیش کریں گے۔''
 
ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ عوام کی اکثریت کبھی بدلا نہیں کرتی۔ ہم اُن کی خدمت میں یہ عرض کرنے کی جسارت کریں گے کہ دعوت نبوت کی مستند تاریخ اُن کے اس دعویٰ کی پوری شدت کے ساتھ نفی کرتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہم اوپر وضاحت سے بیان کر چکے ہیں کہ اوس و خزرج کی اکثریت کے آپ کو مان لینے کے نتیجے ہی میں یثرب کا ''دارالاسلام'' وجود میں آیا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن مجید نے جگہ جگہ بیان کیا ہے کہ اُن کی پوری قوم نہ صرف یہ کہ اُن پر ایمان لے آئی، بلکہ اُن کی قیادت میں اُس نے اِس طرح مصر سے ہجرت کی کہ ایک بچہ بھی پیچھے نہ رہا۔ سیدنا یونس علیہ السلام کے بارے میں بھی قرآن مجید میں تصریح ہے کہ مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے بعد، جب وہ پوری دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ حق کی منادی کرنے کھڑے ہوئے تو پوری قوم نے اُن کی دعوت قبول کر لی۔ تورات کے صحیفہ یوناہ میں ہے کہ سب لوگ ٹاٹ کے کپڑے پہن کر توبہ کے لیے شہر سے باہر نکل آئے:
 
''تب نینوا کے باشندوں نے خدا پر ایمان لا کر روزہ کی منادی کی، اور ادنیٰ و اعلیٰ سب نے ٹاٹ اوڑھا، اور یہ خبر نینوا کے بادشاہ کو پہنچی او روہ اپنے تخت پر سے اٹھا اور بادشاہی لباس اتار ڈالا اور ٹاٹ اوڑھ کر راکھ پر بیٹھ گیا، اور بادشاہ اور اُس کے ارکان دولت کے فرمان سے نینوا میں یہ اعلان کیا گیا اور اِس بات کی منادی ہوئی کہ کوئی انسان یا حیوان گلہ یا رمہ کچھ نہ چکھے اور نہ کھائے پیے، لیکن انسان اور حیوان ٹاٹ سے ملبس ہوں اور خدا کے حضور گریہ و زاری کریں، بلکہ ہر شخص اپنی بری روش اور اپنے ہاتھ کے ظلم سے باز آئے۔'' (٣: ٥۔٨)
 
یہ مسئلہ تو واضح ہوا، لیکن ہو سکتا ہے کہ سیرت کے غوامض میں اپنے فلسفہ انقلاب کے لیے کوئی جگہ نہ پا کر ڈاکٹر صاحب خروج کی بحث چھیڑ دیں۔ چنانچہ یہ چند معروضات اُس کے بارے میں بھی حفظ ماتقدم کے طور پر ہم اُن کی خدمت میں پیش کیے دیتے ہیں۔
 
پہلی عرض یہ ہے کہ وہ اگر اِس طرف آئیں گے تو یہ پھر سیرت کی نہیں، شریعت کی بحث ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے بارے میں تو یہ چیز محتاج وضاحت نہیں کہ اُس میں سے خروج نام کی کوئی چیز کسی طرح دریافت نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ اِس صورت میں اُن کو اگر کوئی اسوہ میسر ہو سکے گا تو پیغمبر کی سیرت سے نہیں، سیدنا حسین، سیدنا عبد اللہ بن زبیر، زید بن علی اور اس طرح کے بعض دوسرے بزرگوں کے اُن اقدامات ہی سے میسر ہو سکے گا جو اُنھوں نے اِس امت کے دور اول میں بنو امیہ کے خلاف کیے ہیں۔ ہمیں اِس پر اعتراض نہیں ہے۔ وہ شوق سے اِس طرف آئیں، لیکن آنے سے پہلے اتنی بات ضرور سوچ لیں کہ اِس کا لازمی نتیجہ، اُن کے لیے یہ نکلے گا کہ وہ پھر اپنے فلسفہ انقلاب کے لیے ''انقلاب کا نبوی منہاج'' کی تعبیر سے محروم ہو جائیں گے۔ اِس کے بعد تو ''زیدی'' یا ''ابن زبیری'' یا ''حسینی منہاج'' ہی کی تعبیر اُن کے لیے رہ جائے گی۔
 
دوسری عرض یہ ہے کہ بات اگر سیرت سے شریعت تک آ پہنچتی ہے تو اُنھیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ اسلامی شریعت کی رو سے خروج کبھی واجب نہیں ہوتا، بلکہ واجب کیا معنی، کبھی مستحب بھی نہیں ہوتا، زیادہ سے زیادہ جو بات اِس کے متعلق کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ شریعت نے بعض حالات میں اِسے جائز قرار دیا ہے، لیکن ڈاکٹر صاحب کے لیے اِس میں یہ مشکل پیدا ہو جائے گی کہ وہ پھر ''فریضہ اقامت دین'' کے جو لوازم بیان فرماتے ہیں، اُن میں اِس کے لیے کوئی جگہ پیدا نہ کر سکیں گے اور اِس طرح ''فرائض دینی کا جامع تصور'' کی جو عمارت اُنھوں نے برسوں کی محنت سے تعمیر کی ہے اور پہلے ہی بہت کچھ بے ستون ہو رہی ہے، وہ اِس ستون کے گر جانے سے بالکل ہی زمین بوس ہو جائے گی۔
 
تیسری عرض یہ ہے کہ اِس صورت میں اُنھیں خروج کی وہ تین لازمی شرطیں بھی ماننا پڑیں گی جو شریعت کا تقاضا ہیں، یعنی:
 
اول یہ کہ حکمران کھلے کفر کا ارتکاب کریں،
 
دوم یہ کہ اُن کی حکومت ایک استبدادی حکومت ہو جو نہ مسلمانوں کی رائے سے قائم ہوئی ہو اور نہ اُن کی رائے سے اُسے تبدیل کر دینا کسی شخص کے لیے ممکن ہو،
 
سوم یہ کہ خروج کے لیے وہ شخص اٹھے جس کے بارے میں یہ بات پورے اطمینان کے ساتھ کہی جا سکے کہ قوم کی واضح اکثریت اُس کے ساتھ اور پہلے سے قائم کسی حکومت کے مقابلے میں اُس کی قیادت تسلیم کرنے کے لیے بالکل تیار ہے۔
 
لیکن ہمارے ڈاکٹر صاحب اگر خروج کے یہ شرائط مان لیں گے تو اِس کے نتیجے میں اُن کے لیے پہلا مسئلہ یہ پیدا ہو جائے گا کہ اب اُنھیں حکمرانوں کے فکرو عمل میں کوئی کھلا کفر ثابت کرنا پڑے گا۔اِس میں شبہ نہیں کہ وہ حوصلہ مند آدمی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بھی کر گزریں، مگر ہم پورے یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ اِس قوم میں اُن کے اِس فتویٰ کا حشر بھی اُس سے مختلف نہ ہو گا جو اب سے چند روز پہلے محترمہ بے نظیر صاحبہ کے خلاف ہمارے مولانا عبد الستار صاحب نیازی کے فتویٰ کا ہو چکا ہے۔
 
دوسرا مسئلہ یہ پیدا ہو جائے گا کہ وہ ہماری موجودہ جمہوری حکومت کو، جو مسلمانوں کی رائے سے وجود میں آئی ہے، ایک استبدادی حکومت میں بدلیں، لیکن یہ قضا و قدر کا معاملہ ہے جو ڈاکٹر صاحب کی مرضی سے تو بہرحال نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اُن کے لیے اِس معاملے میں پھر اِس کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہے گا کہ اپنی سب جدوجہد سمیٹ کر خاموشی کے ساتھ قدرت کی طرف سے اِس تمنا کے برآنے کا انتظار کرتے رہیں۔
 
تیسرا مسئلہ یہ پیدا ہو جائے گا کہ قوم کی اکثریت کو ہم نوا بنانے کا وہی تقاضا جس سے بچنے کے لیے وہ اِس خروج کے دامن میں پناہ لے سکتے تھے، پوری شان کے ساتھ یہاں بھی اُن کے سامنے آ کھڑا ہو گا۔
 
غرض یہ کہ مجنوں کے لیے اگردوگونہ عذاب تھا تو ہمارے ڈاکٹر صاحب اِس کے نتیجے میں سہ گونہ عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے۔
 
بات لمبی ہو رہی ہے۔ اِس وجہ سے ہم نے یہاں خروج کے ان شرائط کے ماخذ بیان نہیں کیے۔ ہمیں امید نہیں ہے کہ ڈاکٹر صاحب اِنھیں چیلنج کریں گے۔ تاہم اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو مطمئن رہیں، ہم اِس معاملے میں بھی، ان شاء اللہ، قرآن و حدیث کی حجت اِنھی صفحات میں اُن پر ہر لحاظ سے پوری کر دیں گے۔
 
اپنے مضمون کے آخر میں اُنھوں نے فرمایا ہے کہ تم لوگ اگر میرے اس فلسفہ انقلاب کو نہیں مانتے تو لاؤ، کوئی متبادل پیش کرو: آؤ، یہ گوے ہے اور یہ چوگان۔ اُنھوں نے فرمایا ہے کہ اُنھیں تو یہ بات علی وجہ البصیرت معلوم ہو چکی ہے کہ: جا ایں جاست۔ ہم کہتے ہیں کہ لاریب، جا ایں جاست۔ انقلاب نبوی کا منہاج ہم نے پوری وضاحت کے ساتھ آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ یہ دعوت کا منہاج ہے۔ اِس میں دیکھ لیجیے، دعوت ہی ابتدا ہے اور دعوت ہی انتہا۔ آپ میں حوصلہ ہے تو اٹھیے، اپنے فلسفہ انقلاب کی بھول بھلیاں سے نکلیے، اسلام کا روشن چہرہ پوری اجتہادی شان کے ساتھ لوگوں کو دکھائیے، لادینیت اور ملائیت، دونوں سے نجات کا پیغام اُن کو دیجیے، ظلم و استحصال میں پسی ہوئی اِس قوم کو اسلام کے عدل و قسط کی طرف بلائیے اور خدا کے لیے یہ بیعت سمع و طاعت اور حق استرداد وغیرہ کی دیواریں جو آپ نے اپنے گرد چن رکھی ہیں، اِن کو ڈھا کر اِس قوم کے ذہین عناصر کو اگر بیعت ہی کے لیے بلانا ہے تو اُس بیعت کے لیے بلائیے جس کی دعوت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں اپنی قوم کے اکابر و اشراف کو دی تھی۔ آپ نے فرمایا تھا:
 
فايکم يبايعنی علی ان يکون اخی وصاحبی.( احمد،رقم ١٣٧١)
''پھر تم میں سے کون مجھ سے یہ بیعت کرتا ہے کہ وہ اِس کام میں میرا بھائی اور میرا ساتھی بن کر رہے گا۔''
 
ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ اِس کے بعد ہم سب آپ کے بھائی اور آپ کے ساتھی ہوں گے، اور صرف ہم ہی نہیں، وہ تمام لوگ بھی جو سمع و طاعت اور تحکم کی گھٹن سے نکل بھاگے ہیں، ایک مرتبہ پھر آپ کے شانہ بہ شانہ آ کر کھڑے ہو جائیں گے۔ آپ حق کی منادی کیجیے۔ یہ قوم نہیں مانتی تو آپ پر اِس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ آپ، ان شاء اللہ، سرخ رو اپنے رب کے حضور پہنچ جائیں گے، لیکن ڈاکٹر صاحب، کیا عجب کہ جب آپ سمع و طاعت اور تحکم کے بجائے محبت و اخوت کی فضا میں کھڑے ہو کر اپنے رفقا کے ساتھ یہ منادی کریں تو ہماری یہ قوم بھی اِسی طرح ٹاٹ کے کپڑے پہن کر توبہ کے لیے نکل آئے، جس طرح سیدنا یونس کی قوم اُن کی منادی کے نتیجے میں نکل آئی تھی۔ وما ذٰلك علی اللّٰه بعزيز.
 
آخرمیں اب اِس کے سوا کیا عرض کروں کہ:
 
تری دعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری
مری دعا ہے، تری آرزو بدل جائے

___________

٢۔  اِس مضمون کی تسوید کے وقت میرا نقطہ نظر یہی تھا، لیکن بعد کی تحقیق سے واضح ہوا کہ اِس جہاد کا تعلق قرآن کے قانون اتمام حجت سے ہے اور یہ زمانہ رسالت کے ساتھ خاص تھا۔ چنانچہ رسول اور صحابہ رسول کے بعد اب قیامت تک یہ حق کسی شخص کو بھی حاصل نہیں رہا کہ وہ اسلام لاؤ، جزیہ دو یا لڑنے کے لیے تیار ہو جاؤ، کی اِس دعوت کے ساتھ دنیا کی قوموں پر حملہ آور ہو جائے۔

:مصنف

View My Stats
Copyright 2013 © Al-Mawrid. Al rights Reserved.